بقلم: استاد محترم مولانا ســـراج اکـــرم ہاشمی
راقم نے اپنی زندگی میں حضرات علمائے کرام کے بہت سے اختلافات دیکھے سنے پڑھے اور برتے؛ لیکن دل کبھی اس طرح خون کے آنسو نہیں رویا جیسا ابھی حالیہ چند دنوں سے رو رہا ہے،آنکھوں سے اشک ہائےغم بہ رہے ہیں،ہاتھ دعاؤں کےلیے اٹھ رہے ہیں اور یہ گناہوں سے آلودہ پیشانی دلوں میں الفت ومحبت پیدا کرنے والی ذات کے سامنے جھکی ہوئی بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ خدایا!ہندوستان کے موجودہ اختلافات کو دور فرما، بورڈ کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا، اس کی خامیوں کو دورکرکےملت کا اعتماد اس پر مزید بڑھا، ہماری عقیدت ومحبت کے مرکز حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کو جمہور امت کے ساتھ چلنے کی توفیق ارزانی کر اور ملت کی ہر شش جہت سے مادی ومعنوی حفاظت فرما!آمین ـ
یہ بات کسی بابصیرت، دور اندیش،باریک بیں اہل علم پر مخفی نہیں کہ بابری مسجد کا مسئلہ بڑا حساس،نازک اور دوقوموں کے مذہبی جذبات سے جڑا ہوا ہے، اسی لیے حکومت اور عدالت دونوں ابھی تک کسی واضح فیصلے سے گریزاں رہی ہے، مقدمہ عدالت میں اپنی طبعی رفتار سے بھی آہستگی کے ساتھ جاری تھا ،فی الوقت عام لوگوں کی اس سے کوئی دل چسپی نہیں رہ گئی تھی؛ بلکہ ہر دو مذاہب کے ماننے والے اپنے قائدین پر اعتماد کر کے بیٹھ گئے تھےکہ جو ہوگا یہ حضرات سمجھیں گے؛لیکن مولانا محترم کے مسلسل بیانات نے اسے ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے،جس میں نقصان سرا سر مسلمانوں کا ہے ،جیسے:
(1)مولانا کے بیان سے پہلے بابری مسجد کے حوالے سے تقریبا پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کا موقف ایک تھا؛ لیکن مولانا کے بیان کے بعد ملت میں اختلاف و انتشار پیدا ہواـ ۔
(2)پچھلے 70 سالوں میں رام مندر کے لیے وہ پیش رفت نہ ہو سکی اور اس تحریک کو وہ استحکام نہ مل سکا جو مولانا کے بیان کے بعد صرف چند دنوں میں مل گیا ہےـ
(3)علمائے دین کی باہمی محاذ آرائی اور آپسی رسہ کشی کی وجہ سے عوام پہلے ہی سے بدظن چلی آرہی تھی، اس واقعہ نے اسے مزید ہوا دیدی ہے اور عوام کا اعتماد علماء سے تقریبا اٹھنے لگا ہے ۔
(5)مسلم پرسنل لا بورڈ کا وجود پہلے ہی سے ارباب اقتدار کی آنکھوں کا کانٹا تھا، اب وہ ہمارے داخلی انتشار سے فائدہ اٹھا کر اسے توڑنے،کمزور کرنے اور مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کریں گے اورکررہے ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں جو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک ایسا عظیم نقصان ہوگا جس کی تلافی بظاہر ممکن نہیں۔ ـ
(6)کچھ اپنے بھی جاہ ومنصب کی طلب،خود کے بارے میں بے جا خوش فہمی ،بےبنیادخبر، یا فطری حسدوعداوت کی بنا پر بورڈ سے پہلے ہی سے خار کھائے بیٹھے تھے، وہ بھی براہ راست میدان میں کود پڑے ہیں، اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں اور بورڈ کو بدنام کرنے کی سعی نامحمودکررہےہیں ۔
(7)مولانا اپنی رائے،اپنے موقف یا فیصلے کے اظہار میں وہی پیرایۂ بیان اختیار کررہے ہیں جو تحریک پاکستان کے زمانے میں لیگیوں نے اپنایا تھاکہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ،کافر ہے تو کانگریس میں جا۔ مولانا کا بھی ٹھیک یہی طرز عمل ہےکہ جو ان کی رائے سے اختلاف کرے،ان پر سنجیدہ تنقید کرے، وہ امن وآشتی کا دشمن،محبت واخوت کا مخالف اور نفرت وعداوت کا سوداگر ہے؛لیکن تحریک پاکستان کے نتائج ہمارے سامنے ہیں، مولانا کے انداز بیان کے نتائج کےلیے مستقبل کا انتظار کیجیے ۔
(8) ملک کی تقسیم کے نتیجے میں اکثریت کےذہن میں جو معاندانہ فضا پیدا ہوئی تھی، مولانا کے حالیہ بیانات سے عام مسلمانوں کے تئیں اس سے کہیں زیادہ زہریلی اور مسموم فضاتیار ہو رہی ہے؛ لیکن اپنے موقف کی صداقت وحقانیت اور واقعیت کے جوش میں شاید مولانا کو اس کی سنگینی کا احساس نہیں۔
(9)اگر ہم نے سونے کے طشت میں سجا کے بابری مسجد کی ملکیت برادران وطن کو پیش بھی کردی، انھیں رام مندر کا حسین تحفہ بھی دےدیا، پھر بھی مولانا کے بیانات نےغیر دانستہ طور پر چند ہی دنوں میں حامیان بابری مسجد کے خلاف اکثریت کاجو ذہن تیار کردیا ہے وہ بآسانی تبدیل نہیں ہو گا،برادران وطن ہمیشہ اسے یاد رکھیں گے کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے رام مندر کی مخالفت کی تھی،اور مستقبل میں ہر شخص کو یہ ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ وہ رام مندر کا مخالف نہیں تھاـ۔ اے کاش مولانا نے اپنی رائے کے اظہار سے پہلے رائے عامہ کو استوار کرلیا ہوتا، تو ان برے نتائج کے امکانات پیدا نہیں ہو تے۔
(10)عداوت و دشمنی سے تو اب کسی صورت میں مفر نہیں، فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آئے یا ان کے خلاف،وہاں مسجد بنے یا مندر، بہر دو صورت مسلمانوں کو اکثریت کی نفرت کا شکار ہونا پڑے گا،اس نفرت کو اگر کوئی چیز بدل سکتی ہے تو وہ اسلام کی سچی عملی تصویر ہے کہ ہر مسلمان پیکر عمل ہوکر غیب کی صدا بن جائے۔
(11)صلح حدیبیہ کا ایک بڑا،بلکہ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ انسان اپنے قائد وکمانڈر کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، خواہ قائد کی بات اس کے ذہن ومزاج کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہو پھر فتح مبین اس کے لیے سراپا انتظار ہے،کمانڈر کے حکم سے (غیر شعوری ہی سہی) سرتابی نہ کی جائے؛ورنہ احد کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑےگا ۔
(12) مولانا کی رائے،فیصلے یا کسی جدید تنظیم کی تاسیس کی تائید کرنے والے بیشتر وہ افراد ہیں جنھیں دین ومذہب میں کوئی گہرائی وگیرائی حاصل نہیں،اور عملی زندگی میں اسلام سے ان کا تعلق محض رسمی ہے، یا پھر وہ خام ذہن جنھیں ابھی بہت دنیا دیکھنی باقی ہے ـ جب کہ اختلاف رکھنے والوں میں ایک بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جوجہاں دیدہ، بڑےتجربہ کار،معاملہ فہم اور دور اندیش ہیں، جن کی عملی زندگی رهبان بالليل وفرسان بالنهار (شب زندہ دار ہیں تو سحر غازیان ہیں) کا مکمل مصداق ہے ۔
(13) اگریہ تسلیم بھی کرلیاجائےکہ فی الواقع مولانا ہی کی تائید کرنے والے زیادہ افراد ہیں توبھی مولانا جیسے اہل علم پر لوگوں کے گنے جانے اور تولے جانے کا فرق تو واضح ہوگا،اس لیے مولانا آراء گننے کے بجائے تولنے کی کوشش کریں تو بہتر ہے۔
(14) اختیاری حالت میں محض اس خوف اورامکان کی وجہ سے کہ مسلمانوں کا قتل وخون ہوگا مسجد یا مسجد کی زمین کو صنم خانے کے لیے دے دینانہایت ہی بزدلی،کم ہمتی اور نامردی ونامرادی ہے، جواسلام کی 14سو سالہ بہادرانہ تاریخ کے خلاف ہے ـ مجھے اس موقع پر وہ شہدائے کانپور یاد آرہے ہیں جنھوں نے مسٹن روڈ کی مسجد کےلیے جام شہادت نوش کیا تھا اور مولانا آزاد اورسید صاحب (رحمۃ اللہ علیہما) نےتڑپ کر اپنے سحر طراز قلم سے وہ پرجوش، دل سوز اور دردانگیز ادبی مرثیہ لکھا تھا جسے پڑھ کر آج بھی مردہ دلوں میں حرارت ایمانی پیدا ہوجاتی ہے، اور خانۂ خدا پر مرمٹنے کاجذبۂ فراواں موج زن ہوجاتا ہے۔
(15) افراد واشخاص اور اقوام وملل کی زندگی میں بسا اوقات انا کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتاہے،فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جزیرے کے کچھ نصرانی سردار بھیجے گئے،آپ نے انھیں جزیہ ادا کرنےکا حکم دیا،انھوں نے انکار کیا،توآپ نے فرمایا: والله لتؤدن الجزية وأنتم صغرة قمأ (قسم خدائے پاک کی تمہیں ذلیل و خوار ہوکر "جزیہ "ادا کرناہی پڑےگا)مجبور ہو کر انھوں نے درخواست کی کہ فخذمنا شيئا......الخ (آپ ہم سے کچھ لے لیں؛ لیکن خدارا اس کانام "جزیہ" نہ رکھیں)امیر المؤمنين نے فرمایا: أما نحن فنسميه جزية.....الخ (ہم تو اسے جزیہ ہی کہیں گے؛ البتہ تمہیں اختیار ہے کہ تم اسے جس نام سے چاہو پکارو)ـ
اس میں کوئی شک نہیں کہ ارض وطن میں بابری مسجد کا مسئلہ بھی انا کا شکار ہوچکا ہے،اس لیے بحالت موجودہ ہمیں اس سے دست کش ہرگز نہ ہونا چاہیئے؛کیوں کہ:
المـــــوت خيـــــرللفـــــتى
مـن عيشه عيش البهيمـــة
(ایک جواں مرد کےلیے ذلت کی زندگی جینے سے بہتر موت ہے)
گرچہ یہ سچ ہے کہ ہم عہد فاروقی اور عہد بنو امیہ وبنو عباس میں نہیں ہیں؛ بلکہ ہندوستان کے عہد آزری میں ہیں؛ لیکن ہمیں تو روشنی ماضی کی تاریخوں ہی سے ملے گی؛ کہ:
نئی تدبیر سے اصلاح امت ہو نہیں سکتی
(16) ایک ایسا مندرجس میں صرف ایک ایشور کی پوجا ہو،خدائے وحدہ لا شریک لہ کی عبادت ہو ،وہاں شرک و بت پرستی کا تصور اور گذر تک نہ ہو، دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ؛ لیکن خارجی اور واقعاتی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
(17) برادران وطن اگر مولانا کی ہر سہ شرطوں کو من و عن قبول بھی کر لیں تو بھی اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ آئندہ اسے عملا برتیں گے بھی؟
ہزارجدت طرازیوں کے لباس بدلاکرے زمانہ
مگریقینارہے گاعـامــر، مزاج باطل وہی پرانا
خلاف ورزی کی صورت میں مستقبل میں بھی عدالت ہی کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑےگا ،اس لئے قضیۂ بابری مسجدکو کوئی نیا رخ دینے کے بجائےآج ہی عدالت کے فیصلے کا انتظار بہتر ہے،ملک کے ہزاروں قوانین کی شب و روز خلاف ورزیاں ہوتی ہیں اور مجرم اپنی ذہانت وذکاوت یا زرخرید،لسّان وکلا کی وکالت سے بآسانی بچ جاتا ہے،اس لیے یہ پیش قیاسی بجاہے کہ ان تینوں شرطوں کا منطقی انجام بھی یہی ہوگا ۔
(18) بابری مسجد کے تئیں مولانا کی پیش کردہ تجاویز اور عام امت کے موقف ہردو میں خطا وصواب دونوں کا احتمال ہے،توپھرایک آدمی عام امت کے موقف ہی کی تائید کیوں نہ کرے،کہ اگر چوک بھی ہوگی تو یہ اجتماعی اجتہادی چوک ہوگی، جس پر ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا، غزوۂ بدر کے قیدیوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
(19) یہ بےربط سی سطریں مولانا کی عقیدت ومحبت میں رقم کی گئی ہیں،نفرت وعداوت اورعنادومخالفت میں ہرگز نہیں ـ میری قلبی خواہش یہی ہے کہ مولانا جیسے متحرک وفعال اور عہد آفریں لوگ اپنے بڑوں کی قیادت وسیادت میں آگے بڑھیں،ورنہ تاریخ کے اوراق ہمارے سامنے ہیں کہ بڑے سے بڑا علم وفن کا پہاڑ بھی جب اپنے بزرگوں سے بے نیازی برتتا اور عام امت سے کٹتاہے تو اس کے اعتبارواعتماد میں کس قدر فرق آجاتا ہے ؟ البركة مع اكابركم،يدالله مع الجماعة* اور *عليكم بالسواد الأعظم* جیسے نصوص مولانا کی نگاہ دور رس سے یقینا پوشیدہ نہیں ہوں گے، افتراق وتشتت کی وجہ سے ہواخیزی کے مضر اثرات سے بھی مولانا بخوبی واقف ہوں گےـ۔
(20) راقم اخیر میں براہ راست مولانا سے دست بستہ عرض کرتا ہے کہ اگر حدیث دل کی حکایت میں کوئی بے ادبی یا گستاخی ہوگئی ہو تو اسے نظر انداز اور معاف کرکے میری اس آخری درخواست پر ضرور غور فرمائیں گے کہ *آپ کسی جدید تنظیم کی تاسیس کے بجائے قدیم تنظیموں ہی میں صور اسرافیل پھونکنے کی کوشش کریں،کیوں کہ فی الوقت آپ کی جانب سے کسی نئی تنظیم کی بنیاد خواہ کتنی ہی نیک نیتی اورسوزدروں پر مبنی ہو،عام امت اسے علماکی باہمی محاذ آرائی اور آپسی رسہ کشی کے پس منظر میں دیکھے گی، اور سوءظن کا شکار ہو گی،حالانکہ جس طرح بدگمانی سے خود اجتناب ضروری ہے، اسی طرح ہرایسے کام سے گریز بھی لازم ہے جس سے دوسرے لوگ بد ظنی میں مبتلا ہوں....... آپ کے پاس (الحمدللہ) "شباب،پیام اور رابطہ " کا وسیع پلیٹ فارم موجود ہے جس کے اسٹیج سے آپ پوری دنیا ئے انسانیت کو مخاطب کرسکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ آپ ان کے کاموں میں وسعت وہمہ گیری پیدا کیجیے، اور مزید ذیلی شعبوں کا اضافہ کرکے انھیں ملک وملت کے لیے مفید سے مفید تر بنائیے ۔
اللہ تعالی مسلمانان عالم بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کی ہرشش جہت سے حفاظت فرمائے، اور انھیں اتحاد و یکجہتی میں سارے عالم کے مسلمانوں کے لیے ضرب المثل بنائے آمین۔
میرے اللہ تــــوایک بار تـــو ایسا کـــــردے!
پھر وہی عظمت رفتہ "اسے "حاصل ہوجائے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں