احتشام الحق قاسمی رامپوری
مدرس مدرسه عارفیه ناڑی و نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ضلع دربھنگہ
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت کے مطابق خواتین اسلام کے طلاق ثلاثه بل کی مخالفت میں ہونے والے احتجاجات سے متعلق کچھ باتیں ۔
گزشته مہینے جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمه داروں نے یه فیصله لیا که اب پورے ملک کے مرکزی مقامات پر خواتین اسلام کا خاموش جلوس نکالا جائے اور طلاق ثلاثه بل جولوک سبھا سے پاس ہوچکا ہے اور راجیه سبھا سے پاس نهیں ہوسکا اور راجیه سبھا کی اکثریت کی مخالفت کے باوجود حکومت وقت نے نه تو اسے واپس لیا اور نه ہی اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا اس کی مخالفت میں احتجاج درج کرایا جائے اور گورنرز، کلکٹرز ضلعی ،کمشنری اور سب ڈویزن کے اعلی افسران کو میمورنڈم سونپا جائے ۔
اس اعلان اور فیصله کو سن اور پڑھ کر اول وہله میں میں حیرت میں پڑگیا اور بے ساختہ زبان پر مچلنے لگا۔
بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت ** نہیں کام آتی دلیل اور حجت
اور سوچنے لگا که آیا عورتوں کا احتجاج مناسب ہے ؟ عورتوں کے احتجاج سے کیا فائده ہوگا ؟ کیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنی ہاری ہوئی بازی خواتین اسلام کی مدد سے جیت جائے گا؟ اور بھی اس طرح کے خلجان تھے۔ پھر مجھے بانی امارت شریعه حضرت مولانا ابوالمحاسن سجاد صاحب رحمه الله علیه کا واقعه یاد آگیا که ایک مرتبه ہندوستان کے عمائدین اور قائدین ایک تحریک چلانے کے سلسلے میں غوروفکر کرنے کیلئے ایک میٹنگ کررہے تھے۔ اس موقع پر کچھ خواتین تشریف لائیں اور انهوں نے درخواست پیش کی که ہمیں بھی خدمت موقع دیا جائے اور اس تحریک میں ہم عورتوں کو بھی شامل کیا جائے۔ حضرت ابوالمحاسن سجاد صاحب نے اس موقع پر ارشاد فرمایا تھا که آپ کے جذبه صادق کی ہم قدر کرتے ہیں، لیکن جب تک ہمارے ضعیف و ناتواں بازووں میں طاقت ہے تب تک آپ کو ملت کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یه بچپن میں پڑھا ہوا ایک واقعه تھا جو بار بار یاد آرہا تھا که ایک وقت ہمارے قائدین کی عزیمت وه تھی جو بیان ہوئی اور ستر اسی سالوں کےبعد کیا ہماری قیادت اس درجه گر جائے گی که انهیں خواتین اسلام کے کاندھوں پر ملت کا بوجھ ڈالے گی ؟
لیکن جب بار بار اس موضوع پر غوروفکر کیا اور کئی دنوں تک کیا تو اس نتیجه تک پہنچا که مسلم پرسنل لاء بورڈ کا یه قدم بالکل مناسب، صحیح ضروری اور بروقت ہے۔
چونکه طلاق ثلاثه کا قضیه جس بدنیتی کے ساته اٹھایا گیا اور جس انداز سے اسے پیش کیا گیا اور اس موضوع پر پروپیگنڈے کا جو طومار باندھا گیا اور سنگھی اور گودی میڈیا نے اسے جس انداز سے گرمایا اور پورے ملک میں لگاتار کئی مہینے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہرکس و ناکس سے لائیو مباحثه کراکر اسے ملک کا سب سے بڑا مدعا بنا دیا تھا۔ پھر ملک کے پی ایم جناب نریندرمودی نے مسلم خواتین کی جھوٹی ہمدردی میں جو ٹیسو بہائے اور گھریالی آنسو گراکر مسلم عورتوں سے جھوٹی ہمدردی کا ڈھونگ رچا تھا پھر اپنے غرور و نخوت میں ڈوب کر بعجلت تمام طلاق ثلاثه مخالف بل پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے پاس کرالیا تھا ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی عقلمند شخص خواتین اسلام کے ان احتجاجات کو نامناسب اورغلط قرار نہیں دے سکتا۔
قضیه طلاق ثلاثه کے کئی اہم پہلو ہیں
1 ۔ پرکاش بنام پھول وتی کے مقدمه میراث کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے صنفی مساوات کے نام پر مسلم پرسنل لاء کی طرف موڑدیا۔
2 ۔ چند مسلم خواتین نے حکومتی مہرے بن کر اسکی شه پر کیس فائل کیا تھا جن میں سے بعض مطلقه ثلاثه تھیں لیکن بعض تو بالکل جھوٹی تھیں۔
3 ۔ زعفرانی میڈیا نے تمام عوامی مسائل سے توجه ہٹانے اور ملک کو فرقه وارانه خطوط پر تقسیم کروانے کیلئے اسے اپنا سر فہرست ایجنڈا بنا لیا اور مہینوں اس نے اس موضوع پر مباحثه کرواکر ملک اور قوم کو گمراه کیا ۔
4۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور انکی پارٹی نے عورتوں سے جھوٹی ہمدردری کے نام پر ہی مسلم مخالف حلف نامه عدالت میں داخل کیا تھا اور اپنی شاطرانه سیاست کو بروے کار لاتے ہوئے اسے یوپی انتخاب کا مدعا بھی بنالیا تھا۔
5 ۔ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے طلاق ثلاثه کو کالعدم قرار دینے کا فیصله سناتے ہوئے کہا تھا که یه مسلم عورتوں پر ظلم ہے۔
6۔ حکومت نے بھی جوقانون لوک سبھا سے پاس کرایا تھا وه بھی مسلم عورتوں کو انکے مفروضه ظلم سے نجات دلانے کے مکروه دعووں کے ساتھ پاس کرایا تھا۔
7 ۔ صدرجمہوریه نے بھی اپنی پارلیمانی بھاشن میں طلاق ثلاثه کو کالعدم قرار دینے والے قانون کو مسلم عورتوں سے مصنوعی ہمدردی سے جوڑ کراس ظالمانه قانون کو عورتوں کی آزادی کا نقیب قرار دیا تھا۔
ان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے آئیے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خواتین اسلام کا احتجاج کرانے کے فیصله پر نظر ڈالیں۔ یوں تو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثه کے فتنے سے نمٹنے کی کوششیں اول دن سے کی ہیں اور میں ان کوششوں کو سراہتا ہوں۔ چار کروڑ سے زیاده عورتوں کے دستخط اس نے لاء کمیشن کو بھیجے، چونکه معامله عدالت میں تھا اس لئے مجبوری تھی کہ اس وقت خواتین کو باہرنه نکالا گیا ورنه بورڈ تو اس وقت بھی یه صدا لگا سکتا تھا اور کڑوروں خواتین کا احتجاج درج کراسکتا تھا۔ عدالت عالیه میں بورڈ سے چوک ضرور ہوئی ہے جسکا خود بورڈ کے ذمه داران کو احساس ہے۔ شروع ہی میں بورڈ نے اس مسئله کو جذباتی بنادیا اور سدا للباب اس نے عزیمت پر عمل کرنے کی کوشش کی اور ایسا لگا گویا وه کسی اسلامی ملک کے حنفی جج کی عدالت میں مقدمه لڑ رہے ہوں۔ ورنه حلف نامه میں ہی رخصت پر عمل کرکے معامله کو سنگین بننے سے بچایا جاسکتا تھا۔ اگر تین کو ایک مان لیا جاتا تو میرے خیال میں حکمراں طبقے کو اتنا موقع نہیں ملتا اور خود عدالت بھی طلاق ثلاثه کو بالکل کالعدم قرار نہیں دیتی۔
اب جبکه حکومت پوری کوشش کررہی ہے که وه بل کسی طرح راجیه سبھا سے پاس ہوجائے تو ضروری ہوگیا که مسلم عورتوں کی جھوٹی ہمدردی میں موجوده حکومت ، اسکی مشینری اور سنگھی میڈیا نے پروپیگنڈے کا جو طوفان برپا کیا تھا اور مسلم عورتوں کے بہانے شریعت میں مداخلت کی جو بے جا کوشس کی تھی اس کا جواب ان ہی مسلم عورتوں کی جانب سے موثر انداز میں دیا جائے اور وه بحمد الله حسن و خوبی کے ساتھ دیا جارہا ہے۔ چونکه اس قضیه میں اول و آخر مخالفین اور معاندین کی طرف سے نام نهاد مسلم عورتوں کو ہی سامنے رکھا گیا ہے تو مناسب ہوا که اسکا توڑ بھی عورتوں سے ہی کرایا جائے تو بہتر ہے۔
عورتوں کے احتجاج سے فائدے
جب سے یه احتجاج شروع ہوا ہے تب ہی سے اسکے فائدے ظاہر ہونے لگے ۔
اولا: پروپیگنڈے کا جو طوفان تھا وه تھم سا گیا ہے۔
ثانیا: اعداء دین یه الزام لگارہے تھے که مسلم عورتیں گھروں میں قید رہتی ہیں۔ ہماری ماں بہنوں نے باہر نکل کر احتجاج کرکے دکھلا دیا که ہم کو تم گھروں کے اندر میں محبوس مت سمجھو۔
ثالثا: مسلم عورتوں نے دختران وطن پر یه ثابت کردیا که ہم مسلم عورتیں کتنی شریف پاکدامن اور مہذب ہیں۔
رابعاـ: پرده پر ہمیشه اعتراض ہوتا تھا که پرده عورتوں کیلئے رکاوٹ ہے۔ ہماری ماں بہنوں نے اپنے برقعوں میں باهر نکل کر بتا دیا که پرده ہماری رکاوٹ کا سبب نهیں ہے۔
خامسا: ہزاروں مقامات پر احتجاج اور میمورنڈم کی سپردگی نے ثابت کردیا که ہمیں شریعت عزیز ہے۔ ہم سے جھوٹی ہمدردی کے نام پر کوئی ہماری شریعت میں مداخلت نه کرے۔
سادسا: جس طلاق کے سسٹم کو عورتوں کے حقوق کے نام پر حکومت ختم کرنا چاہتی ہے وه ہمیں منظور نہیں۔ ہم اپنی شریعت کے طلاق سسٹم پر مطمئن ہیں۔
سابعا: ہماری عورتیں شریعت کے تعلق سے اتنی بیدار نہیں تھیں۔ ان احتجاجات نے انہیں جگا دیا که وه بھی حضرت خدیجه کی بیٹی اور فاطمه کی بہن ہیں۔
ثامنا: کبھی کبھی عورتیں نادانی میں اپنے شوہروں سے طلاق کا مطالبه کردیتی تھیں۔ تھوڑا سا تنازع ہوا اور اس نے مرد کی غیرت کو للکار کر که دیا که ہمت ہے تو طلاق دیدو ، اب جبکه وه خود طلاق کے مسئله پر احتجاج کررہی ہیں تو امید ہے که وه نادانی میں اس طرح کا مطالبه اب نہیں کریں گی۔
تاسعا: مسلم عورتوں نے بھی طلاق کا مسئله اچھی طرح سمجھ لیا اور انہوں نے میڈیا میں ایسی منطقی اور معقولی گفتگو کی ہے که اچھے اچھے فاضل لوگ بھی شاید ہی کرسکیں۔
عاشرا: جهاں جهاں احتجاج ہوا ہے وہاں وہاں مسلم عورتوں نے اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور افسران سے لیکر برادران وطن تک کے دلوں میں ان کی عظمت بیٹھ گئی ہے۔
میں خود سوپول دربھنگہ کے احتجاج میں گارجین کی ذمه داری ادا کررہا تھا۔ احتجاج کے ختم ہونے کے بعد برادران وطن کے کئی افراد ہم سے ملے اور انہوں نے اقرار کیا که واقعی آپ کی عورتیں منظم اور ڈسپلن کی پابند تھیں اور ان سبھوں نے کہا که میں جو ٹی وی میں دیکھ رہا تھا یا اخبار میں پڑھ رہا تھا اور میرے ذہنوں میں مسلم عورتوں کی جو تصویر بنی ہوئی تھی، آج میں نے اس سے الگ مسلم عورتوں کو پا یا۔ سوپول کے احتجاج کی ایک خاص بات یه رہی که کئی ہندو عورتیں مظاہره میں شریک تھیں۔ ایک ہندو بہن تو سب سے آگے آگے بینر ہاتھ میں لئے از اول تا آخر شریک رہی اور اس نے برجسته افسران سے کہا که حکومت کیوں مسلمانوں کے مذہبی معامله میں دخل دے رہی ہے۔
خیر اب جبکه خواتین کے احتجاج کا دائره پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔ آج نہیں تو کل اسکا نتیجه ضرور سامنے آئے گا۔ ایسے وقت میں بعض اہل علم اور ارباب دانش کا ان احتجاجات کو مسائل کی کسوٹی پر جانچنا اور فتوی بازی کرنا یا اسے غیر دانشمندانه قدم قرار دیکر مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اسکے جنرل سکریٹری امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کی مخالفت کرنا کسی بھی زاوئے سے درست نہیں۔ جب حکومت کا حمله ہمارے دین و شریعت پر ہو اور اسکی نیت طلاق کے پورے سسٹم کو ختم کرنے کی ہو حتی که ہمارے دستوری اور جمہوری حقوق پر اسکی طرف سے حمله ہو اور ہم صرف اس بنیاد پر که عورتوں کا باہر نکلنا درست نہیں یا عورتوں کے احتجاج سے حکومت کی نیت نہیں بدلے گی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، یه قطعا درست نہیں ۔
بادی النظر میں لگتا ہے که حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوگا لیکن حالات یکساں نہیں رہتے۔ ایک ماہ پہلے حکومت کی جو پوزیشن تھی وه آج نہیں ہے۔ کل تک اسکے وزرا کا جو باڈی لنگویج تھا، آج نظر نہیں آرہا ہے۔ تو کیاصرف اس بنیاد پر که حکومت ہماری مخالف ہے ایک جمهوری اور دستوری ملک میں بزدل ہوکر اپنے گھروں میں بیٹھ کر پابند آشیاں ہوجائیں۔ اخیر میں ہم شکر گزار ہیں تمام خواتین اسلام کا که انہوں نے ملت کی آبرو رکھ لی۔ وقت کا مورخ لکھے گا که جس وقت عالم اسلام اباحیت پسندی کی طرف مائل تھا، عورتیں نقاب اتار رہی تھی، یوروپین عورتوں کی نقالی میں مسلم خواتین آزادی اور رقص و سرود اور لهو ولعب میں شامل ہونے کی لڑائی لر رہی تھیں، اپنے مذهب اور دین و شریعت کا چوغا ببانگ دہل اتار رہی تھیں، ایسے وقت میں ہندوستان کی قابل فخر مسلم بیٹیاں اور مسلم مائیں وقت کے سب سے بڑے جابر سے دین و شریعت کے تحفظ کی خاطر ٹکرا رہی تھیں اور جس برقعے کو دقیانوسیت قرار دیا جارہا تھا اسی برقعے میں ملبوس ہوکر اپنی شاندار تهذیب و روایت کی پاسداری کر رہی تھیں اور تحفظ شریعت کی خاطر اپنے گھروں کی چہار دیواریوں سے نکل کر اپنی خاموش زبانوں سے کهہ رہی تھیں که
نظر په ظلم ہے محدود آسماں ہو نا
پیام مرگ ہے پابند آشیاں ہونا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں