اتوار، 25 فروری، 2018

دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

تازہ بہ تازہ 

(10)

دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک


جس نام سے طاغوت ہوا صورتِ اسپند
اس کو ہی زمانےمیں کہاجاتا ہےدیوبند

إذهــب إلى فــرعــون، إنـــه طغــى

🌠

: ـــ محمــد خــالــد ضيـاء النــدوي

(كتبتْ في العام الماضي، ويعاد نشرها اليوم بالمناسبة المماثلة)
هل تعرفون فرعون الساعة؟! فاعلموا أنه هوالبشار الجزار ، وماأدراك من البشارـــــ ؟ طاغوت طغى وبغى، علا وأفسد، وأهلك الحرث والنسل ــــــ! ظالم، تكبّر وتجبّر، ورأى أنه هو الرب الأعلى ــــــ! سفاك، ذبح آلافا من الأطفال والأبرياء،ورأى أنه هو البطل المغوار ـــــــ! رجل، آتاه الله الملك فاغتر بملكه، وقوته، وسلطانه ورأى أن ملكه لايبلى، وقوته لاتضعف، وسلطانه لايزول ــــ! جبار، لايعرف للرحمة معنىً، ولا يحمل في قلبه محبة ــــ! إنسان، قد تخطى الحدود الإنسانية، وتحول ذئباً ضارياً بل أشدّ منه ضراوةً ــــ! رجل، غاراته الجوية تدمّر " بلدالشام وحلب " تدميراً تدميراً، وتدكّ مبانيها دكاً دكاً ـــــ! قاتل، تقذف طياراته القنابل عليها قذفاً مستمراً بدون رحمة وهوادة، ودونما تفريق بين الرجال والنساء، وبين الشيوخ والشباب، وبين المسنين العاجزين، والأطفال الصغار الأبرياء ! 

ہفتہ، 24 فروری، 2018

کاش یہ بات تیــــرے گوش گراں تک پہنچے

بقلم: استاد محترم مولانا ســـراج اکـــرم ہاشمی 


راقم نے اپنی زندگی میں حضرات علمائے کرام کے بہت سے اختلافات دیکھے سنے پڑھے اور برتے؛ لیکن دل کبھی اس طرح خون کے آنسو نہیں رویا جیسا ابھی حالیہ چند دنوں سے رو رہا ہے،آنکھوں سے اشک ہائےغم بہ رہے ہیں،ہاتھ دعاؤں کےلیے اٹھ رہے ہیں اور یہ گناہوں سے آلودہ پیشانی دلوں میں الفت ومحبت پیدا کرنے والی ذات کے سامنے جھکی ہوئی بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ خدایا!ہندوستان کے موجودہ اختلافات کو دور فرما، بورڈ کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا، اس کی خامیوں کو دورکرکےملت کا اعتماد اس پر مزید بڑھا، ہماری عقیدت ومحبت کے مرکز حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کو جمہور امت کے ساتھ چلنے کی توفیق ارزانی کر اور ملت کی ہر شش جہت سے مادی ومعنوی حفاظت فرما!آمین ـ

جمعرات، 22 فروری، 2018

صنم والوں پہ پھر مرنےلگا پیرِ حرم اپنا


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

تازہ بہ تازہ
(8)

مری اولین خواہش، کوئی چوٹ کھا نہ پائے
تجھےفکر ہے یہ ہردم،کوئی مسکرا نہ پائے
مجھے سب خبر ہے،کیوں ہےیہ اسارتِ مسلسل
تری محفلِ ستم سے کوئی فرد جا نہ پائے
گئی جب سےاس چمن کی ترے ہاتھ پاسبانی
وہ حوادثات آئے، جنہیں ہم بھلا نہ پائے

بدھ، 21 فروری، 2018

میں بھی حاضرتھاوہاں

حیدر آباد میں منعقدہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کی آنکھوں دیکھی رپورٹ ملاحظہ کریں چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن غفران ساجد قاسمی کی زبانی 


گذشتہ دنوں ہندوستانی مسلمانوں کامتحدہ ومتفقہ پلیٹ فارم آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکاچھبیسواں سہ روزہ اجلاس حیدرابادکی سرزمین پرمنعقدہوا۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقدہواجب ملک میں مسلمان ہرچہارجانب سے گھراہواہے اوراس کی شریعت پرحکومت کی جانب سے پے درپے حملے کئے جارہے ہیں۔ملکی مسائل سے صرف نظرکرتے ہوئے ایسے مسائل کوعوام کے سامنے ضروری اوراہم بناکرپیش کیاجارہاہے جوکہ بالکل غیرضروری اورغیراہم ہیں۔اورسب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیااس میں سب سے اہم کردارنبھارہاہے۔میڈیاجسے جمہوریت کاچوتھا ستون کہا جاتا تھا حقیقت یہ ہے کہ اب میڈیاکی وہ حیثیت ختم ہوچکی ہے۔اوراب جمہوریت صرف تین ستونوں کے سہارے قائم ہے۔ گذشتہ دنوں جب سپریم کورٹ کے چارججوں کی پبلک پریس کانفرنس ہوئی جس میں انہوں نے نہایت ہی واضح اندازمیں عدلیہ کے اندرہورہی بدعنوانیوں کواجاگرکیا، جس سے ملک کے سواسوکڑورآبادی کاعدلیہ پرسے بھی اعتمادمتزلزل ہوا۔لیکن پھربھی ہمیں عدلیہ پربھروسا ہے اوریہ ہماری مجبوری بھی ہے کہ عدلیہ کے علاوہ ہمارے پاس دوسراکوئی ادارہ نہیں جس پرہم اپنااعتمادجتاسکیں۔

جمعہ، 16 فروری، 2018

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 6: قتلِ آدم سے بڑا جرم ہے قتلِ انصاف

✏ فضیل احمد ناصری

حسنِ تہذیب و شرافت کو جفا کہتے ہیں
کام اچھا ہو تو لوگ اس کو برا کہتے ہیں

سامنے آ نہ سکے، وار کرے پیچھے سے
اسکو بزدل نہیں کہتے ہیں توکیاکہتےہیں

عصرِحاضر میں ہے معکوس ترقی کو فروغ
روگ کو راگ، تو ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

ہم خطا کار سہی، ہم کو غلط مت جانو
مفتئ وقت ہی جب اس کو روا کہتے ہیں

ایسا اعصاب پہ حاوی ہے یہاں رنگِ فرنگ
لوگ یورپ کو ہی اب قبلہ نما کہتے ہیں

دین پر آپ چلیں، آپ ہیں غدّارِ وطن
بت پرستی کو یہاں خوئے وفا کہتے ہیں

آبِ زمزم ہی پیو، جام کے چکر چھوڑو
مے کو سب اہلِ خِرَد لغزشِ پا کہتے ہیں

قتلِ آدم سے بڑا جرم ہے قتلِ انصاف
اہلِ دل ظلم کو آفت کی صدا کہتے ہیں

رسمِ حق گوئی، زمانہ ہوا مرحوم ہوئی
اب تو سب لوگ ہی صرصرکو صباکہتے ہیں

جمعرات، 15 فروری، 2018

حضرت مولانا سلمان ندوی: تری بربادئ پیہم نے چھینا ہے سکوں میرا

✏ فضیل احمد ناصری

بابری مسجد کو لے کر گزشتہ تین چار دنوں سے مخدومِ گرامی حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب زید مجدہم خانگی ذرائعِ ابلاغ (سوشل میڈیا) کا موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ مثبت منفی ہر طرح کے تبصرے ہیں۔ افراط و تفریط سے پر۔ بعض تبصرے اس قدر جانب دارانہ کہ گویا ان کا عمل عینِ اسلام ہو۔ بعض تبصرے ایسے جارحانہ کہ متعلق اور غیرمتعلق، جھوٹ اور سچ سب کی آمیزش۔ ردِ عمل کے سیلاب میں ہر کوئی پھنسا ہوا۔ بڑے خاموش ہیں اور چھوٹے بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں۔ 

مولانا تو ایسے نہ تھے
مولانا کے خلاف تحریریں پڑھ کر اس قدر صدمے میں ہوں کہ بیان سے باہر۔ اللہ انہیں عمرِ خضر عطا فرمائے۔ ان کی خبرِ وفات سے ایسا دھچکا نہ لگتا، جیسا اس وقت لگا ہے۔ یہ ایک عظیم سانحہ ہے۔ سچ کہیے تو مجھے دو تین دنوں سے کھانا اچھا نہیں لگ رہا۔ سکون درہم برہم ہے۔ عجیب بے چینی اور الجھن ہے۔ ردِ عمل کا نشانہ کوئی سیاسی مسلمان ہوتا، یا کوئی غیر عالم ہوتا تو اس قدر تکلیف نہ ہوتی۔ یہاں تو مولانا ہی اس کا نشانہ بن گئے۔ آہ! کیسی بلندی اور کیسی پستی!!! کہاں تو پلکوں پر بٹھائے جاتے تھے۔ ہر مجمع ان کا منتظر۔ ہر ہجوم ان کا چشم براہ۔ ان کی دھواں دھار تقریریں ہوتیں اور سامعین گوش برآواز۔ اٌدھر جوش سے لبریز سے حکایتیں۔ اِدھر جوش سے لبریز سماعتیں۔ تعریفوں کے پل باندھے جاتے۔ ان کی موجودگی جلسے کی کامیابی کی ضمانت۔ لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کایا پلٹ چکی ہے۔ منظر بدل چکا ہے۔ سپیدۂ سحر سرخئ شفق میں تبدیل ہو چکا۔ مولانا کے چاہنے والے ان سے بد دل ہو گئے۔ ان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ انہیں سخت سست کہا جارہا ہے۔ 

غزل


⬅ حسیب الرحمٰن شائق


اب تیرگئ شب سے شکایت نہیں ہوتی
تنہائئ پیہم سے بھی وحشت نہیں ہوتی
وہ آہِ سحرگاہی کہاں ,نالۂ وشیون؟
اب گھر میں مسلماں کےتلاوت نہیں ہوتی

منگل، 13 فروری، 2018

تازہ بہ تازہ، سلسلہ4/5:


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 


(4) 

صنم خانے کے آگے۔۔۔ 

نگوں پھر ملتِ بیضا کا پرچم کر دیا تو نے
حرم والوں کو رسوائے دو عالم کر دیا تو نے
غبار آلودۂ کفر و ضلالت ہے جبیں تیری
صنم خانے کے آگے اپنا سر خم کر دیا تو نے
وکالت کر کے تو نے آج گوسالہ پرستوں کی

اعتراف محاسن احباب

معاصر کے محاسن کا اعتراف، رفیقوں کی خوبیوں کا استحسان اور دوستوں کے کمالوں کے تذکرے اب صرف کتابوں میں پڑھنے کو ملتےہیں۔ خود نمائی وخود ستائی کی نحوست نے ہمیں اپنی ذات میں اس قدر محبوس کردیا ہے کہ بیرونی دنیا کی خوبصورتی ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ ہم اس قدر اپنے آپ کو کمالات وفضائل سے مرصع تصور کرنے لگے ہیں کہ غیروں کے محاسن اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ بھی ہمارے اندر سے داد تحسین وصول نہیں کراپاتے۔ ایسے شب تار میں اگر کسی کونے سے کوئی دیا ٹمٹماتا ہے جو استعجاب کے ساتھ ساتھ خوش ومسرت کے جذبات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔

اتوار، 11 فروری، 2018

یہ آنسو آنکھ سے آئے نہیں ہیں دل سے آئے ہیں

محمد خالد ضیا صدیقی ندوی 

ان دنوں قضیۂ مسجدبابری پھرسرخیوں میں ہے،اسے سرخیوں میں ہونابھی چاہیے کہ شہادت اپنےبعد "سرخی اورسرخ روئی" ہی کاپیغام دیاکرتی ہے۔  ـ
زورہی کیاتھاجفائے باغباں دیکھاکیے
آشیاں اجڑاکیا، ہم ناتواں دیکھــاکیے
استاد محترم مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کی ایک رائے آئی۔ اس کا ایک جماعت کی طرف سے محبت کے ساتھ استقبال کیاگیاتودوسری جماعت کی طرف سے نفرت وعداوت سے؛ افسوس کہ دونوں جماعتیں راہ اعتدال سے ہٹتی ہوئی نظر آئیں۔  ایک نے محبت وعقیدت میں افراط اورغلو کارویہ اپنایا، تودوسری نے تفریط وعداوت کا۔ دونوں جماعت کی نظر سے جوچیز غائب رہی وہ تھی "اعتدال"ـ۔ اہل علم مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ بے اعتدالی (افراط وتفریط) کی مذمت سے قرآن وحدیث لبریز ہیں؛ گمراہ قوموں کی گمراہی کاایک بڑاسبب یہی بے اعتدالی رہی ہے ـ ـ ـ

ہو حلقه یاراں تو بریشم کی طرح نرم

احتشام الحق قاسمی رامپوری 

ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے باوقار اور متفقه اداره مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے جسکا ایک اہم اجلاس ان دنوں حیدرآباد میں جاری ہے ، لیکن میٹنگ اور اجلاس سے پہلے جو طوفان اٹھا، یا اٹھایا گیا وه تهمنے کا نام نہیں لے رہاہے۔ ایک طرف پوری حکومت اسکی مشینری اور مین اسٹریم میڈیا بورڈ کے وجود کو ته و بالا کرنے پر تلی ہوئی ہے تو وہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تاسیسی حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب بورڈ کے خلاف مورچه کھول کر اسکی آبرو سے کھیل رہے ہیں اور میڈیا کی زینت بن کر ہندوستانی مسلمانوں کے متفقه موقف سے انحراف کرکے اعداء دین و شریعت سے داد وصول کررہے ہیں۔ یوں تو مولانا سلمان ندوی اپنی بے باکی، شعله بیانی اور خطیبانه سحر انگیزی کیلئے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ دنیا انہیں ایک عبقری شخصیت عالم ربانی اور علماء حقه

ہفتہ، 10 فروری، 2018

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 1/2/3:


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

(1)

اب گدا گر ہیں 


ہماری ملتِ بیضا ہی سب پہ چھائی رہی
اگرچہ بولَہَبوں سے سدا لڑائی رہی
جہاں جہاں سےبھی گزرے،ہمیں رہےفاتح
ہمارے زیرِ قدم کفر کی خدائی رہی
مقابلہ تھا سکندر میں اور قلندر میں
شہنشہی سے فزوں تر مری گدائی رہی

ہفتہ، 3 فروری، 2018

یہ زباں کسی نے خرید لی یہ قلم کسی کا غلام ہے

  • احتشام الحق قاسمی رامپوری 

یوں تو کہنے کیلئے ہمارے ملک میں جمہوریت ہے اور جمہوریت کے چاروں ستون ’مقننه ، عدلیه ، انتظامیه اور میڈیا ‘اپنی جگه موجود ہیں، لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو مجموعی اعتبار سے موجوده وقت میں مقننه اور انتظامیه کی گاڑی ہندوتوا کے رتھ پر بھگوا جھنڈا گاڑتے ہوئے منواسمرتی کی طرف رواں دواں ہے۔ جہاں تک عدلیه کی بات ہے تو عدلیه میں کیا کچھ چل رہاہے؟ اور کس طرح سنگھی ٹوله عدلیه کی آزادی پر شبخون مار رہاہے ، پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چار فاضل ججوں نے پریس کانفرنس کرکے عدلیه کی حقیقت حال بیان کردی اور من مانے فیصلے اور بینچ فکسنگ کا معامله اجاگر کرتے ہوئے جمہوریت پر خطره کا اندیشه ظاہر کیا۔ بیتے ہفتوں اس پر لگا تار بحثیں ہوئیں۔ ممکن ہے که ان چاروں ججوں کی کانفرنس عدلیه کی آزادی و خود مختاری کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو۔لیکن جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا ہے خواه وه الکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا اس کی حقیقت ملاحظہ کریں۔