بدھ، 4 جولائی، 2018

مما راقنی

محترم خالد ضیا صدیقی ندوی صاحب عربی زبان کے شناور ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اردو زبان وادب کا بھی بہت عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک طرز تحریر ہے۔ ان کی تحریریں سادگی، سستگی، شگفتگی اور ادبیت کی شاہکار ہوتی ہیں۔ ان دنوں موصوف نے ’’مما راقنی‘‘ کے تحت عربی امثال کا محاوراتی اردو متبادل پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ 
آپ کو معلوم ہوگا کہ محاورہ، کہاوت، ضرب الامثال کسی بھی زبان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے اور ان محاروں اور کہاوتوں کا اپنا ایک تاریخی، تہذیبی اور تمدنی پس منظر ہوتا ہے۔ ایک زبان کے محاورے کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا اور وہی بھی اس دوسری زبان کے اپنے تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں یقینا بڑا اور اہم کام ہے۔ 
یہاں ’’مما راقنی‘‘ کے سلسلے کو قسط وار پیش کیا جارہا ہے۔ امید ہے عربی و اردو کے طلبا و اساتذہ اس سے فیض حاصل کریں گے۔ 
(1)

v   لَـمْ أجِــدْ لهــذاالقــولِ أبًاوأمًّـا .
v   يہ بے سروپابات ہے /اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ـ

v   الخَيْبـةُ مُـلازِمَــةٌ لَــه مُلازَمَـةَ ظلِِّــه لِجَسَــدِه .
v   ناکامی ہمیشہ سایے کی طرح اس کے ساتھ لگی رہی ـ

منگل، 3 جولائی، 2018

ازل سے اوج مقدر ہے اردگاں کے لیے

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 52
  فضیل احمد ناصری





نہ داستان سرائی، نہ عیشِ جاں کے لیے
خدا نے تم کو اتارا ہے امتحاں کے لیے
ادھر ادھر نہ جھکاؤ کہ اٹھ نہ پاؤگے
یہ سر بنا ہے کسی اور آستاں کے لیے