ترجمہ: شاہد وصی
میرے پیارے بہاریو!
ہماری ریاست جل رہی ہے اسے بچا لیجئے۔ اس ننگے ناچ میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنگوں اور فساد کی کچھ وجہیں ہوتی ہیں، اس نے پہلے پھینکا تو اس نے بعد میں یہ کہا، پولیس ان کی مدد کے لئے آئی، ہماری مدد کے لئے نہیں آئی، کہیں گائے کا گوشت پھینکناتو کہیں سور کو۔ یہ سب طریقے پرانے ہوچکے ہیں۔ آپ ان چکروں میں کیوں پڑے ہیں۔ کئی ضلعوں سے تناؤ کی خبریں آرہی ہیں۔ ان راج نیتاؤں کے چکر میں اپنا بھائی چارہ مت گنوائیے۔ نیتا آئیں گے اور چلے جائیں گے مگر آپ کو اپنے شہر میں ہی رہنا ہے۔ نکلئے چوراہے پر، پڑوسی کا دروازہ کھٹکھٹائیے اور آواز دیجئے کہ آپ دنگے کی اس ذہنیت کے خلاف ہیں۔ آپ ہندو ہوں یا مسلمان، تھانہ پولیس اور مندر مسجد کرکے کہیں نہیں پہنچے گے۔ آپ کے بچوں پر مقدمے ہوجائیں گے۔ پولیس کے روزنامچے میں گھر گھر میں فساد کے ملزم نظر آئیں گے اور آپ کے فرضی غصے اور جذبات کا فائدہ اٹھا کر نیتا عیش کریں گے۔
ہشیار رہئے!
کسی نے کچھ کیا بھی ہے تو اسے معاف کیجئے۔ حکومت ناکام اور ناکارہ ہوچکی ہے۔ اس کے پاس آپ سے کئے گئے وعدوں کو لے کر آنکھ ملانے کی ہمت نہیں بچی ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے آپ کا سامنا نہیں کرسکتی ہے کہ دیکھو میں نے یہ یہ وعدے کئے تھے ، جسے پورا کردیا۔ انہیں فساد کی چنگاڑیوں اور اس کی لپٹوں سے اٹھتے دھواں کا بہانا چاہئے تاکہ اس کی آڑ میں چھپ کر وہ آپ کا ووٹ لے جائیں۔ گھر آپ کا جل رہا ہوگا اور تاج ان کے سروں پر چمک رہا ہوگا۔
اِس کے خلاف یا اُس کے خلاف ، آپ کا نظریہ صحیح ہوگا مگر آپسی بحث کو نفرت میں مت بدلئے۔ گلے شکوے خوب کیجئے مگر دکانوں کو مت جلائیے۔ کسی پر پتھر مت پھینکئے۔ کسی کی جان مت لیجئے۔ اپنے دیکھنے اور سوچنے کا نظریہ بدلئے۔ یہ دیکھئے کہ آپ کے کالجوں کی حالت کیا ہے۔ لاکھوں طالب علموں کا گریجویشن نہیں ہورہا ہے۔ کسی کو نوکری نہیں مل رہی ہے اور بہت چالاکی سے نیتا آپ کو ہندو مسلم میں الجھا چکا ہے۔ آپ کو دنگائی اور فسادی بنایا جارہا ہے۔ آپ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، خود کو دنگائی بننے سے روکئے، مقدمے واپس لیجئے اور گلے مل کر گلے شکوے بھول جائیے۔
آپ ایک اچھے شہری ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے غصے سے واپس لوٹ آنے کا، سب کچھ چھوڑ اور بھول کر گلے ملنے کا۔ نیتا آپ کا گھر جلا رہا ہے اور آپ کہاں ہیں۔ بہار کہاں ہے۔ آپ لوگ باہر نکلئے۔ اس ریاست کو بچا لیجئے۔ نیتاؤں کو اب سمجھدار اور مضبوط ووٹر نہیں چاہئے، انہیں فساد اور دنگوں میں الجھا ہوا ووٹر چاہئے جو ان سے ان کے وعدوں کا حساب نہ پوچھے ، ان کا محاسبہ نہ کرے بلکہ اپنی انجان حفاظت اور فرضی خدشات کے لئے ان نتیاؤں پر انحصار کرنے لگے۔ امید ہے خود کو سمجھانے کا ایک موقع دیں گے۔ خود کو دنگائی بننے کا کوئی موقع کبھی نہیں دیں گے۔
آپ کا
رویش کمار
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں