مولانا فضیل احمد ناصری صاحب کی شخصیت تعارف وشناخت سے پرے ہے۔ ان کا علمی تفوق، فقہی بصیرت، شان بے نیازی اور عالمانہ وقار کے چرچے سرحدوں سے آزاد ہیں۔ خدا نے انہیں بے شمار خصوصیتوں سے نوازا ہے۔ ان کی زباں دانی، زبان وادب سے لگاؤ جگ ظاہر ہے۔ بہت ہی شگفتہ نویس ہیں۔ ان کا ایک اپنا طرز ہے جس کے وہ خود موجد ہیں۔ نثر کے ساتھ ساتھ شاعری کا ملکہ بھی انہیں خوب خوب ملا ہے۔ ہمیں فخر ہے ان کا تعلق ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ ہے۔
محترمی کے قلم گوہر بار سے ان دنوں ’’تازہ ترین سلسلہ‘‘ نامی پیغامی ہی نہیں بلکہ آفاقی شاعری کے نمونے ہر ایک دو روز کے وقفے سے نکل رہے ہیں۔ ہم یہاں ان کے چند اعلیٰ اور معیاری سلسلے قسط وار شائع کررہے ہیں۔
|
تازہ ترین سلسلہ (43)
|
|
تازہ ترین سلسلہ(44)
|
|
|
اللہ
کی نصرت بھی جو
آئے تو کہاں سے
محروم
ہوئی قوم تہجد
کی فغاں سے
اس
دور کے مسلم بھی
عجب چیز ہیں یارو
سنتے
ہوے ڈر جاتے ہیں
آوازِ اذاں سے
اے
مردِ سخن! رسمِ
خطابت سے گزر جا
بڑھتا
ہے مرا ذوقِ گنہ
تیرے بیاں سے
اخبار
و رسائل ہوں کہ
ٹی وی کی فضائیں
وابستہ
مسلمان ہیں احوالِ
بتاں سے
دنیا
تری دشمن ہوئی
تو جاگ نہ پایا
کیا
فائدہ حاصل ہے
تجھےعمرِ رواں
سے
وابستگئ
دین ہی طاقت تھی
ہماری
افسوس
وہی چیز اٹھی بزمِ
جہاں سے
ڈھونڈو
تو زمانے میں بمشکل
ہی ملے گا
مومن
تو کروڑوں ہیں،
مگر اپنی زباں
سے
ممکن
نہیں، تم سے ہوں
ادا، رزم کی رسمیں
تم
زن کے پرستار ہو
اٹھ جاؤ یہاں
سے
کھل
جاے تو روے گا جہاں
خون کے آنسو
پردے
نہ ہٹا دوست! مرے
زخمِ نہاں سے
****
|
|
لوگ
شعروں کو مرے،
حسنِ بیاں جانتے
ہیں
درد والے اسے
اک طرزِ فغاں جانتے
ہیں
دےکےتم
حکمِ ستم، اتنےبھی
سادے نہ بنو
ہم
بھی اے دوست! اشاروں
کی زباں جانتے
ہیں
ان
کے اندازِ تغافل
پہ نہ جاؤ لوگو!
کون
ہیں ہم، یہ فلاں
ابنِ فلاں جانتے
ہیں
گاہ
منصب ترے ہاتھوں،
کبھی اپنے ہاتھوں
اس
کو ہم مشغلۂ دورِ
زماں جانتے ہیں
اک
زمانہ ہوا چھوڑے
ہوے، لیکن دیکھو
ہم
کو وہ صاحبِ شمشیر
و سناں جانتے ہیں
ہم
ہی کیا، جو بھی
روش سے ہیں تمہاری
آگاہ
سارے
فتنوں کا تمہیں
روحِ رواں جانتے
ہیں
تو
نے ہر موڑ پہ بخشے
ہمیں اتنے دھوکے
تیرے
الفاظ کو ہم وہم
و گماں جانتے ہیں
ہم
بھی عاشق ہیں،
مگر ایسے دوانوں
میں نہیں
گردِ
جاناں کو جو اک
کاہکشاں جانتے
ہیں
ہم
ہی گویا کہ بناے
گئے زنداں کے لیے
جرم
والوں کو کلہ دار
کہاں جانتے ہیں
****
|
|
|
تازہ ترین سلسلہ (45)
|
|
تازہ ترین سلسلہ(46)
|
||
|
یوں
نہ جھڑکو مجھے
خدا کے لیے
اک
چونّی سہی گدا
کے لیے
ہم
بھی انسان میں
ہی آتے ہیں
تم
ستاؤ نہ یوں خدا
کے لیے
میری
دنیا اجاڑنے والو
تم
بھی آے نہیں سدا
کے لیے
قتل
بے تیغ و تیر کرتے
ہیں
کیسے
دعویٰ ہو خوں بہا
کے لیے
اس سے مت
روشنی کی بات کرو
جو
ترستا ہو اک ضیا
کے لیے
اشک
بھی ہے وصال کا
باعث
ابتدا
ہے یہ انتہا کے
لیے
ماتمِ
گل ستاں ہے پیشِ
نظر
میری
آمد نہیں صبا
کے لیے
اس
نے کب کس کی بات
مانی ہے
لب
کشا کیوں ہوں،
التجا کے لیے
یہ
تو آنسو ہیں،
ان کی قیمت کیا
خوں
بھی حاضر ہے کج
ادا کے لیے
آزما
کر سبھوں کو دیکھ
لیا
اب
تو سجدے کرو خدا
کے لئے
****
|
|
ہر
شےکی بلندی کےلیے
فن ہےضروری
آرائشِ
گل فام کو درپن
ہے ضروری
الحاد
اسی راہ سے پھیلا
ہے جہاں میں
آزادئ
اظہار پہ قدغن
ہے ضروری
دنیا
نہیں،ظلمات کی
وادی اسےکہیے
ہر
ہاتھ میں اسلاف
کا دامن ہے ضروری
وہ
میرا ہوا خواہ
رہا ہے، نہ رہے
گا
مندر
کی حفاظت کو برہمن
ہے ضروری
اے
ہمدمِ دیرینہ
چلو سیر کو نکلیں
بلبل
کے ترنم کو یہ گلشن
ہے ضروری
اےدشمنِ
جاں! قتل نہ کر،چھوڑدےمجھ
کو
بجلی
کے مزے کے لیے خرمن
ہے ضروری
کہتا
ہوں بڑی بات، گوارا
اسے کرنا
بدعات
کی ترویج کو مدفن
ہے ضروری
برسات
ہے اشکوں کی یہاں
سارا زمانہ
ہم
وہ نہیں، جس کے
لیے ساون ہے ضروری
****
|
||