بدھ، 4 جولائی، 2018

مما راقنی

محترم خالد ضیا صدیقی ندوی صاحب عربی زبان کے شناور ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اردو زبان وادب کا بھی بہت عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک طرز تحریر ہے۔ ان کی تحریریں سادگی، سستگی، شگفتگی اور ادبیت کی شاہکار ہوتی ہیں۔ ان دنوں موصوف نے ’’مما راقنی‘‘ کے تحت عربی امثال کا محاوراتی اردو متبادل پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ 
آپ کو معلوم ہوگا کہ محاورہ، کہاوت، ضرب الامثال کسی بھی زبان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور ان محاروں اور کہاوتوں کا اپنا ایک تاریخی، تہذیبی اور تمدنی پس منظر ہوتا ہے۔ ایک زبان کے محاورے کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا اور وہی بھی اس دوسری زبان کے اپنے تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں یقینا بڑا اور اہم کام ہے۔ 
یہاں ’’مما راقنی‘‘ کے سلسلے کو قسط وار پیش کیا جارہا ہے۔ امید ہے عربی و اردو کے طلبا و اساتذہ اس سے فیض حاصل کریں گے۔ 
(1)

v   لَـمْ أجِــدْ لهــذاالقــولِ أبًاوأمًّـا .
v   يہ بے سروپابات ہے /اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ـ

v   الخَيْبـةُ مُـلازِمَــةٌ لَــه مُلازَمَـةَ ظلِِّــه لِجَسَــدِه .
v   ناکامی ہمیشہ سایے کی طرح اس کے ساتھ لگی رہی ـ

منگل، 3 جولائی، 2018

ازل سے اوج مقدر ہے اردگاں کے لیے

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 52
  فضیل احمد ناصری





نہ داستان سرائی، نہ عیشِ جاں کے لیے
خدا نے تم کو اتارا ہے امتحاں کے لیے
ادھر ادھر نہ جھکاؤ کہ اٹھ نہ پاؤگے
یہ سر بنا ہے کسی اور آستاں کے لیے

بدھ، 27 جون، 2018

طیب اردگاں ہو جا


*تازہ بہ تازہ، سلسلہ 51*
 فضیل احمد ناصری

سپہ سالارِ دیں ہو جا، کلہ دارِ جہاں ہو جا
جو مومن ہے تو بڑھ کر تو بھی میرِ کارواں ہوجا
رگ و پے سے تری ہر وقت اسلامی ادا ٹپکے
محمدؑ کی زباں ہو جا، محمدؑ کا بیاں ہو جا
چلی ہے ترک سے ٹھنڈی ہوا، پھر سے خلافت کی
تغافل ترک کر اور دستِ قدرت کا نشاں ہو جا
اکھڑجائےہوا ہر ملک سےفرعون و ہاماں کی
دکھا کر جرٱتِ رندانہ موسیٰؑ کی اذاں ہوجا
وہ نغمےچھیڑ،جن سےباغ میں اپنےبہار آئے
تو اے مرغِ حرم! اب بلبلِ صد داستاں ہوجا
غلامی لے کے تو نے کرلیا سودا سیاست کا
وراثت اپنی حاصل کر! خدا کا رازداں ہوجا
نکل تاویلِ فاسد کے ہلاکت خیز دریا سے
صلاح الدین ایوبیؒ کا تو بھی ترجماں ہوجا
سبق لے تو بھی ترکی نوجوانوں کی حمیت سے
کبھی رخسارِ گل ہوجا، کبھی تیغ و سناں ہوجا
تو شاہیں ہے، نہ کر تقلید کم ہمت ممولوں کی
فضائیں کر مسخّر اور طیب اردگاں ہوجا

منگل، 26 جون، 2018

मैट्रिक का रिज़ल्ट यहां देखें

बिहार स्कूल एकज़ामीनीशन बोर्ड के दसवें मैट्रिक का रिज़ल्ट आचुका है। हम यहां स्टूडैंट की सहूलत के मद्द-ए-नज़र वेबसाइट का ऐडरैस दे रहे। आप बहसोलत यहां से रिज़ल्ट देख सकते हैं।

Link 1


Link2 

Link 3

پیر، 2 اپریل، 2018

خواتین کے احتجاجی مظاہروں پر ایک ناقدانہ نظر

 فضیل احمد ناصری
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

وقرن فی بیوتکن
حالیہ چند ماہ سے مختلف موضوعات پر خواتین کے احتجاجی مظاہرے سامنے آ رہے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں اب تک ہزاروں کی ہزاروں کی تعداد میں حوا کی بیٹیاں سڑکوں پر اتر چکی ہیں۔ ادھر چند ماہ سے حکومت کے طلاقِ ثلاثہ مخالف بل کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ان سے مظاہرے کروا رہا ہے۔ خواتین تختیاں ہاتھوں میں لیے حکومت تک اپنا موقف پہونچا رہی ہیں۔ کبھی سڑکوں پر۔ کبھی میدانوں میں۔ یہ مناظر ٹیلی ویژن سے گزر کر دیگر ذرائعِ ابلاغ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چھائے ہوئے ہیں۔ منڈلائے ہوئے ہیں۔ بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں سے ان احتجاجات کی پذیرائی کر رہے ہیں۔ ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ انہیں علمی غذا فراہم کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ان کی نظر ہے، تاہم ملک کے بہت سے علم دوستوں کو تشویش بھی ہے۔ خود مجھے بھی۔ میں نے بارہا خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔ متعدد تاویلات قوتِ مدرکہ کے سامنے رکھیں۔ ہر زاویے سے اسے قائل کرنا چاہا، مگر طبیعت ماننے کو حبہ بھر تیار نہ ہوئی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ میری طبیعت ہی آبی تھی، اس لیے ان مظاہروں کو قبول نہ کر سکی، بلکہ حق یہ ہے شریعت نے اسے قبول کرنے پر آمادہ ہونے ہی نہ دیا۔

جمعرات، 29 مارچ، 2018

رویش کمار کا پیغام بہاریوں کے نام

ترجمہ: شاہد وصی
میرے پیارے بہاریو! 
ہماری ریاست جل رہی ہے اسے بچا لیجئے۔ اس ننگے ناچ میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنگوں اور فساد کی کچھ وجہیں ہوتی ہیں، اس نے پہلے پھینکا تو اس نے بعد میں یہ کہا، پولیس ان کی مدد کے لئے آئی، ہماری مدد کے لئے نہیں آئی، کہیں گائے کا گوشت پھینکناتو کہیں سور کو۔ یہ سب طریقے پرانے ہوچکے ہیں۔ آپ ان چکروں میں کیوں پڑے ہیں۔ کئی ضلعوں سے تناؤ کی خبریں آرہی ہیں۔ ان راج نیتاؤں کے چکر میں اپنا بھائی چارہ مت گنوائیے۔ نیتا آئیں گے اور چلے جائیں گے مگر آپ کو اپنے شہر میں ہی رہنا ہے۔ نکلئے چوراہے پر، پڑوسی کا دروازہ کھٹکھٹائیے اور آواز دیجئے کہ آپ دنگے کی اس ذہنیت کے خلاف ہیں۔ آپ ہندو ہوں یا مسلمان، تھانہ پولیس اور مندر مسجد کرکے کہیں نہیں پہنچے گے۔ آپ کے بچوں پر مقدمے ہوجائیں گے۔ پولیس کے روزنامچے میں گھر گھر میں فساد کے ملزم نظر آئیں گے اور آپ کے فرضی غصے اور جذبات کا فائدہ اٹھا کر نیتا عیش کریں گے۔ 
ہشیار رہئے! 
کسی نے کچھ کیا بھی ہے تو اسے معاف کیجئے۔ حکومت ناکام اور ناکارہ ہوچکی ہے۔ اس کے پاس آپ سے کئے گئے وعدوں کو لے کر آنکھ ملانے کی ہمت نہیں بچی ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے آپ کا سامنا نہیں کرسکتی ہے کہ دیکھو میں نے یہ یہ وعدے کئے تھے ، جسے پورا کردیا۔ انہیں فساد کی چنگاڑیوں اور اس کی لپٹوں سے اٹھتے دھواں کا بہانا چاہئے تاکہ اس کی آڑ میں چھپ کر وہ آپ کا ووٹ لے جائیں۔ گھر آپ کا جل رہا ہوگا اور تاج ان کے سروں پر چمک رہا ہوگا۔ 
اِس کے خلاف یا اُس کے خلاف ، آپ کا نظریہ صحیح ہوگا مگر آپسی بحث کو نفرت میں مت بدلئے۔ گلے شکوے خوب کیجئے مگر دکانوں کو مت جلائیے۔ کسی پر پتھر مت پھینکئے۔ کسی کی جان مت لیجئے۔ اپنے دیکھنے اور سوچنے کا نظریہ بدلئے۔ یہ دیکھئے کہ آپ کے کالجوں کی حالت کیا ہے۔ لاکھوں طالب علموں کا گریجویشن نہیں ہورہا ہے۔ کسی کو نوکری نہیں مل رہی ہے اور بہت چالاکی سے نیتا آپ کو ہندو مسلم میں الجھا چکا ہے۔ آپ کو دنگائی اور فسادی بنایا جارہا ہے۔ آپ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، خود کو دنگائی بننے سے روکئے، مقدمے واپس لیجئے اور گلے مل کر گلے شکوے بھول جائیے۔ 
آپ ایک اچھے شہری ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے غصے سے واپس لوٹ آنے کا، سب کچھ چھوڑ اور بھول کر گلے ملنے کا۔ نیتا آپ کا گھر جلا رہا ہے اور آپ کہاں ہیں۔ بہار کہاں ہے۔ آپ لوگ باہر نکلئے۔ اس ریاست کو بچا لیجئے۔ نیتاؤں کو اب سمجھدار اور مضبوط ووٹر نہیں چاہئے، انہیں فساد اور دنگوں میں الجھا ہوا ووٹر چاہئے جو ان سے ان کے وعدوں کا حساب نہ پوچھے ، ان کا محاسبہ نہ کرے بلکہ اپنی انجان حفاظت اور فرضی خدشات کے لئے ان نتیاؤں پر انحصار کرنے لگے۔ امید ہے خود کو سمجھانے کا ایک موقع دیں گے۔ خود کو دنگائی بننے کا کوئی موقع کبھی نہیں دیں گے۔ 
آپ کا 
رویش کمار 

ہفتہ، 24 مارچ، 2018

جدید دست درازیاں

 فضیل احمد ناصری
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

پچھلے دور میں سفر کرنا ’’کوہ کندن، کاہ برآوردن‘‘ تھا۔ انتہائی دشوار گزار، حد درجہ اذیت ناک، چند میل کا سفر بھی جوئے شیر لانے کے مترادف۔ اونٹ، گھوڑے، خچر، گدھے سے ہی سواری کا کام لیا جاتا۔ بیش تر تو پیدل ہی چلتے۔ بسا اوقات سفر سے واپسی میں مہینوں لگ جاتے۔ ٹرینیں نہیں تھیں۔ ہوائی جہاز نہیں تھے۔ سفر کے موجودہ دیگر ذرائع بھی متصور نہیں تھے، اسی طرح آلاتِ حرب کی موجودہ شکلوں کا بھی کوئی نام و نشان نہ تھا، دیگر ایجادات اور تخلیقات کا بھی دور دور تک کوئی گزر نہ تھا، لیکن قرآن نے ساڑھے چودہ سو برس پہلے ہی ان سب کی خبر دے دی تھی۔ فرمایا: ویخلق ما لا تعلمون۔
 جدید مفسرین کہتے ہیں کہ اس چھوٹے سے ٹکڑے سے سفر کے حالیہ تمام ذرائع، اسی طرح تمام ایجادات کا ذکر قرآن نے اجمالاً بیان کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن نے اس کی تفصیل کیوں نہیں کی؟ مفسرین اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ صحابہؓ کے زمانے میں ان کا ذکر آتا تو ان کے فہم سے بے حد بالاتر چیز ہوتی۔ جہاز کی شکل ان کے ذہن میں کیسے اترتی؟ ریل گاڑیوں کی صورت انہیں کس طرح سمجھائی جاتی؟ توپ اور ٹینک کی تصویریں ان کی سطحِ ذہن پر کیسے ابھرتیں؟ اسی لیے قرآن نے اجمالاً کہہ دیا: ویخلق ما لا تعلمون۔ 

پیام مرگ ہے پابند آشیاں ہونا

احتشام الحق قاسمی رامپوری
مدرس مدرسه عارفیه ناڑی و نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ضلع دربھنگہ 

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت کے مطابق خواتین اسلام کے طلاق ثلاثه بل کی مخالفت میں ہونے والے احتجاجات سے متعلق کچھ باتیں ۔ 
گزشته مہینے جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمه داروں نے یه فیصله لیا که اب پورے ملک کے مرکزی مقامات پر خواتین اسلام کا خاموش جلوس نکالا جائے اور طلاق ثلاثه بل جولوک سبھا سے پاس ہوچکا ہے اور راجیه سبھا سے پاس نهیں ہوسکا اور راجیه سبھا کی اکثریت کی مخالفت کے باوجود حکومت وقت نے نه تو اسے واپس لیا اور نه ہی اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا اس کی مخالفت میں احتجاج درج کرایا جائے اور گورنرز، کلکٹرز ضلعی ،کمشنری اور سب ڈویزن کے اعلی افسران کو میمورنڈم سونپا جائے ۔ 
اس اعلان اور فیصله کو سن اور پڑھ کر اول وہله میں میں حیرت میں پڑگیا اور بے ساختہ زبان پر مچلنے لگا۔ 
بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت ** نہیں کام آتی دلیل اور حجت 

جمعرات، 8 مارچ، 2018

وللــزمــان مســـرات وأحـــزان

محمــد خــالــد ضيـاء النــدوي
إني لجالس الآن لكتابة هذه السطور وأنالاأكاد أملك مدامعي وزفراتي، أكتب وفي عيني عبرات وعبرات، وفي قلبي حسرات وحسرات، لاأدري ماذاأكتب وكيف أبدأ؟ فالقلم يرتعش والألفاظ تتكسر ...لاأجد ماأمهد به الحديث، فإن الفؤاد يتقطع ألمًا ويتفطر أسىً، وكيف لا، وقد وردتني ـ ولاتزال تردني ـ من أنباء مزلزلة وأخبارمروعة وحوادث دموية متتالية من *غوطة دمشق الشرقية المحاصرة*ما نغّصت عليّ عيشي، وأقلقت مضجعي،وطيّرت نومي، وأطالت سهدي وألمي ..... ومن منا لايعلم أن *منطقة غوطة دمشق الشرقية المحاصرة* شهدت أخيراً من أفظع عدوان وأشقى ضحية وأروع مشهد مالا يتصور، وأن القصف الوحشي العنيف الذي تعرضت له هذه المنطقة منذ سنوات أخيرة عمومًا ومنذأيام خصوصًا من قبل النظام السوري بدعم روسي وإيراني تقشعر الجلود بمجرد سماعه، وتنخلع القلوب من مشهده الفظيع المروع .

صحبت صالح اور مجالس خیر

مولانا دبیر احمد کاشف القاسمی
استاد عربی ادب مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ


ِِِفطرتِ انسانی :
اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو ایک معاشرتی اور سماجی مخلوق بنایا ہے ۔وہ سماج اور معاشرہ سے کٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا ۔ احتیاج ومجبوری انسانی فطرت کا خاصہ ہے اس لیے انسا ن زندگی کے ہر موڑپر اپنے ابنائے جنس کی ضرورت محسوس کرتاہے۔ اس لیے ایک صالح انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسانوں کے باہمی تعلقات استواراو مستحکم ہوں۔ اسلامی تعلیمات کا اگر ہم جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اسلام نے جس طرح انسانی رشتوں اورسماجی رابطوں کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے کسی دوسرے مذہب میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔
اسلام نے انسانوں کے باہمی تعلقات اورسماجی رشتوں کی اہمیت پر اس قدر زوردیاہے کہ اسلام کا پورا فلسفۂ اخلاق اسی ایک محور کے گرد گھومتا نظرآتاہے چنانچہ اگر آپ اسلام کی اخلاقی تعلیمات پرایک نظر ڈالیں جس کی روح انسانوں کے ساتھ محبت وخیر خواہی ،عدل ومساوات اور انسانیت کا احترام ہے تو بخوبی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان تعلیمات کامقصد ایک ایسے صالح معاشرہ کی تشکیل ہے جس میں انسانوں کے درمیان کامل ربط واتحاد اور موافقت وہم آہنگی پائی جائے

اتوار، 25 فروری، 2018

دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

تازہ بہ تازہ 

(10)

دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک


جس نام سے طاغوت ہوا صورتِ اسپند
اس کو ہی زمانےمیں کہاجاتا ہےدیوبند

إذهــب إلى فــرعــون، إنـــه طغــى

🌠

: ـــ محمــد خــالــد ضيـاء النــدوي

(كتبتْ في العام الماضي، ويعاد نشرها اليوم بالمناسبة المماثلة)
هل تعرفون فرعون الساعة؟! فاعلموا أنه هوالبشار الجزار ، وماأدراك من البشارـــــ ؟ طاغوت طغى وبغى، علا وأفسد، وأهلك الحرث والنسل ــــــ! ظالم، تكبّر وتجبّر، ورأى أنه هو الرب الأعلى ــــــ! سفاك، ذبح آلافا من الأطفال والأبرياء،ورأى أنه هو البطل المغوار ـــــــ! رجل، آتاه الله الملك فاغتر بملكه، وقوته، وسلطانه ورأى أن ملكه لايبلى، وقوته لاتضعف، وسلطانه لايزول ــــ! جبار، لايعرف للرحمة معنىً، ولا يحمل في قلبه محبة ــــ! إنسان، قد تخطى الحدود الإنسانية، وتحول ذئباً ضارياً بل أشدّ منه ضراوةً ــــ! رجل، غاراته الجوية تدمّر " بلدالشام وحلب " تدميراً تدميراً، وتدكّ مبانيها دكاً دكاً ـــــ! قاتل، تقذف طياراته القنابل عليها قذفاً مستمراً بدون رحمة وهوادة، ودونما تفريق بين الرجال والنساء، وبين الشيوخ والشباب، وبين المسنين العاجزين، والأطفال الصغار الأبرياء ! 

ہفتہ، 24 فروری، 2018

کاش یہ بات تیــــرے گوش گراں تک پہنچے

بقلم: استاد محترم مولانا ســـراج اکـــرم ہاشمی 


راقم نے اپنی زندگی میں حضرات علمائے کرام کے بہت سے اختلافات دیکھے سنے پڑھے اور برتے؛ لیکن دل کبھی اس طرح خون کے آنسو نہیں رویا جیسا ابھی حالیہ چند دنوں سے رو رہا ہے،آنکھوں سے اشک ہائےغم بہ رہے ہیں،ہاتھ دعاؤں کےلیے اٹھ رہے ہیں اور یہ گناہوں سے آلودہ پیشانی دلوں میں الفت ومحبت پیدا کرنے والی ذات کے سامنے جھکی ہوئی بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ خدایا!ہندوستان کے موجودہ اختلافات کو دور فرما، بورڈ کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور مستحکم بنا، اس کی خامیوں کو دورکرکےملت کا اعتماد اس پر مزید بڑھا، ہماری عقیدت ومحبت کے مرکز حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کو جمہور امت کے ساتھ چلنے کی توفیق ارزانی کر اور ملت کی ہر شش جہت سے مادی ومعنوی حفاظت فرما!آمین ـ

جمعرات، 22 فروری، 2018

صنم والوں پہ پھر مرنےلگا پیرِ حرم اپنا


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

تازہ بہ تازہ
(8)

مری اولین خواہش، کوئی چوٹ کھا نہ پائے
تجھےفکر ہے یہ ہردم،کوئی مسکرا نہ پائے
مجھے سب خبر ہے،کیوں ہےیہ اسارتِ مسلسل
تری محفلِ ستم سے کوئی فرد جا نہ پائے
گئی جب سےاس چمن کی ترے ہاتھ پاسبانی
وہ حوادثات آئے، جنہیں ہم بھلا نہ پائے

بدھ، 21 فروری، 2018

میں بھی حاضرتھاوہاں

حیدر آباد میں منعقدہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کی آنکھوں دیکھی رپورٹ ملاحظہ کریں چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن غفران ساجد قاسمی کی زبانی 


گذشتہ دنوں ہندوستانی مسلمانوں کامتحدہ ومتفقہ پلیٹ فارم آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکاچھبیسواں سہ روزہ اجلاس حیدرابادکی سرزمین پرمنعقدہوا۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقدہواجب ملک میں مسلمان ہرچہارجانب سے گھراہواہے اوراس کی شریعت پرحکومت کی جانب سے پے درپے حملے کئے جارہے ہیں۔ملکی مسائل سے صرف نظرکرتے ہوئے ایسے مسائل کوعوام کے سامنے ضروری اوراہم بناکرپیش کیاجارہاہے جوکہ بالکل غیرضروری اورغیراہم ہیں۔اورسب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیااس میں سب سے اہم کردارنبھارہاہے۔میڈیاجسے جمہوریت کاچوتھا ستون کہا جاتا تھا حقیقت یہ ہے کہ اب میڈیاکی وہ حیثیت ختم ہوچکی ہے۔اوراب جمہوریت صرف تین ستونوں کے سہارے قائم ہے۔ گذشتہ دنوں جب سپریم کورٹ کے چارججوں کی پبلک پریس کانفرنس ہوئی جس میں انہوں نے نہایت ہی واضح اندازمیں عدلیہ کے اندرہورہی بدعنوانیوں کواجاگرکیا، جس سے ملک کے سواسوکڑورآبادی کاعدلیہ پرسے بھی اعتمادمتزلزل ہوا۔لیکن پھربھی ہمیں عدلیہ پربھروسا ہے اوریہ ہماری مجبوری بھی ہے کہ عدلیہ کے علاوہ ہمارے پاس دوسراکوئی ادارہ نہیں جس پرہم اپنااعتمادجتاسکیں۔

جمعہ، 16 فروری، 2018

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 6: قتلِ آدم سے بڑا جرم ہے قتلِ انصاف

✏ فضیل احمد ناصری

حسنِ تہذیب و شرافت کو جفا کہتے ہیں
کام اچھا ہو تو لوگ اس کو برا کہتے ہیں

سامنے آ نہ سکے، وار کرے پیچھے سے
اسکو بزدل نہیں کہتے ہیں توکیاکہتےہیں

عصرِحاضر میں ہے معکوس ترقی کو فروغ
روگ کو راگ، تو ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

ہم خطا کار سہی، ہم کو غلط مت جانو
مفتئ وقت ہی جب اس کو روا کہتے ہیں

ایسا اعصاب پہ حاوی ہے یہاں رنگِ فرنگ
لوگ یورپ کو ہی اب قبلہ نما کہتے ہیں

دین پر آپ چلیں، آپ ہیں غدّارِ وطن
بت پرستی کو یہاں خوئے وفا کہتے ہیں

آبِ زمزم ہی پیو، جام کے چکر چھوڑو
مے کو سب اہلِ خِرَد لغزشِ پا کہتے ہیں

قتلِ آدم سے بڑا جرم ہے قتلِ انصاف
اہلِ دل ظلم کو آفت کی صدا کہتے ہیں

رسمِ حق گوئی، زمانہ ہوا مرحوم ہوئی
اب تو سب لوگ ہی صرصرکو صباکہتے ہیں

جمعرات، 15 فروری، 2018

حضرت مولانا سلمان ندوی: تری بربادئ پیہم نے چھینا ہے سکوں میرا

✏ فضیل احمد ناصری

بابری مسجد کو لے کر گزشتہ تین چار دنوں سے مخدومِ گرامی حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب زید مجدہم خانگی ذرائعِ ابلاغ (سوشل میڈیا) کا موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ مثبت منفی ہر طرح کے تبصرے ہیں۔ افراط و تفریط سے پر۔ بعض تبصرے اس قدر جانب دارانہ کہ گویا ان کا عمل عینِ اسلام ہو۔ بعض تبصرے ایسے جارحانہ کہ متعلق اور غیرمتعلق، جھوٹ اور سچ سب کی آمیزش۔ ردِ عمل کے سیلاب میں ہر کوئی پھنسا ہوا۔ بڑے خاموش ہیں اور چھوٹے بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں۔ 

مولانا تو ایسے نہ تھے
مولانا کے خلاف تحریریں پڑھ کر اس قدر صدمے میں ہوں کہ بیان سے باہر۔ اللہ انہیں عمرِ خضر عطا فرمائے۔ ان کی خبرِ وفات سے ایسا دھچکا نہ لگتا، جیسا اس وقت لگا ہے۔ یہ ایک عظیم سانحہ ہے۔ سچ کہیے تو مجھے دو تین دنوں سے کھانا اچھا نہیں لگ رہا۔ سکون درہم برہم ہے۔ عجیب بے چینی اور الجھن ہے۔ ردِ عمل کا نشانہ کوئی سیاسی مسلمان ہوتا، یا کوئی غیر عالم ہوتا تو اس قدر تکلیف نہ ہوتی۔ یہاں تو مولانا ہی اس کا نشانہ بن گئے۔ آہ! کیسی بلندی اور کیسی پستی!!! کہاں تو پلکوں پر بٹھائے جاتے تھے۔ ہر مجمع ان کا منتظر۔ ہر ہجوم ان کا چشم براہ۔ ان کی دھواں دھار تقریریں ہوتیں اور سامعین گوش برآواز۔ اٌدھر جوش سے لبریز سے حکایتیں۔ اِدھر جوش سے لبریز سماعتیں۔ تعریفوں کے پل باندھے جاتے۔ ان کی موجودگی جلسے کی کامیابی کی ضمانت۔ لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کایا پلٹ چکی ہے۔ منظر بدل چکا ہے۔ سپیدۂ سحر سرخئ شفق میں تبدیل ہو چکا۔ مولانا کے چاہنے والے ان سے بد دل ہو گئے۔ ان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ انہیں سخت سست کہا جارہا ہے۔ 

غزل


⬅ حسیب الرحمٰن شائق


اب تیرگئ شب سے شکایت نہیں ہوتی
تنہائئ پیہم سے بھی وحشت نہیں ہوتی
وہ آہِ سحرگاہی کہاں ,نالۂ وشیون؟
اب گھر میں مسلماں کےتلاوت نہیں ہوتی

منگل، 13 فروری، 2018

تازہ بہ تازہ، سلسلہ4/5:


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 


(4) 

صنم خانے کے آگے۔۔۔ 

نگوں پھر ملتِ بیضا کا پرچم کر دیا تو نے
حرم والوں کو رسوائے دو عالم کر دیا تو نے
غبار آلودۂ کفر و ضلالت ہے جبیں تیری
صنم خانے کے آگے اپنا سر خم کر دیا تو نے
وکالت کر کے تو نے آج گوسالہ پرستوں کی

اعتراف محاسن احباب

معاصر کے محاسن کا اعتراف، رفیقوں کی خوبیوں کا استحسان اور دوستوں کے کمالوں کے تذکرے اب صرف کتابوں میں پڑھنے کو ملتےہیں۔ خود نمائی وخود ستائی کی نحوست نے ہمیں اپنی ذات میں اس قدر محبوس کردیا ہے کہ بیرونی دنیا کی خوبصورتی ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ ہم اس قدر اپنے آپ کو کمالات وفضائل سے مرصع تصور کرنے لگے ہیں کہ غیروں کے محاسن اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ بھی ہمارے اندر سے داد تحسین وصول نہیں کراپاتے۔ ایسے شب تار میں اگر کسی کونے سے کوئی دیا ٹمٹماتا ہے جو استعجاب کے ساتھ ساتھ خوش ومسرت کے جذبات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔

اتوار، 11 فروری، 2018

یہ آنسو آنکھ سے آئے نہیں ہیں دل سے آئے ہیں

محمد خالد ضیا صدیقی ندوی 

ان دنوں قضیۂ مسجدبابری پھرسرخیوں میں ہے،اسے سرخیوں میں ہونابھی چاہیے کہ شہادت اپنےبعد "سرخی اورسرخ روئی" ہی کاپیغام دیاکرتی ہے۔  ـ
زورہی کیاتھاجفائے باغباں دیکھاکیے
آشیاں اجڑاکیا، ہم ناتواں دیکھــاکیے
استاد محترم مولاناسیدسلمان حسینی ندوی مدظلہ کی ایک رائے آئی۔ اس کا ایک جماعت کی طرف سے محبت کے ساتھ استقبال کیاگیاتودوسری جماعت کی طرف سے نفرت وعداوت سے؛ افسوس کہ دونوں جماعتیں راہ اعتدال سے ہٹتی ہوئی نظر آئیں۔  ایک نے محبت وعقیدت میں افراط اورغلو کارویہ اپنایا، تودوسری نے تفریط وعداوت کا۔ دونوں جماعت کی نظر سے جوچیز غائب رہی وہ تھی "اعتدال"ـ۔ اہل علم مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ بے اعتدالی (افراط وتفریط) کی مذمت سے قرآن وحدیث لبریز ہیں؛ گمراہ قوموں کی گمراہی کاایک بڑاسبب یہی بے اعتدالی رہی ہے ـ ـ ـ

ہو حلقه یاراں تو بریشم کی طرح نرم

احتشام الحق قاسمی رامپوری 

ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے باوقار اور متفقه اداره مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے جسکا ایک اہم اجلاس ان دنوں حیدرآباد میں جاری ہے ، لیکن میٹنگ اور اجلاس سے پہلے جو طوفان اٹھا، یا اٹھایا گیا وه تهمنے کا نام نہیں لے رہاہے۔ ایک طرف پوری حکومت اسکی مشینری اور مین اسٹریم میڈیا بورڈ کے وجود کو ته و بالا کرنے پر تلی ہوئی ہے تو وہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تاسیسی حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب بورڈ کے خلاف مورچه کھول کر اسکی آبرو سے کھیل رہے ہیں اور میڈیا کی زینت بن کر ہندوستانی مسلمانوں کے متفقه موقف سے انحراف کرکے اعداء دین و شریعت سے داد وصول کررہے ہیں۔ یوں تو مولانا سلمان ندوی اپنی بے باکی، شعله بیانی اور خطیبانه سحر انگیزی کیلئے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ دنیا انہیں ایک عبقری شخصیت عالم ربانی اور علماء حقه

ہفتہ، 10 فروری، 2018

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 1/2/3:


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

(1)

اب گدا گر ہیں 


ہماری ملتِ بیضا ہی سب پہ چھائی رہی
اگرچہ بولَہَبوں سے سدا لڑائی رہی
جہاں جہاں سےبھی گزرے،ہمیں رہےفاتح
ہمارے زیرِ قدم کفر کی خدائی رہی
مقابلہ تھا سکندر میں اور قلندر میں
شہنشہی سے فزوں تر مری گدائی رہی

ہفتہ، 3 فروری، 2018

یہ زباں کسی نے خرید لی یہ قلم کسی کا غلام ہے

  • احتشام الحق قاسمی رامپوری 

یوں تو کہنے کیلئے ہمارے ملک میں جمہوریت ہے اور جمہوریت کے چاروں ستون ’مقننه ، عدلیه ، انتظامیه اور میڈیا ‘اپنی جگه موجود ہیں، لیکن اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو مجموعی اعتبار سے موجوده وقت میں مقننه اور انتظامیه کی گاڑی ہندوتوا کے رتھ پر بھگوا جھنڈا گاڑتے ہوئے منواسمرتی کی طرف رواں دواں ہے۔ جہاں تک عدلیه کی بات ہے تو عدلیه میں کیا کچھ چل رہاہے؟ اور کس طرح سنگھی ٹوله عدلیه کی آزادی پر شبخون مار رہاہے ، پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چار فاضل ججوں نے پریس کانفرنس کرکے عدلیه کی حقیقت حال بیان کردی اور من مانے فیصلے اور بینچ فکسنگ کا معامله اجاگر کرتے ہوئے جمہوریت پر خطره کا اندیشه ظاہر کیا۔ بیتے ہفتوں اس پر لگا تار بحثیں ہوئیں۔ ممکن ہے که ان چاروں ججوں کی کانفرنس عدلیه کی آزادی و خود مختاری کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو۔لیکن جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا ہے خواه وه الکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا اس کی حقیقت ملاحظہ کریں۔

اتوار، 28 جنوری، 2018

سہانے سپنوں کی خوفناک تعبیریں: کیا ہندوستان کبھی امریکہ کا ہم پلہ ہوسکتا ہے؟؟؟؟

 احتشام الحق قاسمی رامپوری 

ریاستہائے متحده امریکه جو فی الوقت پوری دنیا کا سپرپاور ہے اس کے ایک مشہور و معروف صدر کا ایک سلوگن تھا ۔ I have a dream (میرا ایک سپنا ہے)۔ اس صدر نے اپنے سپنے کو عام امریکیوں کا سپنا بنادیا اور پھر اپنے خواب کی سنہری تعبیر تلاش کرنے کی امریکی صدور اور اسکی عوام نے جو کوششیں کیں اس نے امریکیوں کو ایک ناقابل تسخیر عالمی سپر پاور بنا دیا اور امریکہ کو تمام جمہوری حقوق عطا کرنے والا ملک بنادیا۔ لیکن اس کے برعکس آج سے تین سال قبل ہمارے پیارے ملک ہندوستان کے وزیر اعظم عہدے کے دعویدار نریندر بھائی مودی نے بھی ایک سپنا دیکھا۔ انہوں نے اپنے سپنوں کی سیر تمام ہندوستانیوں کو سینکڑوں ریلیوں اور بھاشنوں میں خوب کرائی۔ اپنے سپنے کی تعبیر دلی کے اقتدار کی شکل میں تو انہوں نے حاصل کرلی لیکن اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد ہندوستانی عوام کو جس طرح انہوں نے ٹھینگا دکھا یا وه یه ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے که ہمارے پردهان سیوک واقعی سپنوں کے سوداگر ہیں۔ 

ہفتہ، 20 جنوری، 2018

Amazon پر چند مفید کتابیں، گھر بیٹھے حاصل کریں

آج کی دنیا ڈیجیٹل ہوگئی ہے۔ دنیا جہان کی تمام چیزیں انگلی کی ایک جنبش پر آپ کے دروازے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ آن لائن بہت سارے سیلرز ہیں۔ ان میں Amazon ایک بہترین سائٹ ہے۔ آپ یہاں آکر سستی اور جلد پہنچ جانے والی اشیا بآسانی خرید سکتے ہیں۔ ہم آپ کی سہولت کے لئے چند مفید کتابوں کا لنک شیئر کررہے ہیں۔ آپ یہاں سے کلک کر گھر بیٹھے کتابیں حاصل کرسکتے ہیں۔ 

اگر آپ کو یہ سلسلہ اچھا لگے تو ہم انشا اللہ وقفے وقفے سے مفید کتابوں اور کار آمد اشیا کا انتخاب پیش کریں گے۔ جہاں سے آپ بآسانی من پسند کی چیزیں خرید سکیں گے۔ 

جمعہ، 5 جنوری، 2018

بے خبر کی خبر (دوسری و آخری قسط)

ســـراج اکــرم قاسمی 
(معاون مدیر مدرسہ الہدایہ، کنشاسا، کونکو، افریقہ) 

                 
عیسائی مشنریاں
ملک کے طول و عرض میں عیسائی تبلیغی اداروں کا ایک مضبوط و مستحکم اورمنظم جال پھیلا ہوا ہے، یہ ادارے یہاں کی غربت و افلاس سے مکمل فائده اٹھاتےہیں ،یتیموں،غریبوں اور بیواؤں کی کفالت، کم زوروں اور ضعیفوں کی اعانت و نصرت، بچوں کی تعلیم و تربیت ،بوڑھوں کی دیکھ ریکھ اوربیماروں کی طبی خدمات کے پردے میں عیسائیت کی خاموش؛ مگر مؤثر تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں ـ مجھے یہاں صاف محسوس ہوتا ہے کہ جو کوئی بھی *اہل کانگو*کے لیے مادی وسائل فراہم کرے گا تو یہ لوگ مذہبی اور روحانی اعتبار س

جمعرات، 4 جنوری، 2018

متى تخـــرج الأمــة من مــرحـلة الغثائيـة إلى مــرحـلة التأسيـس والبــناء؟


 محمد خالد ضياء الصديقي الندوي
( الباحث الشرعي بمركز الإمام البخاري للبحوث والدراسات الإسلامية، عليجراه، الهند) 

إن الأمة الإسلامية في جميع مشارق الأرض ومغاربها تمر في هذه الآونة بأسوء مرحلة من مراحله التاريخية، ولم تلق خلال تاريخها الطويل من الأزمات، والمحن والشدائد ماتلقاه اليوم، كأن الأمم تداعت عليها تداعي الأكلة على القصعة، وكأن أعداء الإسلام مجمعون على القضاء على كيان الأمة الإسلامية قضاءً تامًا لا يُبقي لها عينًا ولا أثرًا.
إن المتابع لتاريخ الأمة الإسلامية يقع في حيرة واندهاش، وفي قلق واضطراب حينما يشاهد بأم عينه الوضع الحالي المتردي للأمة........  حينما يدرس التاريخ يجد الأمة في رأس القافلة البشرية ومطلعها، يجدها تحكم الدنيا، وتبني المجد، وتقود الحضارة، وتعلم البشرية .........  يجدها تقتبس منها أوربا العلم، والتجربة، والحضارة والثقافة، حتى النظافة