*تازہ بہ تازہ، سلسلہ 51*
سپہ سالارِ دیں ہو جا، کلہ دارِ جہاں ہو جا
جو مومن ہے تو بڑھ کر تو بھی میرِ کارواں ہوجا
جو مومن ہے تو بڑھ کر تو بھی میرِ کارواں ہوجا
رگ و پے سے تری ہر وقت اسلامی ادا ٹپکے
محمدؑ کی زباں ہو جا، محمدؑ کا بیاں ہو جا
محمدؑ کی زباں ہو جا، محمدؑ کا بیاں ہو جا
چلی ہے ترک سے ٹھنڈی ہوا، پھر سے خلافت کی
تغافل ترک کر اور دستِ قدرت کا نشاں ہو جا
تغافل ترک کر اور دستِ قدرت کا نشاں ہو جا
اکھڑجائےہوا ہر ملک سےفرعون و ہاماں کی
دکھا کر جرٱتِ رندانہ موسیٰؑ کی اذاں ہوجا
دکھا کر جرٱتِ رندانہ موسیٰؑ کی اذاں ہوجا
وہ نغمےچھیڑ،جن سےباغ میں اپنےبہار آئے
تو اے مرغِ حرم! اب بلبلِ صد داستاں ہوجا
تو اے مرغِ حرم! اب بلبلِ صد داستاں ہوجا
غلامی لے کے تو نے کرلیا سودا سیاست کا
وراثت اپنی حاصل کر! خدا کا رازداں ہوجا
وراثت اپنی حاصل کر! خدا کا رازداں ہوجا
نکل تاویلِ فاسد کے ہلاکت خیز دریا سے
صلاح الدین ایوبیؒ کا تو بھی ترجماں ہوجا
صلاح الدین ایوبیؒ کا تو بھی ترجماں ہوجا
سبق لے تو بھی ترکی نوجوانوں کی حمیت سے
کبھی رخسارِ گل ہوجا، کبھی تیغ و سناں ہوجا
کبھی رخسارِ گل ہوجا، کبھی تیغ و سناں ہوجا
تو شاہیں ہے، نہ کر تقلید کم ہمت ممولوں کی
فضائیں کر مسخّر اور طیب اردگاں ہوجا
فضائیں کر مسخّر اور طیب اردگاں ہوجا
