جمعرات، 29 مارچ، 2018

رویش کمار کا پیغام بہاریوں کے نام

ترجمہ: شاہد وصی
میرے پیارے بہاریو! 
ہماری ریاست جل رہی ہے اسے بچا لیجئے۔ اس ننگے ناچ میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنگوں اور فساد کی کچھ وجہیں ہوتی ہیں، اس نے پہلے پھینکا تو اس نے بعد میں یہ کہا، پولیس ان کی مدد کے لئے آئی، ہماری مدد کے لئے نہیں آئی، کہیں گائے کا گوشت پھینکناتو کہیں سور کو۔ یہ سب طریقے پرانے ہوچکے ہیں۔ آپ ان چکروں میں کیوں پڑے ہیں۔ کئی ضلعوں سے تناؤ کی خبریں آرہی ہیں۔ ان راج نیتاؤں کے چکر میں اپنا بھائی چارہ مت گنوائیے۔ نیتا آئیں گے اور چلے جائیں گے مگر آپ کو اپنے شہر میں ہی رہنا ہے۔ نکلئے چوراہے پر، پڑوسی کا دروازہ کھٹکھٹائیے اور آواز دیجئے کہ آپ دنگے کی اس ذہنیت کے خلاف ہیں۔ آپ ہندو ہوں یا مسلمان، تھانہ پولیس اور مندر مسجد کرکے کہیں نہیں پہنچے گے۔ آپ کے بچوں پر مقدمے ہوجائیں گے۔ پولیس کے روزنامچے میں گھر گھر میں فساد کے ملزم نظر آئیں گے اور آپ کے فرضی غصے اور جذبات کا فائدہ اٹھا کر نیتا عیش کریں گے۔ 
ہشیار رہئے! 
کسی نے کچھ کیا بھی ہے تو اسے معاف کیجئے۔ حکومت ناکام اور ناکارہ ہوچکی ہے۔ اس کے پاس آپ سے کئے گئے وعدوں کو لے کر آنکھ ملانے کی ہمت نہیں بچی ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے آپ کا سامنا نہیں کرسکتی ہے کہ دیکھو میں نے یہ یہ وعدے کئے تھے ، جسے پورا کردیا۔ انہیں فساد کی چنگاڑیوں اور اس کی لپٹوں سے اٹھتے دھواں کا بہانا چاہئے تاکہ اس کی آڑ میں چھپ کر وہ آپ کا ووٹ لے جائیں۔ گھر آپ کا جل رہا ہوگا اور تاج ان کے سروں پر چمک رہا ہوگا۔ 
اِس کے خلاف یا اُس کے خلاف ، آپ کا نظریہ صحیح ہوگا مگر آپسی بحث کو نفرت میں مت بدلئے۔ گلے شکوے خوب کیجئے مگر دکانوں کو مت جلائیے۔ کسی پر پتھر مت پھینکئے۔ کسی کی جان مت لیجئے۔ اپنے دیکھنے اور سوچنے کا نظریہ بدلئے۔ یہ دیکھئے کہ آپ کے کالجوں کی حالت کیا ہے۔ لاکھوں طالب علموں کا گریجویشن نہیں ہورہا ہے۔ کسی کو نوکری نہیں مل رہی ہے اور بہت چالاکی سے نیتا آپ کو ہندو مسلم میں الجھا چکا ہے۔ آپ کو دنگائی اور فسادی بنایا جارہا ہے۔ آپ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، خود کو دنگائی بننے سے روکئے، مقدمے واپس لیجئے اور گلے مل کر گلے شکوے بھول جائیے۔ 
آپ ایک اچھے شہری ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے غصے سے واپس لوٹ آنے کا، سب کچھ چھوڑ اور بھول کر گلے ملنے کا۔ نیتا آپ کا گھر جلا رہا ہے اور آپ کہاں ہیں۔ بہار کہاں ہے۔ آپ لوگ باہر نکلئے۔ اس ریاست کو بچا لیجئے۔ نیتاؤں کو اب سمجھدار اور مضبوط ووٹر نہیں چاہئے، انہیں فساد اور دنگوں میں الجھا ہوا ووٹر چاہئے جو ان سے ان کے وعدوں کا حساب نہ پوچھے ، ان کا محاسبہ نہ کرے بلکہ اپنی انجان حفاظت اور فرضی خدشات کے لئے ان نتیاؤں پر انحصار کرنے لگے۔ امید ہے خود کو سمجھانے کا ایک موقع دیں گے۔ خود کو دنگائی بننے کا کوئی موقع کبھی نہیں دیں گے۔ 
آپ کا 
رویش کمار 

ہفتہ، 24 مارچ، 2018

جدید دست درازیاں

 فضیل احمد ناصری
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

پچھلے دور میں سفر کرنا ’’کوہ کندن، کاہ برآوردن‘‘ تھا۔ انتہائی دشوار گزار، حد درجہ اذیت ناک، چند میل کا سفر بھی جوئے شیر لانے کے مترادف۔ اونٹ، گھوڑے، خچر، گدھے سے ہی سواری کا کام لیا جاتا۔ بیش تر تو پیدل ہی چلتے۔ بسا اوقات سفر سے واپسی میں مہینوں لگ جاتے۔ ٹرینیں نہیں تھیں۔ ہوائی جہاز نہیں تھے۔ سفر کے موجودہ دیگر ذرائع بھی متصور نہیں تھے، اسی طرح آلاتِ حرب کی موجودہ شکلوں کا بھی کوئی نام و نشان نہ تھا، دیگر ایجادات اور تخلیقات کا بھی دور دور تک کوئی گزر نہ تھا، لیکن قرآن نے ساڑھے چودہ سو برس پہلے ہی ان سب کی خبر دے دی تھی۔ فرمایا: ویخلق ما لا تعلمون۔
 جدید مفسرین کہتے ہیں کہ اس چھوٹے سے ٹکڑے سے سفر کے حالیہ تمام ذرائع، اسی طرح تمام ایجادات کا ذکر قرآن نے اجمالاً بیان کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن نے اس کی تفصیل کیوں نہیں کی؟ مفسرین اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ صحابہؓ کے زمانے میں ان کا ذکر آتا تو ان کے فہم سے بے حد بالاتر چیز ہوتی۔ جہاز کی شکل ان کے ذہن میں کیسے اترتی؟ ریل گاڑیوں کی صورت انہیں کس طرح سمجھائی جاتی؟ توپ اور ٹینک کی تصویریں ان کی سطحِ ذہن پر کیسے ابھرتیں؟ اسی لیے قرآن نے اجمالاً کہہ دیا: ویخلق ما لا تعلمون۔ 

پیام مرگ ہے پابند آشیاں ہونا

احتشام الحق قاسمی رامپوری
مدرس مدرسه عارفیه ناڑی و نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ضلع دربھنگہ 

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت کے مطابق خواتین اسلام کے طلاق ثلاثه بل کی مخالفت میں ہونے والے احتجاجات سے متعلق کچھ باتیں ۔ 
گزشته مہینے جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمه داروں نے یه فیصله لیا که اب پورے ملک کے مرکزی مقامات پر خواتین اسلام کا خاموش جلوس نکالا جائے اور طلاق ثلاثه بل جولوک سبھا سے پاس ہوچکا ہے اور راجیه سبھا سے پاس نهیں ہوسکا اور راجیه سبھا کی اکثریت کی مخالفت کے باوجود حکومت وقت نے نه تو اسے واپس لیا اور نه ہی اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا اس کی مخالفت میں احتجاج درج کرایا جائے اور گورنرز، کلکٹرز ضلعی ،کمشنری اور سب ڈویزن کے اعلی افسران کو میمورنڈم سونپا جائے ۔ 
اس اعلان اور فیصله کو سن اور پڑھ کر اول وہله میں میں حیرت میں پڑگیا اور بے ساختہ زبان پر مچلنے لگا۔ 
بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت ** نہیں کام آتی دلیل اور حجت 

جمعرات، 8 مارچ، 2018

وللــزمــان مســـرات وأحـــزان

محمــد خــالــد ضيـاء النــدوي
إني لجالس الآن لكتابة هذه السطور وأنالاأكاد أملك مدامعي وزفراتي، أكتب وفي عيني عبرات وعبرات، وفي قلبي حسرات وحسرات، لاأدري ماذاأكتب وكيف أبدأ؟ فالقلم يرتعش والألفاظ تتكسر ...لاأجد ماأمهد به الحديث، فإن الفؤاد يتقطع ألمًا ويتفطر أسىً، وكيف لا، وقد وردتني ـ ولاتزال تردني ـ من أنباء مزلزلة وأخبارمروعة وحوادث دموية متتالية من *غوطة دمشق الشرقية المحاصرة*ما نغّصت عليّ عيشي، وأقلقت مضجعي،وطيّرت نومي، وأطالت سهدي وألمي ..... ومن منا لايعلم أن *منطقة غوطة دمشق الشرقية المحاصرة* شهدت أخيراً من أفظع عدوان وأشقى ضحية وأروع مشهد مالا يتصور، وأن القصف الوحشي العنيف الذي تعرضت له هذه المنطقة منذ سنوات أخيرة عمومًا ومنذأيام خصوصًا من قبل النظام السوري بدعم روسي وإيراني تقشعر الجلود بمجرد سماعه، وتنخلع القلوب من مشهده الفظيع المروع .

صحبت صالح اور مجالس خیر

مولانا دبیر احمد کاشف القاسمی
استاد عربی ادب مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ


ِِِفطرتِ انسانی :
اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو ایک معاشرتی اور سماجی مخلوق بنایا ہے ۔وہ سماج اور معاشرہ سے کٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا ۔ احتیاج ومجبوری انسانی فطرت کا خاصہ ہے اس لیے انسا ن زندگی کے ہر موڑپر اپنے ابنائے جنس کی ضرورت محسوس کرتاہے۔ اس لیے ایک صالح انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسانوں کے باہمی تعلقات استواراو مستحکم ہوں۔ اسلامی تعلیمات کا اگر ہم جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اسلام نے جس طرح انسانی رشتوں اورسماجی رابطوں کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے کسی دوسرے مذہب میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔
اسلام نے انسانوں کے باہمی تعلقات اورسماجی رشتوں کی اہمیت پر اس قدر زوردیاہے کہ اسلام کا پورا فلسفۂ اخلاق اسی ایک محور کے گرد گھومتا نظرآتاہے چنانچہ اگر آپ اسلام کی اخلاقی تعلیمات پرایک نظر ڈالیں جس کی روح انسانوں کے ساتھ محبت وخیر خواہی ،عدل ومساوات اور انسانیت کا احترام ہے تو بخوبی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان تعلیمات کامقصد ایک ایسے صالح معاشرہ کی تشکیل ہے جس میں انسانوں کے درمیان کامل ربط واتحاد اور موافقت وہم آہنگی پائی جائے