فضیل احمد ناصری
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند
وقرن فی بیوتکن

حالیہ چند ماہ سے مختلف موضوعات پر خواتین کے احتجاجی مظاہرے سامنے آ رہے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں اب تک ہزاروں کی ہزاروں کی تعداد میں حوا کی بیٹیاں سڑکوں پر اتر چکی ہیں۔ ادھر چند ماہ سے حکومت کے طلاقِ ثلاثہ مخالف بل کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ان سے مظاہرے کروا رہا ہے۔ خواتین تختیاں ہاتھوں میں لیے حکومت تک اپنا موقف پہونچا رہی ہیں۔ کبھی سڑکوں پر۔ کبھی میدانوں میں۔ یہ مناظر ٹیلی ویژن سے گزر کر دیگر ذرائعِ ابلاغ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چھائے ہوئے ہیں۔ منڈلائے ہوئے ہیں۔ بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں سے ان احتجاجات کی پذیرائی کر رہے ہیں۔ ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ انہیں علمی غذا فراہم کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ان کی نظر ہے، تاہم ملک کے بہت سے علم دوستوں کو تشویش بھی ہے۔ خود مجھے بھی۔ میں نے بارہا خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔ متعدد تاویلات قوتِ مدرکہ کے سامنے رکھیں۔ ہر زاویے سے اسے قائل کرنا چاہا، مگر طبیعت ماننے کو حبہ بھر تیار نہ ہوئی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ میری طبیعت ہی آبی تھی، اس لیے ان مظاہروں کو قبول نہ کر سکی، بلکہ حق یہ ہے شریعت نے اسے قبول کرنے پر آمادہ ہونے ہی نہ دیا۔