ہفتہ، 30 دسمبر، 2017

خود احتسابی سے دور مسلم قیادت

محمد شافع عارفی 

میں مسلمان ہوں۔ خدا کی وحدانیت، رسول کی رسالت اور دین اسلام کی حقانیت و ابدیت پر میرا مکمل یقین ہے۔ قرآن و سنت کو میں نے خدا کے ایسے قانون کے طور پر تسلیم کرلیا ہے، جس میں ادنی سے ادنی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ’’ولن تجد لسنة الله تبديلا‘‘۔ صحابہ کرام کی محبت، ائمہ عظام کی عقیدت سے میرا دل بھی معمور ہے۔ میں نہ دیوبندی ہوں، نہ بریلوی، نہ اہلحدیث، نہ جماعت اسلامی اور نہ ہی تبلیغی جماعت کا کوئی فرد۔ اپنے علماء و قائدیں سے بدظن وناامید بھی نہیں اور ناامیدی و مایوسی کی کوئی وجہ بھی نہیں ہوسکتی جب کہ خدا کی آخری کتاب سے ہمارے لئے’’لا تقنطوا من رحمة الله‘‘  کا مژدہ جانفرا آرہا ہو۔ لیکن مسلمانوں کے دینی، ملی اور سیاسی معاملات سے دلچسپی لینا اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھتا ہوں کیونکہ.. ’’من لم يهتم بأمر المسلمين فليس منهم‘‘ کی وعید بھی ہمارے سامنے ہے۔

جمعرات، 28 دسمبر، 2017

تازہ ترین سلسلہ (قسط دوم): فضیل احمد ناصری


علامہ اقبال پہلے شخص تھے جنہوں نے فلسفہ کی خشک اور سوکھی زمین پر شاعری کے گلہائے زریں کھلائے۔ انہوں نے پورے اسلامی فلسفے کو شاعری کا جامہ پہنا دیا۔ ان کی پوری شاعری پیام وپیغام سے مملو ہے۔ انہیں کے نقش قدم پر عہد حاضر کے ایک اور شخصیت گامزن ہے اور بہت ہی خوبی اور فنی چابکدستی کے ساتھ گامزن ہے۔ دنیا انہیں مولانا فضیل احمد ناصری کے نام سے جانتی ہے۔ 
ان دنوں ان کے قلم گوہر بار سے ’’تازہ ترین سلسلہ‘‘ نامی پیغامی ہی نہیں بلکہ آفاقی شاعری کے نمونے ہر ایک دو روز کے وقفے سے نکل رہے ہیں۔ ہم یہاں ان کے چند اعلیٰ اور معیاری سلسلے قسط وار شائع کررہے ہیں۔

چند نمونے ملاحظہ کریں
اہلِ کلیسا رفتہ رفتہ تخت پہ جا کر بیٹھ گئے
شیخ کی ساری جہدِ مسلسل عہدے اور نذرانے تک

بدھ، 27 دسمبر، 2017

تازہ ترین سلسلہ: فضیل احمد ناصری

مولانا فضیل احمد ناصری صاحب کی شخصیت تعارف وشناخت سے پرے ہے۔ ان کا علمی تفوق، فقہی بصیرت، شان بے نیازی اور عالمانہ وقار کے چرچے سرحدوں سے آزاد ہیں۔ خدا نے انہیں بے شمار خصوصیتوں سے نوازا ہے۔ ان کی زباں دانی، زبان وادب سے لگاؤ جگ ظاہر ہے۔ بہت ہی شگفتہ نویس ہیں۔ ان کا ایک اپنا طرز ہے جس کے وہ خود موجد ہیں۔ نثر کے ساتھ ساتھ شاعری کا ملکہ بھی انہیں خوب خوب ملا ہے۔ ہمیں فخر ہے ان کا تعلق ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ ہے۔ 
محترمی کے قلم گوہر بار سے ان دنوں ’’تازہ ترین سلسلہ‘‘ نامی پیغامی ہی نہیں بلکہ آفاقی شاعری کے نمونے ہر ایک دو روز کے وقفے سے نکل رہے ہیں۔ ہم یہاں ان کے چند اعلیٰ اور معیاری سلسلے قسط وار شائع کررہے ہیں۔ 

منگل، 26 دسمبر، 2017

بےخبرکی خبر

سراج اکرم قاسمی
(معاون مدیر مدرسہ الہدایہ، کنشاسا، کونگو، افریقہ) 

 زندگی کے تقریبا چالیس سال "جنت ارضی" کی پر بہار فضاؤں میں گزرے، پھر دل ناداں نے صحرائے افریقہ کی خاک چھاننے کی ٹھانی، اوربندہ بروز جمعرات 15 ذی الحجہ 1438ھ = 7/ستمبر2017ء کووسطی افریقہ کی سر زمین پر آگیا ۔
 اب کچھ باخبر بزرگوں اور ہم عصروں کا اصرار ہے کہ مجھ جیسا بے خبر انھیں یہاں کی خبر دے،میں نے بھی اس امید پر ہامی بھر لی ہے کہ شاید یہ تحریر کسی دل کو دستک دے اور وہ صحرا نوردی کے لیے تیار ہو پھر اس کی قربانی اور محنت و جاں فشانی کے نتیجے میں دشت افریقہ کے ایمانی کشت زاروں میں باغ و بہار پیدا ہو (آمین )
 بندہ وسطی افریقہ کے ایک ملک "جمہوری جمہوریہ کانگو " میں ہے، اسے عربی میں "جمهورية الكونغو الديمقراطية " انگریزی میں Democratic republic of the congo فرانسیسی میں Republique democratique du congo اور اختصارا "کانگو" کہا جاتا ہےـ "کانگو برازاویل" سے ممتاز کرنے کے لیے اسے "کانگو کنشاسا "بھی کہتے ہیں ـ 1971 تا 1997 کے درمیان اس کا نام "زائیر" بھی رہا ہے، 1960 میں اس نے "بلجیئم "سے آزادی حاصل کی۔ کانگو کی سرحدیں شمال میں جنوبی سوڈان اور مرکزی افریقہ سے مشرق میں یوگنڈا، روانڈا، برونڈی اور تنزانیہ سے، جنوب میں زامبيا اورانگولاسےاور مغرب میں کانگو برازاویل سے لگتی ہیں، اس کے جنوب مغرب میں کچھ فاصلے پر بحر اوقیانوس کی لہریں بھی موجیں مار رہی ہیں-

زیارت اسلامیہ (قسط دوم)

شاہد وصی 

میں مادر علمی کے صدر دروازے پر کھڑا تھااور وجدان وتصورات کی نگاہیں مجھے پیچھے، بہت پیچھے لے جارہی تھیں۔ خیالات میں ایک ہلچل سی مچ چکی تھی، میں نے اپنی حد تک بہت کوشش کی کہ حال کے غیر مطمئن اور مستقبل کے موہوم دروازے پر ہی کھڑا رہوں، لیکن میں بے بس تھا، میرا ذہن، میرا خیال میرے بس سے باہر تھا، یکایکی میں تنکے کی مانند وجدان کی دوش پر سوار اور تصورات کی نیا پر براجمان ماضی کی حسین وپرکیف وادی میں داخل ہوچکا تھا۔ 
سال 2003 تھا، مہینے کی تعیین ماضی کے نہاں خانے میں مندرج نظر نہیں آئی۔ میں اپنے والد کے ہمراہ عربی دوم میں داخلے کی نیت سے شکرپور آیا ہوا تھا، مولانا بشارت کریم صاحب نے میرا داخلہ امتحان لیا۔ حضرت الاستاد مولاناصفی الرحمٰن (بڑے مولانا) کی زبانی داخلہ کی خوش کن خبر موصول ہوئی۔ پھر میں تھا اور اسلامیہ کی وادیاں تھیں۔ چار سال تک اسی وادی کی گلگشتی کی، اسی صحن میں چوکریاں بھری، یہیں بے پر کے بچے میں بال وپر اُگے اور اس میں قوت پرواز پیدا ہوئی، ناتواں بازو میں استحکام پیدا ہوا۔ مولانا صفی الرحمٰن صاحب، مولانا سعید صاحب، مفتی ابوبکر صاحب، مولانا سراج اکرم صاحب، مولانا بشارت کریم صاحب،مفتی اقبال صاحب، مولانا طارق ندوی صاحب ایک سے بڑھ کر ایک، سب ممتاز ومنور ماہ ونجوم اور شمس وقمر جیسے ساقیان علم کے ہاتھوں جام پر جام نوش کیا۔ قدرے قدرے نوشیدن سے تشنگی مزید بڑھتی جاتی، ساقی کا جام ہر تشنگی کے بعد بڑھتا اور سیراب کرتا جاتا۔ پورے چار سال یہاں قیام رہا، سینکڑوں سے دوستی ہوئی، ہزاروں کی ملاقات شناسائی میں تبدیل ہوئی، بعض کی دوستی میں رفتہ رفتہ پختگی آتی چلی گئی۔ 
ہائے ہائے وہ بھی کیا دن تھے۔ ؎
لوٹ پیچھے کی طرف اے غم ایام تو 
ماضی کی حویلیوں کی سیر کے دوران بھی حال سے رشتہ منقطع نہیں ہوا تھا۔ کام ودہن لمحات گزراں کے دلکشی سے لذت آشنا ہورہے تھے، لیکن حال آہستہ آہستہ صدا بھی لگا رہا تھا۔ شریک سفر برادر مکرم مولانا مبین احمد سعیدی صاحب نے کہنی ماری اور زبردستی ماضی سے کھینچ کر حال میں پہنچا دیا پھر کیا دیکھتا ہوں کہ میں مادر علمی کے صدر دروازے پر کھڑا ہوں۔ 

پیر، 25 دسمبر، 2017

النسخ فی القرآن الکریم: رضی الرحمٰن القاسمی

محمد رضی الرحمٰن القاسمی ینبع مدینہ منورہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوکر قبولیت عامہ حاصل کرچکی ہیں۔ اہل علم نے انہیں پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا ہے۔ ان کی ایک معرکۃ الآرا تصنیف النسخ فی القرآن الکریم ودحض الشبھات المثارۃ حولہ ہے۔ 

آپ خود مطالعہ کریں 

اتوار، 24 دسمبر، 2017

قرض کے آداب: خالد ضیا صدیقی ندوی

خالد ضیا صدیقی ندوی ابنائے قدیم کے ایک ہونہار اور قابل فخر سرمایہ ہیں۔ موصوف اردو، عربی میں یکساں عبور رکھتے ہیں۔ ادیبانہ ذوق کے ساتھ ساتھ تحریر وتقریر کا خدا نے خصوصی ملکہ ودیعت کیا ہے۔ ان کی ایک تازہ تصنیف آئی ہے۔ اس میں خالد ضیا نے قرض کے آداب قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔
آپ بھی استفادہ کریں۔ 

زیارت اسلامیہ (قسط اول)

شاہد وصی 

آٹھ سال، پورے آٹھ سال کے بعد خوابوں کی آماجگاہ، تمناؤں کا مسکن، تصورات کی جنت، آرزوؤں کا محور، دل دردمند کی منزل اور زندہ دلان کے حسیں تاج محل، ہم سب کی مادر علمی مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کی زیارت نصیب ہوئی۔  آٹھ سال کا وقفہ کچھ کم نہیں ہوتا، ان سالوں میں نہ جانے کتنی دفعہ خزاں کے بے رحم جھونکوں نے اسلامیہ کے رنگ و رونق بگاڑ دیئے ہوں گے، بہاریں آئی ہوں گی، فضائیں لہلہائے ہوں گے، نئے نئے گل بوٹے سے چمن بھی سجا ہوگا، بلبل کی نوا سنجی سے بہار کا لطف دوبالا بھی ہوا ہوگا۔ خزاں نے اس نوا سنج بلبل کو درد وحسرت کی تصویر بھی بنا دیا ہوگا۔ لیکن یہ کیا دیکھتا ہوں کہ مادر علمی چند خوبصورت بلند وبالا عمارت کو چھوڑ کر یونہی پورے آن بان اور شان کے ساتھ مقدس مریم کی طرح کھڑی ہے۔ اس کے در ودیوار سے ممتا کی لہریں پہلے کی طرح ہی نکل نکل کر فضا کو مشکبار کی ہوئی ہیں۔ دو رویہ بنی کیاریوں سے وہی جانی پہچانی سے خوشبو پھوٹ پھوٹ کر مشام جاں کو معطر کررہی ہے۔ سامنے خوبصورت مسجد اور اس کے بلند وبالا مینارے، مسجد کے دونوں طرف دو منزلہ عمارت ، اس کے بغل میں شیش محل، مسجد کے سامنے پرائمری سیکشن سب کے سب اسی شان وشکوہ کے ساتھ گردش ایام سے لڑکر فاتحانہ انداز میں استادہ نظر آئے۔ شیش محل کے اوپر قاضی لائربری اور پرائمری کے عقب میں شعبہ کمپیوٹر کا مکان نیا نیا سے لگا، باقی سب کا سب پہلے ہی کی طرح دلفریب و قلب آگیں تھا۔ 
پورے آٹھ سال، دو ہزار نو سو بیس دن اور راتیں، صبح وشام کی اتنی ہی مسافتوں کے بعد بالآخر مادر علمی پہنچ گیا۔ شوق نے مہمیز لگائی، آرزو نے کچوکے دیئے، تمنا نے ہودج سجاکر نکیل تھام رکھی تھی، شروع میں اندرونی جھجھک نے روکا، غیر حاضری کی اتنی لمبی مدت نے شوق کے قدم تھامنے چاہے، اس لمبی غیبوبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شرم نے تمنا کو تھپکی دے کر سلانے کی کوشش بھی کی، مگر آخر کار جھجھک شوق سے ہار گیا، تمناؤں نے طبعی شرم پر فتح پالی ، پھر کیا تھا میں ملکوتی احساسات وبہشتی مسرتوں کے ساتھ مادر علمی کے صدر دروازے پر کھڑا تھا۔ 

(جاری) 

منگل، 19 دسمبر، 2017

اور اخلاقی جنگ جیت گئے راہل

محمد شافع عارفی 


گجرات ہماچل پردیش کےالیکشن کی ساری سرگرمیاں بی جے پی کے جیت اور کانگریس کے ہار کے ساتھ ختم ہوگئیں۔  گجرات میں اپنی تمام تر کوشش اور جدوجہد کے باوجود کانگریس 80 سیٹوں پر محدود ہوگئی جب کہ حکمراں جماعت بی جے پی کے کھاتے 99 سیٹیں گئیں جو حکومت سازی کے لئے کافی ہے لیکن اس انتخاب میں ہار کے باوجود کانگریس کو راہل گاندھی کی شکل میں ایک نوجوان فعال لیڈر مل گیا جو لڑنے کے ہنر سے واقف ہے، صبرآزما حالات گھٹاتوپ اندھیرے میں وہ ہندوستان کی سیکولر عوام اور کانگریس کےلئے امید کی بن کر چمکا ہے۔
 اس انتخاب پر تجزیہ و تحلیل کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں کی طاقت اور کمزوری کی نشاہدہی سیاسی پنڈٹ کررہے ہیں لیکن اس ساری بحث جو چیز بہت پیچھے چلی گئی یا انہیں سرد بستے میں ڈال دیا گیا وہ ہندوستانی سیاست میں اخلاقی قدروں کا زوال ہے۔ یہ چیز ہندوستان کے ہر باشعور ذمہ دار اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے شہری کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ چناؤ پرچار کے درمیان بی جے پی کی طرف جس زبان و لہجے کا استعمال ہوا وہ ہندوستان کے جمہوری مزاج و مذاق سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ 
کانگریس پارٹی اور اس کی اعلی قیادت کے لئے یہی ایک پہلو باعث اطمنان ہے کہ بھلے وہ گجرات و ہماچل پردیش کا سیاسی دنگل ہار گئے ہوں لیکن ان کے نومنتخب لیڈر راہل گاندھی اخلاقی محاذ پر جیت گئے۔ انہوں نے نہ ہی بی چے پی کے اور ان کے لیڈروں کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور نہ کسی کو اس کی اجازت دی اور اپنی پاڑٹی کے ایک سینئر لیڈر منی شنکر اییر پر صرف اسلئے کاروائی کی کہ انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف غلط الفاظ کا استعمال کیاتھا۔
دوسری طرف بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی ہیں جو اپنے مخالفین کے خلاف گالی گلوج کرنا اور ایسے بے جا الزامات عائد کرنا جس کا کوئی عقلی اور منطقی جواز نہ ہو اپنا پیدائشی واجبی حق سمجھتے ہیں۔ بہار انتخاب کے دوران انہوں نے نتیش کمار کے ڈی این اے پر سوال اٹھایا تو گجرات میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری پر پاکستان کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کردیا۔ اصل وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ انہیں اب تک یہ یقین نہیں ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں وہ آج تک خودکو بی جے پی اور آرایس ایس کا پرچارک سمجھ رہے ہیں۔ اس مسئلے کو کافی سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے الیکشن کمیشن کو یہ بات یقینی بنانا چاہئے کہ کسی پر ذاتی حملہ نہ کیاجائے اور نہ ہی ایسے الزامات عائد کیے جائیں جس کی کوئی بنیاد اور منطقی دلیل نہ ہو ورنہ ہندوستانی پارلیامنٹ اور اسمبلیاں بد کردار اوباش غیر مہذب لوگوں کا اڈہ بن جائے گا۔