اتوار، 11 فروری، 2018

ہو حلقه یاراں تو بریشم کی طرح نرم

احتشام الحق قاسمی رامپوری 

ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے باوقار اور متفقه اداره مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے جسکا ایک اہم اجلاس ان دنوں حیدرآباد میں جاری ہے ، لیکن میٹنگ اور اجلاس سے پہلے جو طوفان اٹھا، یا اٹھایا گیا وه تهمنے کا نام نہیں لے رہاہے۔ ایک طرف پوری حکومت اسکی مشینری اور مین اسٹریم میڈیا بورڈ کے وجود کو ته و بالا کرنے پر تلی ہوئی ہے تو وہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تاسیسی حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب بورڈ کے خلاف مورچه کھول کر اسکی آبرو سے کھیل رہے ہیں اور میڈیا کی زینت بن کر ہندوستانی مسلمانوں کے متفقه موقف سے انحراف کرکے اعداء دین و شریعت سے داد وصول کررہے ہیں۔ یوں تو مولانا سلمان ندوی اپنی بے باکی، شعله بیانی اور خطیبانه سحر انگیزی کیلئے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ دنیا انہیں ایک عبقری شخصیت عالم ربانی اور علماء حقه
اور صادقه میں سے شمار کرتی ہے۔ انکی تقریریں باطل طاقتوں کے خرمنوں پر بجلیاں گراتی ہیں۔ دلائل و براہین کی طاقت انکا خاص وصف رہاہے جو بلاشبه انہیں اس دور کے علماء میں ان کو ایک نمایاں مقام دیتا ہے۔گویا که ایک طرف وه جہاں
ہورزم حق و باطل تو فولاد ہے مومن 
 کی عملی تفسیر رہے ہیں۔ وہیں انکے نظریات میں بلا کا تفرد بھی پایا جاتا ہے۔ کبھی وه تزکیه پر زور صرف کرتے ہوئے مسلمانوں کو پہلے تزکیه پھر علم و حکمت کی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کبھی صدام حسین کی حکومت کے خاتمه پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے انکی زبان ایک ظالم ڈکٹیٹر سے نجات ملنے پر خدا کا شکر ادا کرتی ہے۔ کبھی اسٹیج پر موجود حکومت ہند کے وزیروں کو پیر کی جوتیوں کے برابر قرار دیتے ہیں ، کبھی البغدادی کی شان میں قصیده پڑھتے ہیں ، کبھی سیاسی پارٹی بناکر جمہوری طاقت حاصل کرنے اور کرانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی کھل کر کسی ایک پارٹی کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور ان دنوں وه مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خلاف مورچه کھول رکھے ہیں ۔ 
مولانا کو اگر بورڈ کے کام کاج سے اختلاف تھا تو اسکو بورڈ کے اندر اٹھانا چاہئے تھا۔ اگر کسی رکن کے کسی عمل سے تکلیف تھی تو اسکی فہمائش کی کوشش کرنی چاہئے تھی نه که بورڈ کو کٹهرے میں کھڑا کرنے کی ۔ مولانا ندوی نے جو انداز بیاں اور جودلیلیں میڈیا کے روبرو پیش کی ہیں وه ان جیسی عبقری شخصیت کے شایان شان نہیں۔ انہوں نے بورڈ میں اپنی بات نه سنے جانے کا ذکرکیا۔ بورڈ کو تمام مسلمانوں کا نمائنده ہونے پر سوال اٹھایا۔ اور کسی رکن کو اسکے ماضی کے کسی عمل سے آرایس ایس سے جوڑکر دکھانے اور بورڈ کو اس میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔ انکی باتیں خود انکی شخصیت پر سوال کھڑا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ کیا کسی اداره میں کسی کی بات کا نه سناجانا اتنا اہم عذر ہوسکتا ہے که اس اداره پر ہی سوالیه نشان لگا دیا جائے ؟ یه تو سیاسی پارٹیوں کے نیتا کرتے ہیں که جب انکو پارٹی چھوڑنی ہوتی ہے تو وه یه راگ الاپتے ہیں که پارٹی میں میری بات نہیں سنی جاتی ۔ مولانا ندوی بھی سیاسی نیتا کی طرح بات نه سنے جانے کا عذر پیش کرتے ہیں۔ مولانا نے خود ڈبل شری سے بات کی اور ان سے ڈیلنگ کررہے ہیں اور الزام دوسرے کو دے رہے ہیں ۔ کیا یه بدترین خیانت نہیں ہے ۔ مولانا ندوی نے ملت کے مفاد کا حواله دیا اور قیدیوں کا رونا رویا ہے۔ انکے گھر کے پاس ایک شخص کو پولس نے اسکے روم میں گولیوں سے چھلنی کردیا مولانا ندوی کو ضرور پته ہوگا اس پر انہوں نے کتنے آنسو بہائے۔


مولانا سلمان ندوی صاحب کے حالیہ تنازع میں اب تک کی سب سے بہترین تحریر


خیر انکو جو من میں آتا ہے کرتے ہیں ۔ انکے عزم و حوصله کے آگے کس کی کیا مجال ہے که ٹک جائے ۔ انہوں نے عالم عرب کو تو ٹھینگا دکھا دیا، ہندوستانی علماء کو ٹھینگا دکھانے میں انہیں کس کا ڈر اور خوف ، لیکن اتنا ضرور سمجھنا چاہئے که ابتلاء اور آزمائش میں کھڑا رہنا سب کے بس کا روگ نہیں ۔ 
بلاشبه بورڈ سنگین خطرات میں گھرا ہے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اسکی شکست ہوئی ہے۔ میڈیا نے اسے بدنام کرنے کا کوئی دقیقه نہیں چھوڑا ہے ۔ قوم جو بے چاری پہلے سے شکشت خورده کراه رہی ہے اس کے اعتماد کو باقی رکھنا بڑا چیلنج ہے ، پھر بورڈ کو متحد رکھنا اس سے بھی بڑا چیلنج ہے۔ اس نازک وقت میں تمام مسلمانوں کو چاہئے که وه بورڈ کے ساتھ آہنی دیوار بن کر ڈٹ جائیں اور حالات کا مقابله کریں ۔ اچھے حالات میں تو ہر کوئی ساتھ دیتا ہے لیکن برے حالات میں ساتھ دینا سب سے اہم ہوتا ہے ۔ بورڈ کے ذمه داران کو بھی چاہئے که وه فراخدلی کا مظاہره کرکے اپنے بچھڑے اراکین کو منائیں اور انکی گھر واپسی کرانے کی کوشش کریں ۔ بورڈ کسی کی بھی جاگیر نہیں ہے که اسمیں صرف اپنی چلائے۔ بورڈ تو رضاء الہی کیلئے کام کرتا ہے اور بورڈ کے کام کاج کو عبادت سجھتا ہے جیسا که اسکے ذمه داران نے بار بار کہا بھی ہے۔  اسمیں اپنی انا کا دخل نه ہونا چاہئے. 
اگر انا خوشامد اور چاپلوسی بورڈ میں گھس گئی تو سمجھ لیجئے بورڈ کا بیڑا غرق ہوا۔ 
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمه داروں سے ایک دردمندانه اپیل ہے که بورڈ کی رکنیت میں اہلیت و قابلیت کو سامنے رکھیں نه که صرف تقریر و خطابت ، یا نعره مستانه کو۔ بورڈ کا رکن ایسا ہو جو وسعت ظرفی اور وسعت نظر میں نمایاں ہو۔ بورڈ جتنا صاف و شفاف رہے گا اور اسکا طریقه کار جتنا ہمه گیر رہے گا بورڈ پر اعتماد قوم کا بڑھے گا۔ نیز مولانا سلمان صاحب حفظه الله کو بھی چاہئے که قوم کی اجتماعیت میں شگاف نه آنے دیں اپنی سختی کو نرمی سے بدلیں اپنے غصه کو قوم و ملت کی خاطر پی لیں اور حلقه یاراں میں بریشم کہ طرح نرم ہو جائیں ۔ 
بلبلا مزده بہار بیار 
خبر بد به بوم شوم رابگزار 
خیر یه وقتی حالات ہیں ہمیں اپنے عمائدین بالخصوص صدر بورڈ حضرت مولانا رابع الحسنی ندوی اور محافظ ملت حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم سے امید ہے که وه حضرت مولانا سلمان ندوی کے گلے شکوے ضرور سنیں گے اور انکے درد دل کو سمجھ کر درد کا درماں تلاش کرکے ان کی صلاحیت کا استعمال بورڈ اور قوم و ملت کے مفاد میں کریں گے۔ 
ہو حلقه یاراں تو بریشم کی طرح نرم
و رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن 
الله تعالی سے دعا ہے که الله تعالی بورڈ کے اتحاد کو قائم رکھے۔ مولانا ندوی کی کدورتوں کو دور فرمائے۔ انکے علم و عمل سے بورڈ کو اور قوم و ملت کو نفع پہونچائے 
اللهم الف بین قلوبهم  واصلح ذات بینهم  وانصرهم علی عدوک وعدوہم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں