حیدر آباد میں منعقدہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کی آنکھوں دیکھی رپورٹ ملاحظہ کریں چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن غفران ساجد قاسمی کی زبانی
گذشتہ دنوں ہندوستانی مسلمانوں کامتحدہ ومتفقہ پلیٹ فارم آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکاچھبیسواں سہ روزہ اجلاس حیدرابادکی سرزمین پرمنعقدہوا۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقدہواجب ملک میں مسلمان ہرچہارجانب سے گھراہواہے اوراس کی شریعت پرحکومت کی جانب سے پے درپے حملے کئے جارہے ہیں۔ملکی مسائل سے صرف نظرکرتے ہوئے ایسے مسائل کوعوام کے سامنے ضروری اوراہم بناکرپیش کیاجارہاہے جوکہ بالکل غیرضروری اورغیراہم ہیں۔اورسب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیااس میں سب سے اہم کردارنبھارہاہے۔میڈیاجسے جمہوریت کاچوتھا ستون کہا جاتا تھا حقیقت یہ ہے کہ اب میڈیاکی وہ حیثیت ختم ہوچکی ہے۔اوراب جمہوریت صرف تین ستونوں کے سہارے قائم ہے۔ گذشتہ دنوں جب سپریم کورٹ کے چارججوں کی پبلک پریس کانفرنس ہوئی جس میں انہوں نے نہایت ہی واضح اندازمیں عدلیہ کے اندرہورہی بدعنوانیوں کواجاگرکیا، جس سے ملک کے سواسوکڑورآبادی کاعدلیہ پرسے بھی اعتمادمتزلزل ہوا۔لیکن پھربھی ہمیں عدلیہ پربھروسا ہے اوریہ ہماری مجبوری بھی ہے کہ عدلیہ کے علاوہ ہمارے پاس دوسراکوئی ادارہ نہیں جس پرہم اپنااعتمادجتاسکیں۔
بہرحال آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کایہ اجلاس حالات کی نزاکت اورنوعیت کے اعتبارسے انتہائی اہمیت کاحامل تھا۔بورڈ چونکہ ہندوستانی مسلمانوں کانمائندہ اورباوقارپلیٹ فارم ہے۔اسلئے بورڈ کے اراکین اورمدعوئین بھی ملک بھرسے چنیدہ اورمنتخب افراد ہوتے ہیں جواپنے اپنے علاقوں میں انتہائی باوقاراورملت کے نمائندہ فردکہلاتے ہیں۔حیدرآبادکایہ اجلاس نقیب ملت جناب بیرسٹراسدالدین اویسی اوران کے رفقاء کارکی میزبانی میں منعقدہوا تھا۔میزبانوں کے حسن انتظام نے مہمانوں کے قلب وجگرکوخوب ٹھنڈک پہونچائی اورہرشخص میزبانوں کے حسن انتظام میں رطب اللسان تھا۔حسب روایت سب سے پہلے جمعہ کے دن بعد نماز مغرب اویسی ہسپتال کے کانفرنس ہال میں بورڈ کی مجلس عاملہ کااجلاس شروع ہوا۔اجلاس کی اہمیت کے مدنظرچاروں جانب سخت سیکوریٹی کاانتظام تھااورصرف عاملہ کے اراکین ہی کوکانفرنس ہال تک جانے کی اجازت تھی،اس کامشاہدہ مجھے بذات خودگذشتہ سال کلکتہ اجلاس میں بھی ہوچکاتھا، جہاں بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولاناسیدمحمدولی رحمانی صاحب مدظلہ کو گیٹ پراپناکارڈ دکھاناپڑااوراس کے بعدوہ اندرداخل ہوئے۔ظاہرسی بات ہے کہ بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کاسب سے باوقار،متحدہ ،متفقہ اورنمائندہ پلیٹ فارم ہے تواس کی عاملہ بھی ویسے ہی ہائی پروفائل شخصیات پرمشتمل ہوگی۔عاملہ ایک ایسی مجلس ہے جہاں بہت ہی اہم،حساس اورنازک مسائل پرگفتگوہوتی ہے اوراسی میں فیصلے بھی لئے جاتے ہیں ۔ایسی مجلس میں ہرکس وناکس کی رسائی ہونی بھی نہیں چاہیئے ۔اس مرتبہ کااجلاس اس اعتبارسے بھی اہمیت کاحامل تھااورمیڈیاوالوں کی نگاہ اس پرٹکی تھی کیوں کہ مودی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے طلاق ثلاثہ بل پربحث ہونی تھی اورکیوں نہ ہوکیوں کہ یہ براہ راست شریعت میں مداخلت ہے تووہیں دوسری جانب بابری مسجدکے مسائل پربھی بحث ہونی تھی کیوں کہ میڈیارپورٹس کے مطابق بابری مسجدکی سماعت کی تاریخ متعین ہوچکی ہے اوربہت جلداس کافیصلہ آنے والاہے۔اسی دوران ایک ایساواقعہ پیش آگیاجویقیناامت مسلمہ کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں تھا۔ٹھیک انہی دنوں جب کہ بورڈ کے اجلاس کی تیاری مکمل ہوچکی تھی بورڈ کے ایک اہم اورقدیم رکن حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ العالی کی ایک ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہوگئی جس میں انہیں ہندوؤں کے دھرم گروشری شری روی شنکرکے ساتھ بابری مسجدمعاملہ پرگفتگوکرتے ہوئے دکھایاگیاتھااورویڈیوکے مطابق مولانانے اپنایہ موقف بیان کیاکہ ہم بابری مسجدسے دستبردارہوجائیں گے بشرطیکہ اس سے بڑی جگہ ہمیں دی جائے جہاں مسجداوریونیورسٹی کاقیام عمل میں لایاجاسکے اوراس کے علاوہ بھی کچھ شرائط تھیں۔اس ویڈیوکے وائرل ہوتے ہی مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہردوڑگئی اورخودبورڈ کے اعلیٰ عہدیداران اوراراکین ومدعوئین کے لئے آزمائش کی گھڑی آگئی کیوں کہ حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کی شخصیت صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ عالم عرب میں بھی مسلم ہے،وہ بہترین خطیب،مفسرقرآن،محدث اوراستاذالاساتذہ ہیں۔قوم وملت اوردین وشریعت کے لئے ان کی خدمات عظیم ہیں۔جب وہ بولتے ہیں تولوگوں کے ذہن ودماغ کوجھنجھوڑکررکھ دیتے ہیں،ان میں کسی بھی بڑے سے بڑے مجمع کے رخ کوموڑدینے کی بدرجہ اتم صلاحیت موجودہے اورجب وہ لکھتے ہیں توبڑاسے بڑاقلم کاران کے سامنے اپنے آپ کوبونامحسوس کرتاہے۔اللہ نے انہیں ہمہ جہت صلاحیتوں سے نوازاہے اوراسی طرح ان کی خدمات کادائرہ کاربھی بہت وسیع ہے۔بورڈ کے تقریباگذشتہ تیس سالوں سے وہ رکن ہیں اورہمیشہ ہراسٹیج سے انہوں نے بورڈ کی نمائندگی کی ہے اوراس کی بہترین ترجمانی کافریضہ انجام دیاہے۔ہرچھوٹابڑاشخص ان کی علمی صلاحیت کاقدردان اوران کی وسیع دینی وملی خدمات کاصدق دل سے معترف ہے؛ لیکن بابری مسجدکے سلسلہ میں ان کے اس ویڈیونے ہرقلب سلیم کومضطرکردیا،ہروہ شخص جوان سے کسی نہ کسی درجہ میں محبت رکھتاہے اسے متفکرکردیاکیوں کہ مولاناکایہ موقف بورڈ کے قدیم اوراٹل موقف کے بالکل مخالف تھا۔ان کا یہ موقف صرف بورڈ کے موقف کے ہی خلاف نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی تمام دینی وملی تنظیموں کے موقف کے بھی خلاف ہے، تمام تنظیموں کا شروع سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ بابری مسجدشرعی طورپرمسجدہی ہے اوریہ کہ اس کی زمین موقوفہ جائیدادہے جس کے ہم صرف متولی ہیں،کسی فردیاجماعت کویہ اختیارحاصل نہیں کہ بابری مسجدکی زمین کی حق ملکیت سے دستبردارہوجائے یااس زمین کوکسی کوتحفہ میں دیدے۔جب سے بابری مسجدکاقضیہ تخلیق کیاگیاہے اس وقت سے لے کرآج تک اکابرامت اپنے اس موقف پرقائم ہیں اوران کایہ عہدہے کہ آخری سانس تک اپنے اس موقف پرقائم رہیں گے؛ لیکن عین ایسے وقت پرجب کہ بابری مسجدکی سماعت عدالت عظمیٰ میں شروع ہونے والی ہے، مولانانے اپنایہ موقف پیش کرکے امت مسلمہ کی کشتی کوبیچ منجدھارمیں لاکرکھڑاکردیا۔ ایسے نازک وقت میں بورڈ کی عاملہ میں اس حساس مسئلہ کااٹھنایااٹھایاجانافطری امرتھالہذاایساہی ہوااوربورڈ نے ان سے اپناموقف رکھنے کوکہا۔یہاں پرمیں ایک بات واضح کردیناچاہتاہوں کہ چوں کہ میں مجلس عاملہ میں شریک نہیں تھالہٰذامیں عاملہ میں پیش آنے والے واقعات کاچشم دیدگواہ تونہیں ہوں؛ لیکن عاملہ کے معززاراکین سے میری بات ہوئی جس کی روشنی میں، مَیں یہاں پوری دیانت کے ساتھ وہی باتیں لکھ رہاہوں جومجھے عاملہ کے معززاراکین کے ذریعہ معلوم ہوئیں۔میں یہ بھی واضح کردیناچاہتاہوں کہ اجلاس گاہ سے باہرسوشل میڈیاپرجس طرح کی افواہیں چل رہی ہیں حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف افواہ ہی ہیں،حقائق سے ان کادوردورتک کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیامیں بورڈ کے حوالے سے وہی لوگ گفتگوکررہے ہیں جوبذات خودبورڈ کے اجلاس میں شریک بھی نہیں تھے اورنہ ہی ان حضرات کاکوئی معتبراورمصدقہ ذریعہ تھاجس سے وہ حقیقت تک پہونچ سکیں،لیکن الامان والحفیظ!!! سوشل میڈیاپرجس طرح اکابرامت اورقائدین ملت کے ساتھ ساتھ حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کی شخصیت پرکیچڑاچھالاجارہاہے ،ان کی کردارکشی کی جارہی ہے یقینایہ بہت ہی افسوسناک اورقابل مذمت امرہے۔بورڈ کے ذمہ داران کارویہ حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کے ساتھ بہت ہی معتدل رہاہے ۔سوشل میڈیامیں گشت کرنے والی باتیں اتنی خطرناک اورملت کے شیرازہ کومنتشرکرنے والی ہیں کہ اگروقت رہتے ان کاازالہ نہیں کیاگیاتوفکرونظرکایہ معمولی اختلاف پوری امت کوتباہی کے دہانے پرڈھکیل دے گا۔اختلافات زندہ قوموں کی علامت ہے۔حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ نے جوموقف پیش کیاہے ہم جانتے ہیں کہ وہ موقف سوادامت کے خلاف ہے؛ لیکن صرف اس موقف کی وجہ سے حضرت مولاناکی شخصیت کومطعون کرنا،ان کی کردارکشی کرنااوران کی نیت پرشبہ کرنایقینایہ بہت بڑا جرم ہے، اس جرم عظیم کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔آج میرے اس مضمون کے لکھنے کامقصدبھی ان شکوک وشبہات کاازالہ کرناہے جوبورڈ اورحضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کے درمیان سوشل میڈیاکی یونیورسٹی نے پیداکردیاہے۔میں اپنے اس موقف پرقائم ہوں کہ حضرت مولاناسیدسلمان ندوی مدظلہ کے اس موقف کے باوجودمیں ان کی نیت پرشک کرنے کے لئے تیارنہیں ہوں اورامیدکرتاہوں کہ حضرت والاانشاء اللہ بہت جلداپنے اس موقف سے رجوع کریں گے اورملت کے وسیع ترمفادات کے لئے حسب سابق خدمات انجام دیتے رہیں گے انشاءاللہ۔ذیل میں ان باتوں کی نشاندہی اوروضاحت کروں گاجس کے متعلق سوشل میڈیامیں افواہوں کابازارگرم ہے اوردونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے کولعن طعن کرنے میں مصروف ہیں۔افسوس یہ دیکھ کرہوتاہے کہ سوشل میڈیائی مفکرین کی بڑی تعداداس معاملہ پراس طرح سے نازیباتبصرہ کررہی ہے جیسے کہ یہ ان کاپیدائشی حق ہے اوریہ تبصرے عموماراہ اعتدال سے ہٹ کرکردارکشی پرمبنی ہیں اوریہ تبصرے وہ لوگ کررہے ہیں جن کابورڈ کے اجلاس سے دوردورکابھی واسطہ نہیں اورحقائق سے بالکل بے خبرہیں ۔میں کوشش کروں گا کہ آنے والی سطروں میں ان حقائق کوپیش کروں جوسوشل میڈیاکے منظرنامہ سے بالکلیہ غائب ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے صرف افواہوں کوپھیلانے اور جھوٹ کوفروغ دینے کاکام کیاجارہاہے۔
سب سے پہلے میں اس واقعہ کی حقیقت بیان کرناچاہوں گاجس کی وجہ سے ناواقف حضرات بورڈ کی کارروائی پرسوالیہ نشان لگارہے ہیں اوربورڈ کی قیادت کوموردالزام ٹھہرارہے ہیں جوکہ سراسرغلط ہے۔سوشل میڈیاکے مطابق بورڈ کی مجلس عاملہ میں حضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب مدظلہ العالی کواپنی بات رکھنے کاموقع نہیں دیاگیااورعاملہ کے چنداراکین نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور"ہلڑبازی،، کی۔یہ افواہ انتہائی افسوسناک اورگمراہ کن ہے۔آپ کومعلوم ہوناچاہئے کہ اس طرح کی افواہوں سے ہمارے ان تمام اکابرامت کی کردارکشی ہوتی ہے جوعاملہ کے رکن رکین ہیں اورجولوگ اس وقت مجلس عاملہ میں موجودتھے۔بالخصوص بورڈ کے قائداوربورڈ کے سربراہ نمونہ اسلاف حضرت مولاناسیدمحمدرابع حسنی ندوی حفظہ اللہ ورعاہ،اسی طرح جمعیۃ علمائے ہندکے صدرحضرت مولاناسیدارشدمدنی مدظلہ العالی اطال اللہ عمرہ ،فقیہ العصرحضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی ،جمعیۃ علمائے ہندکے جنرل سکریٹری حضرت مولانامحمودمدنی مدظلہ،بورڈ کے فعال جنرل سکریٹری حضرت مولاناسیدمحمدولی رحمانی مدظلہ العالی یہ تمام وہ حضرات ہیں جواپنے وقت کے مدبرومفکراورقوم وملت کے مخلص قائدہیں جن کی دانشمندانہ ومدبرانہ قیادت کے خوف سے حکومت وقت بورڈ میں انتشارپھیلانے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہے۔جب میرے کانوں تک یہ بات پہونچی تومیں نے اس واقعہ کی تحقیق کے لئے بورڈ کے سکریٹری مولانامحمدعمرین محفوظ رحمانی صاحب سے رابطہ کیااوران سے معلوم کیاتوانہوں نے کہاکہ حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ بورڈ کے بہت ہی قدیم رکن ہیں اوربورڈ میں ان کی حیثیت ایک مسلمہ قائدکی ہے،لہٰذاجب وہ عاملہ کی میٹنگ میں شریک ہوئے توانہیں اپناموقف رکھنے کے لئے کہاگیا؛ لیکن؛ وہ اپناموقف رکھنے کے بجائے طویل تقریر کرنے لگے جس کی وجہ سے انہیں بیچ میں روکاگیا۔بورڈ کی قیادت بارباراصرارکرتی رہی کہ آپ اپنے موقف سے دستبردارہوجائیں؛ کیوں کہ بورڈ کاشروع سے ہی یہ موقف ہے کہ بابری مسجدکی زمین وقف کی ہے اورہمیں اس کوبیچنے یاہدیہ کرنے کاکوئی اختیارنہیں ہے اورآخری دم تک ہم بابری مسجدکی بازیابی کی لڑائی لڑتے رہیں گے؛ لیکن انہوں نے کسی کی نہیں مانی۔اسی دوران بورڈ کے سکریٹری اورترجمان حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی نے انتہائی عاجزی اورادب واحترام کے ساتھ حضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب مدظلہ سے درخواست کی کہ ٹھیک ہے اگرآپ اپنے موقف کودرست سمجھتے ہیں؛ لیکن ملت کے وسیع ترمفادات کودیکھتے ہوئے ہم دست بستہ آپ سے گذارش کرتے ہیں کہ آپ اپنے موقف سے دستبردارہوجائیں اوربورڈ کے موقف کے مطابق کام کریں؛ لیکن اس پربھی وہ نہ مانے۔بعدمیں حضرت مولاناسیدارشدمدنی صاحب مدظلہ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ۔پھرجب میں نے بذات خودحضرت الاستاذ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی سے عاملہ کی میٹنگ میں شورشرابہ اوربدتمیزی کی بابت پوچھاتوانہوں نے بھی سرے سے انکارکیا۔البتہ مولاناعمرین محفوظ رحمانی مدظلہ نے ایک بات یہ فرمائی کہ جب حضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب مدظلہ خاموش نہیں ہورہے تھے اور اپنی بات کو طول دے رہے تھے تواس دوران ایک دوممبران کی آوازتیزضرورہوئی؛ لیکن بدتمیزی یاہلڑبازی کاکسی قسم کاکوئی واقعہ پیش نہیں آیااورسوشل میڈیاپرگشت کرنے والی اس طرح کی خبریں سراسرجھوٹ اور افواہ پرمبنی ہیں جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح ایک دوسراجھوٹ جوسوشل میڈیاپرگشت کررہاہے وہ یہ ہے کہ حضرت مولاناسیدسلمان ندوی مدظلہ العالی کواپنی بات رکھنے کاموقع نہیں دیاگیااوربورڈ نے عاجلانہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں بورڈ سے باہرکاراستہ دکھادیا جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔جب مجلس عاملہ میں حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ اپنی بات پراڑے رہےاورانہوں نے بورڈ کے موقف کاکوئی خیال نہیں کیاتوبورڈ نے ان کے معاملات کی چھان بین اوران سے گفت وشنیدکے لئے چاررکنی کمیٹی تشکیل دی، جس میں صدربورڈ حضرت مولاناسیدمحمدرابع حسنی ندوی مدظلہ،جنرل سکریٹری حضرت مولاناسیدمحمدولی رحمانی مدظلہ،سکریٹری حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ،بورڈ کی عاملہ کے رکن اورجمعیۃ علمائے ہندکے صدرحضرت مولاناسیدارشدمدنی مدظلہ شامل تھے۔اس سلسلہ میں جب میں نے حضرت الاستاذ مولاناسیدارشدمدنی صاحب مدظلہ العالی سے بات کی توانہوں نے کہاکہ مولاناسیدسلمان ندوی صاحب نے ہم لوگوں کوموقع ہی نہیں دیابات کرنے کا۔حالانکہ ان کے خاندان کے افرادنے مجھ سے کہاکہ آپ ہی انہیں سمجھاسکتے ہیں اورکسی طرح انہیں ان کے موقف سے ہٹائیں؛ لیکن قبل اس کے کہ ہم لوگ ان سے کوئی بات کرتے وہ میڈیامیں چلے گئے اورمیڈیامیں جاکربورڈ کے خلاف بیان بازی شروع کردی اوربورڈ سے اپنی علاحدگی کااعلان کردیا۔میں (راقم الحروف) خوداس بات کاگواہ ہوں کہ جب 10؍فروری شنبہ کے دن بورڈ کے اجلاس کی پہلی نشست کی کارروائی شروع ہونے والی تھی ٹھیک اسی وقت بصیرت آن لائن کے ایڈیٹرمظفررحمانی صاحب کافون آیاکہ یہ کیاہورہاہے ،ایک طرف بورڈ کااجلاس جاری ہے تودوسری جانب حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ انڈیاٹی وی پرلائیو انٹرویودے رہے ہیں اوربورڈ کی مخالفت کررہے ہیں۔حضرت مولانا بورڈکی مخالفت میں بہت ساری وہ باتیں کہہ گئے جوانہیں کسی بھی صورت میں نہیں کہنی چاہیئے تھی۔ان واقعات کوبھی سبھوں نے اپنے سرکی آنکھوں سے دیکھا۔یہ واقعہ شنبہ 10؍فروری کاہے ۔جب کہ حضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب کی رکنیت کی منسوخی کااعلان دوسرے دن یکشنبہ 11؍فروری کوآخر ی نشست میں کیاگیا۔یہاں بھی یہ بات قابل غورہے کہ وہ تجویزجس میں حضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب کی رکنیت کی منسوخی کااعلان تھاجسے بورڈ کے سکریٹری جناب ظفریاب جیلانی نے پڑھ کرسنایااس میں اس طرح سے لکھاگیاکہ جب حضرت مولاناسلمان ندوی صاحب نے خودہی بورڈ سے علاحدگی کااعلان کردیاہے توبورڈ ان کی علاحدگی کوقبول کرتاہے اوراب سے وہ بورڈ کے رکن نہیں رہے۔غورفرمائیں کہ بورڈ نےکس محتاط اندازمیں حضرت مولاناسلمان ندوی صاحب کے خلاف کارروائی کی ۔حالانکہ اس تجویزکے بعدبورڈ کے کئی معززاراکین نے بورڈ کے اس محتاط رویہ کی مخالفت کرتے ہوئے بورڈ سے یہ مطالبہ کیاکہ چونکہ مولاناسلمان ندوی صاحب بورڈ کے موقف کے خلاف جارہے ہیں لہٰذاان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اوریہ لکھاجائے کہ بورڈ ان کااخراج کرتاہے اوران کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتاہے؛ لیکن بورڈ کی قیادت اورجنرل سکریٹری نے اس کوردکردیااورکہاکہ اتناکافی ہے۔
آپ تمام واقعات پرغورکریں اورپھرسوچیں کہ بورڈ نے عجلت پسندی کامظاہرہ کیایاخودحضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ نے ؟حقیقت یہ ہے کہ اگرحضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب ٹی وی پرنہ جاتے اوروہ بورڈ کے اجلاس کے بقیہ حصے میں شریک ہوتے یااگرشریک نہ ہوتے کم ازکم بورڈ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرتے توبات شایداتنی نہ بڑھتی جتنی کہ مولانامدظلہ کے ٹی وی پرجانے سے بڑھی۔اس وقت نیشنل میڈیاکامسلمانوں کے تعلق سے جومتعصبانہ رویہ ہے وہ جگ ظاہرہے،یہ میڈیاہی ہے جوآئے دن مسلمانوں کے سامنے مسائل کاانبارکھڑاکرتاجارہاہے اورمیڈیاچاہتاہی یہی ہے کہ اسے کچھ ایسے ایشوزہاتھ لگیں جس پر وہ کم ازکم ہفتوں مرچ مسالہ لگاکراپنی شرانگیزی کامظاہرہ کرتارہے۔اب دیکھئے کیاہوا،کل تک جومیڈیاحضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب کے اس انٹرویوکوبڑے کروفرکے ساتھ نشرکررہاتھاآج اسی انڈیاٹی وی کے ایک رپورٹرنے آج ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں ان مساجدکی فہرست شمارکرائی ہے جن کا نمبر بابری مسجدسے دستبرداری کے بعد آئے گا،کیاہم نے سوچاکہ ہم کیاکررہے ہیں اوراپنے عمل سے کس بڑی مصیبت کودعوت دے رہے ہیں۔یہ بات بھی میڈیامیں آچکی ہے کہ سنگھ پریوار نے تقریباتین ہزارمساجدکی فہرست تیارکررکھی ہے جن کے بارے میں ان کادعویٰ ہے کہ یہ تمام مساجدمندرتوڑکربنائی گئی ہیں لہٰذایہ تمام مساجدہمیں چاہئیں۔اس سلسلہ میں حضرت مولاناسیدارشدمدنی مدظلہ کی یہ بات سوفیصددرست ہے کہ ہم کون ہوتے ہیں زمین دینے والے،یہ وقف جائیدادہے اورموقوفہ جائیدادکسی کی ملکیت نہیں ہوتی،ہم صرف اس کے متولی اورمنتظم ہیں،یہ الگ بات ہے کہ حکومت اپنے تسلط سے یااکثریتی قوم ظلم وجبرسے کوئی شئی ہم سے چھین لے تواس وقت ہم مجبوراوربے بس ہوں گے؛ لیکن جب تک ہمیں اختیارحاصل ہے اس وقت تک ہم اپنی مسجدکے لئے لڑتے رہیں گے۔حضرت مولاناسیدارشدمدنی صاحب مدظلہ نے فرمایاکہ اگردیناہی ہوتاتوآج سے سترسال قبل ہمارے اکابرمولاناابوالکلام آزادؒ،مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ،مولانامفتی کفایت اللہ ؒ،مولاناحسین احمدمدنی وغیرہ نے نہ دیدیاہوتا،کیاہم ان سے زیادہ دوراندیش اورمصلحت اندیش ہیں۔مولانانے اپنی بات پرزوردیتے ہوئے یہاں تک کہاکہ اگربالفرض خدانخواستہ کسی وجہ سے مسلم پرسنل لاء بورڈ بابری مسجدقضیہ سے علاحدہ بھی ہوجاتا ہے تویادرکھیں! جمعیۃ علمائے ہنداس مقدمہ کولڑتی رہے گی اوروہ یہ لڑائی آخر تک لڑے گی۔
آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کی شان ہے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ہی اس وقت وہ واحدادارہ ہے جوملت اسلامیہ ہندیہ کی مکمل نمائندگی کرتاہے اورتمام مسالک کوساتھ لے کرچلتاہے۔اسی طرح ہمیں یہ بھی ذہن نشیں کرناہوگاکہ بورڈ میں کئے جانے والے فیصلے کسی فردواحدکے نہیں ہوتے ہیں؛ بلکہ بورڈکاہرفیصلہ اجتماعی ہوتاہے۔لہٰذابورڈ کے کسی فیصلہ کوکسی فردواحدسے منسوب کرناانتہائی بددیانتی اورخیانت پرمبنی ہے۔بورڈ کی مجلس عاملہ کے ارکان کی تعداد51؍ہے۔جبکہ ارکان اساسی کی تعداد102 ہےاورمیقاتی ارکان کی تعداد149 ہے۔ تقریبایہ کل تعداد302 ہوتی ہے۔اس کے علاوہ مدعوئین خصوصی کی تعدادتقریبادوسوہوتی ہے۔کل ملاکردیکھاجائے توپانچ سوکے قریب ملک بھرسے منتخب اور چنیدہ افراداس بورڈ کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں اوربورڈ کی سرگرمیوں کاجائزہ لینے کے بعداپنے مفیدمشوروں سے نوازتے ہیں۔مجھے حیرت اس بات پرہے کہ جولوگ اس اجلاس سے باہربیٹھ کربہت دورسے سنی سنائی باتوں پراپنے تبصرے ظاہرکرتے ہیں ان کاتبصرہ ایساہوتاہے جس سے ملت میں سوائے انتشارکے اورکچھ نہیں ہوگا۔اس وقت حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ اوربورڈ کے تئیں جس طرح سے افرادتبصرے کررہے ہیں ان تبصروں کوکسی بھی طرح صحتمندنہیں کہاجاسکتااورنہ ہی ان تبصروں کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔اس وقت افسوس ہوتاہے کہ تبصرہ کرنے والے دوگروپ میں تقسیم ہوگئے ہیں اوریہ گروپ بندی ہرطرح سے نقصان دہ ہے۔
ایک بات عرض کرتاچلوں کہ جتنااحترام ہمارے دل میں حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کے لئے ہے اتناہی احترام ہمارے دل میں بورڈ اوراس کے مخلص قائدین کے لئے بھی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ نے کس بناپربابری مسجدکے سلسلہ میں اپنے پرانے موقف اورپرانے فتویٰ کوچھوڑتے ہوئے علاحدہ موقف اختیارکرلیاہے،نہ جانے حضرت والاکے ذہن میں کیامنصوبے ہیں اورکیاعزائم ہیں؛ لیکن بہرحال یہ بات میں بڑے وثوق اوراطمینان قلب کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ صرف موقف بدل لینے کی وجہ سے میں حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کی نیت پرکسی قسم کاشبہ نہیں کرسکتاہوں۔اللہ نے انہیں نورہدایت اورنورنبوت سے سرفرازکیاہے۔ممکن ہے اس وقت وہ اجتہادی غلطی پرہوں جس کافیصلہ کرنے کامجھے کوئی اختیارنہیں ہے؛ لیکن مجھے اللہ وحدہ‘ لاشریک کی ذات پرپورایقین ہے کہ انشاء اللہ حضرت مولاناسیدسلمان ندوی صاحب اپنے اس موقف سے دستبردارہوکرپرانے موقف کواپنائیں گے اورامت میں اجتماعیت برقراررکھنے اورملت کے وسیع ترمفادات کے لئے انشاء اللہ بورڈ کے موقف کی تائیداورحمایت کریں گے۔حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ جیسے صاحب علم اورایمانی فراست سے سرفرازشخص سے یہی حسن ظن رکھناچاہئے ،اسی میں ہم سبھوں کے لئے خیرپوشیدہ ہے۔جہاں تک بورڈ کاسوال ہے تومیراخیال اوراحساس قوی ہے کہ الحمدللہ بورڈ نے حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی صاحب مدظلہ کے بارے میں بہت محتاط رویہ اپنایاہے اوریہی ہونابھی چاہئے،بورڈ نے موقف کی تبدیلی کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ان کے دروازے بورڈ میں کھلے رکھے ہیں ۔
آخرمیں میں اپنے ان دوستوں سے گذارش کروں گاجوہمہ وقت سوشل میڈیاپرمتحرک رہتے ہیں کہ خداراسوشل میڈیاکااستعمال مثبت اورتعمیری مقاصدکے لئے کریں۔اسے ملت میں انتشاراورافتراق پھیلانے کاذریعہ نہ بنائیں۔یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہرمعاملہ کوسوشل میڈیاکے ذریعہ پھیلایاہی جائے اوراس پربازاری تبصروں کابازارگرم کیاجائے۔خدارااس ملت مرحومہ پرجوپہلے سے ہی مرحوم ومغفورہوچکی ہے،مزیدستم نہ ڈھائیں،ملت میں مزیدانتشاراورافتراق نہ پھیلائیں،ایک ایسے وقت میں جب کہ ملت کووسیع پیمانے پراتحاد واتفاق کی ضرورت ہے خواہ مخواہ کی بحثوں میں الجھاکراسے منتشرنہ کریں۔خدارااپنے قلم ،اپنی زبان اوراپنی فکرکومثبت اورتعمیری کاموں میں استعمال کریں اورکسی بھی معاملہ میں فریق بننے سے گریزکریں بلکہ مصلح بن کرمعاملہ کوطول پکڑنے سے بچائیں۔آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ ہم سبھوں کا واحد متفقہ، متحدہ اورنمائندہ پلیٹ فارم ہے،اس کوسوشل میڈیاپربحث کاموضوع بناکرحکومت اورمسلم دشمن طاقتوں کے سامنے اس کوکمزورکرنے کی کوشش ہرگزہرگزنہ کریں۔ اللہ ہم سبھوں کاحامی وناصرہو۔آمین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں