پیر، 2 اپریل، 2018

خواتین کے احتجاجی مظاہروں پر ایک ناقدانہ نظر

 فضیل احمد ناصری
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

وقرن فی بیوتکن
حالیہ چند ماہ سے مختلف موضوعات پر خواتین کے احتجاجی مظاہرے سامنے آ رہے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں اب تک ہزاروں کی ہزاروں کی تعداد میں حوا کی بیٹیاں سڑکوں پر اتر چکی ہیں۔ ادھر چند ماہ سے حکومت کے طلاقِ ثلاثہ مخالف بل کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ان سے مظاہرے کروا رہا ہے۔ خواتین تختیاں ہاتھوں میں لیے حکومت تک اپنا موقف پہونچا رہی ہیں۔ کبھی سڑکوں پر۔ کبھی میدانوں میں۔ یہ مناظر ٹیلی ویژن سے گزر کر دیگر ذرائعِ ابلاغ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چھائے ہوئے ہیں۔ منڈلائے ہوئے ہیں۔ بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں سے ان احتجاجات کی پذیرائی کر رہے ہیں۔ ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ انہیں علمی غذا فراہم کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ ان کی نظر ہے، تاہم ملک کے بہت سے علم دوستوں کو تشویش بھی ہے۔ خود مجھے بھی۔ میں نے بارہا خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔ متعدد تاویلات قوتِ مدرکہ کے سامنے رکھیں۔ ہر زاویے سے اسے قائل کرنا چاہا، مگر طبیعت ماننے کو حبہ بھر تیار نہ ہوئی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ میری طبیعت ہی آبی تھی، اس لیے ان مظاہروں کو قبول نہ کر سکی، بلکہ حق یہ ہے شریعت نے اسے قبول کرنے پر آمادہ ہونے ہی نہ دیا۔


حرام چیزوں میں خانہ ساز تاویلات
اصل موضوع پر کلام سے پہلے پیغمبرﷺ کی ایک پیش گوئی سنانا ضروری سمجھتا ہوں۔ فرمایا: 
جب امت شراب کو مشروب کے نام سے اور رشوت کو تحفے کے نام سے حلال کرلے گی اور مالِ حرام سے تجارت کرنے لگے گی تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا۔ گناہوں میں زیادتی اور ترقی کے سبب۔
یہ حدیث مسند الفردوس اور کنزالعمال میں آئی ہے۔ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ نام بدل بدل کر حرام کو حلال کرنے لگیں تو انہیں تباہی سے کوئی روک نہیں سکتا۔ جیسا کہ آج مشاھدے میں ہے کہ خانہ ساز تاویلات کے ذریعے جواز کی راہیں نکالی جا رہی ہیں۔ شراب کو شربت، سود کو تجارت اور رشوت کو تحفہ کہا جا رہا ہے۔ کفارِ عرب نے بھی *انما البیع مثل الربا* کہہ کر سود کو تجارت کی طرح حلال باور کرلیا تھا۔ یہی تاویل خواتین کے بارے میں بھی کرلی گئی اور لوگ دھڑلے سے انہیں گھر سے نکال رہے ہیں۔

خواتین کی ریلیاں ایک فتنہ ہیں
سچ کہیے تو خواتین کی ریلیاں عصرِحاضر کے عظیم کے فتنوں میں سے ایک ہیں۔ قرآن میں تو جو ہے، سو ہے ہی، خود پیغمبر ﷺ خواتین کے بارے میں اپنی حیات کے آخری لمحات تک امت کو بار بار متنبہ فرماتے رہے : اتقوا النساء۔ عورتوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو! یہ بھی فرمایا: المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان۔ (ترمذی، ابواب النکاح) عورت پوشیدہ چیز ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے۔ یہ بھی ارشاد ہوا: اخروھن کما اخرھن اللہ۔ انہیں پیچھے رکھو، جیساکہ اللہ نے انہیں پیچھے رکھا۔ النساء حبائل الشیطان، خواتین شیطان کے پھندے ہیں۔ یہ اور انہیں جیسے لاتعداد فرامین ہیں، جن کے ذریعے مسلمانوں کی واضح رہ نمائی کی گئی۔ انہیں کے پیشِ نظر علمائے امت نے خواتین کو زیادہ سے زیادہ پردہ نشیں رہنے کا حکم دیا۔

مسجد سے ممانعت
ان احادیث کا اثر مسجد میں حاضری پر پڑا۔ خواتین پیغمبرﷺ کے عہد مسعود میں مسجد میں آیا کرتی تھیں۔ باجماعت نماز پڑھتی تھیں۔ آپ کے مواعظ سے بھی مستفید ہوتی تھیں، مگر ایک ارشاد یہ بھی تھا: 
*وبیوتھن خیر لھن* (ابوداؤد، کتاب الصلوٰۃ) ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں۔
سرکار علیہ السلام کی جانب سے ان کے لیے خاص ہدایات بھی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ان کی صف سب سے اخیر میں بنائی جائے، مگر اب ان پر پابندی ہے۔ سخت ترین پابندی۔ ان کے لیے مسجد میں حاضری کی کوئی شکل جائز نہیں رہی۔ حالانکہ احادیث میں ان کی حاضری کے قصے موجود ہیں۔ فتنے کے امکانات نے عدمِ جواز کے سوا کسی طرف جانے کی اجازت ہی نہیں دی۔ مفتی رشید احمد لدھیانویؒ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
عورتوں کو مسجد میں جانا مکروہِ تحریمی اور ممنوع ہے۔ دونوں حدیثوں میں تطبیق ظاہر ہے۔ حدیثِ اول سے اباحت لعینہ ثابت ہوتی ہے اور حدیثِ ثانی سے حظر لغیرہ۔ یعنی فسادِ زمانہ کی وجہ سے ممانعت ہے۔ جب دورِ صحابہ میں ہی عورتوں کو مسجد میں جانے سے روک دیا گیا تو اس دورِ فتنہ و فساد میں اس کی اجازت کیوں کر دی جا سکتی ہے؟ (احسن الفتاوی، ج، 6 ص، 465)

امامت سے روک دیا گیا
اسی فتنے سے بچنے کے لیے انہیں امامت سے بھی روک دیا گیا۔ ان کی جماعت کو بھی بہتر نہیں جانا گیا۔ یہاں یہ بھی عرض ہے کہ نماز کی امامت کو امامتِ صغریٰ، جب کہ حکومت کی سربراہی کو امامتِ کبریٰ قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح خواتین امامتِ کبریٰ نہیں کر سکتیں، امامتِ صغریٰ بھی نہیں کر سکتیں۔ حضرت علیؓ کا ارشاد ہے:
لاتؤم المرأۃ (اعلاء السنن، حدیث نمبر 1233)
اسی لیے فقہائے امت نے صاف لکھا ہے کہ:
یکرہ تحریماً جماعۃ النساء ولو فی التراویح (ردالمحتار، ج 1،ص 83) 
یعنی عورتیں مردوں کی امامت نہیں کر سکتیں، صرف عورتوں کی امامت کر سکتی ہیں، جب کہ یہ بھی مکروہ ہے۔


سیاست میں شرکت ممنوع
خواتین کی عفت و پاک دامنی کے پیشِ نظر سیاست میں ان کی مرکزی شرکت ممنوع قرار دی گئی۔ پیغمبرﷺ نے فرمایا: لن یفلح قوم ولّوا امرھم امرأۃ۔ جس ملک کی حکمرانی عورت کے حوالے ہو، تباہی اس کا مقدر ہے۔ (بخاری شریف)۔ علامہ قلقشندیؒ نے اصولِ سیاست پر جو کتاب لکھی ہے، اس میں انہوں نے سربراہِ حکومت کی چودہ صفاتِ اہلیت بیان کی ہیں۔ ان شرائط کے آغاز میں ہی وہ فرماتے ہیں:
*الاول: الذکورۃ۔۔۔ والمعنیٰ فی ذلک ان الامام لایستغنی عن الاختلاط بالرجال والمشاورۃ معہم فی الامور والمرأۃ ممنوعۃ من ذلک* پہلی شرط مرد ہونا ہے۔ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ سربراہِ حکومت کو مردوں کے ساتھ اختلاط اور ان کے ساتھ مشوروں وغیرہ کی ضرورت پیش آتی ہے اور عورت کے لیے یہ باتیں ممنوع ہیں۔ (احسن الفتاویٰ، ج 6،ص 162)
علامہ ابن حزمؒ نے اپنی کتاب (مراتب الاجماع، ص 126) میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ:
واتفقوا علی ان الامامۃ لاتجوز لامرأۃ۔ یعنی اس بات پر تمام علما کا اتفاق ہے کہ حکومت کی سربراہی کا منصب کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے۔ (احسن الفتاویٰ، ج 6 ص، 149)

جہاد میں شرکت بھی ان پر فرض نہ ہوئی
حتی کہ جہاد جیسی عظیم الشان عبادت بھی ان پر فرض نہیں کی گئی، چناں چہ مجمع الزوائد، ج 2،ص 170 میں حضورﷺ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے: 
لیس علی النساء غزو۔ عورتوں پر جہاد فرض نہیں۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلمہؓ نے شوقِ جہاد میں حضورﷺ سے یہ عرض کیا کہ مرد جہاد کرتے ہیں، مگر عورتیں جہاد نہیں کرتیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
*ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علیٰ بعض* (ترمذی، کتاب التفسیر) ۔ ان چیزوں کی تمنا نہ کرو جن میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
عہدِ رسالت میں اگرچہ بعض خواتین بھی جہاد میں گئی ہیں، مگر لڑنے کے لیے نہیں، بلکہ زخمیوں کی مرہم پٹی کے لیے۔ اس لیے نہیں کہ جہاد ان پر فرض تھا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:
وقد کان یغزو بھن فیداوین الجرحیٰ ویحذین من الغنیمۃ واما بسہم فلم یضرب لھن (مسلم شریف، کتاب الجہاد) آپ علیہ السلام عورتوں کو جہاد میں لے جاتے اور وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور انہیں مالِ غنیمت میں سے کچھ حصہ بطور انعام دیا جاتا۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کے لیے مالِ غنیمت کا باقاعدہ حصہ نہیں لگایا۔

تبلیغی جماعت میں جانا بھی ناجائز
علما نے انہیں تبلیغی جماعت کے اسفار پر بھی پابندی لگادی، کچھ علما ضرور مشروط اجازت دیتے ہیں، مگر بیش تر اہلِ علم کسی بھی حال میں اسے روا نہیں سمجھتے۔ احسن الفتاویٰ ج، 8 ص، 55 میں آٹھ صفحات میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے، آغازِ کلام یوں ہے:
عورتوں کا گھروں سے نکلنا بہت بڑا فتنہ ہے، اس لیے حضراتِ فقہائے کرامؒ نے اس پر بہت سخت پابندی لگائی ہے اور دینی کاموں کے لیے بھی عورتوں کے نکلنے کو بالاتفاق حرام قرار دیا ہے۔ قال العلامۃ الخوارزمی ناقلاً عن فخرالاسلام رحمہما اللہ تعالیٰ: والفتویٰ الیوم علی الکراھۃ فی الصلوات کلہا لظہور الفساد ومتی کرہ حضور المسجد للصلوۃ لان یکرہ حضور مجالس العلم خصوصاً عند ھؤلاء الجہال الذین تحلوا بحلیۃ العلم اولیٰ (الکفایۃ مع فتح القدیر)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، ج 16، ص 208 میں بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مولانا عبدالرحیم لاجپوریؒ نے بھی اسے ناجائز ہی کہا ہے۔

مدرستہ البنات میں بھی اقامت ناجائز
ان کی اسی عفت کے پیشِ نظر لڑکیوں کے اقامتی ادارے بھی ممنوع ٹھہرائے گئے ہیں۔ (دیکھیے احسن الفتاویٰ ج، 8)

پھر احتجاجی مظاہرے کیسے جائز ہو گئے؟
آپ نے مندرجہ بالا ملحوظات پڑھ لیے تو اب آپ کے ذہن میں خود ہی یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ جب یہ سب جائز نہیں، تو پھر یہ احتجاج کیوں کر جائز ہو سکتا ہے؟ آپ کا یہ سوال بالکل برحق اور مبنی بر صواب ہے۔ خواتین کا یہ احتجاج کسی بھی طرح درست نہیں۔ اس کے پیچھے دلائل بھی ہیں۔ آپ ﷺ کا مکی دور بے حد عسرتوں میں گزرا، مگر خواتین کا کوئی جلوس نہ نکلا۔ مدینے میں بھی حالات خراب کیے گئے، مگر مستورات کے کسی احتجاج کا ثبوت نہیں ملتا۔ پوری ساڑھے چودہ صدیاں گزر گئیں، لیکن اس طرح کا طرزِ عمل پڑھنے میں نہیں آیا۔ واضح ہوا کہ یہ عمل غیر ثابت اور مبتدعانہ ہے۔ آپ خود سوچیے کہ جب پردے کی بناپر عورت پر تلاشِ معاش کی ذمے داری نہیں ڈالی گئی، جس پر جمعہ واجب نہیں،کسی جنازے کے ساتھ جانا جائز نہیں، بے محرم سفر درست نہیں، تنہا ہونے کی صورت میں حج کی ادائیگی فرض نہیں، جہاد فرض نہیں، جماعت سے نماز پڑھنا واجب نہیں، گھر میں تنہا نماز پڑھنا باہر کی باجماعت نماز سے افضل ہے، جماعتی اسفار میں جانا جس کے لیے ممنوع ہے، سیاست میں حصہ داری جس پر ممنوع رکھی گئی، امامت کرنا ممنوع ہے، جس کی گواہی آدھی گواہی سمجھی گئی، وہ بھی اس وجہ سے کہ ان کا گھر سے نکلنا فتنہ ہے،تو پھر انہیں گھروں سے نکالنا، وہ بھی تشکیل کر کر کے، اپیلیں فرما کر، تحریکیں چلا کر۔ چندے کر کے۔ کہاں سے اور کیوں کر درست ہو سکتا ہے؟ ۔ قرآن تو ببانگِ دہل کہتا ہے: *وقرن فی بیوتکن* یعنی اے مستورات! اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔
مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نے اسی آیت کو بنیاد بنا کر سیاست میں خواتین کی حصہ داری پر کئی صفحات لکھ ڈالے ہیں اور انہوں نے صاف کہا ہے کہ خواتین کے لیے گھر کا قیام ضروری ہے، نہ کہ باہر بلاضرورت نکلنا۔ وہ کہتے ہیں:
اس آیت میں واضح طور سے بتادیا گیا ہے کہ عورت کی اصل ذمہ داری اس کے گھر کی ذمہ داری ہے۔ اسے باہر کی جدوجہد سے یکسو ہو کر اپنے گھر کی اصلاح اور اپنے گھرانے کی تربیت کا فریضہ انجام دینا چاہیے، جو در حقیقت پوری قوم اور معاشرے کی بنیاد ہے۔ لہذا گھر سے باہر کی کوئی ذمے داری (استثنائی حالات کو چھوڑ کر) بحیثیتِ اصول کسی عورت کو نہیں سونپی جا سکتی (احسن الفتاویٰ، ج 6،ص 151)

کوئی بھی دارالافتاء اس کے جواز کا قائل نہیں
مجھے روزِ اول سے ہی یہ چیز کھٹک رہی تھی۔ قرآن و احادیث کی تعلیمات سامنے تھیں۔ کسی وقت بھی ذہن میں جواز کا شمہ بھی نہیں آیا۔ دل اپنے موقف پر الحمدللہ پوری طرح مطمئن تھا، تاہم ازدیادِ اطمینان کے لیے متعدد علما سے تبادلہ خیال بھی کرتا رہا، حتی کہ بعض دارالافتاؤں سے بھی رجوع کیا، مگر ہر جگہ سے عدمِ جواز کا فتویٰ سننے کو ملا۔ دارالعلوم دیوبند کا دارالافتاء بھی ان میں شامل ہے۔ سب کے پیشِ نظر وہی دلائل تھے، جو اوپر مذکور ہوئے۔ جواز کے لیے کسی کے پاس کوئی گنجائش نہیں تھی۔

ان مظاہروں کے نقصانات
طلاقِ ثلاثہ بل کے خلاف خواتین کے یہ مظاہرے فوائد پر تو کچھ بھی نہیں، نقصانات پر ضرور مشتمل ہیں۔ پہلا نقصان تو یہی کہ *قرن فی بیوتکن* کے سراسر خلاف ہونے کی وجہ سے بدعت ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ محض ضیاعِ وقت ہے۔ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو جب مسلمان کے ووٹوں کی ضرورت نہیں، تو وہ ان کا نخرہ کیوں جھیلے گی۔ نتیجتاً اس کے جی میں جو آتا ہے، کرتی ہے۔ تیسرا یہ کہ خواتین کو گھروں سے نکال کر ایک نئی بدعت چلائی گئی۔ چوتھا یہ کہ ان میں سے بیش تر کا خروج بغیر محرم ہوتا ہے۔ چھٹا یہ کہ ان جلوسوں سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ خواتین کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان کے شوہر انہیں تین ہی طلاقیں دیں، نہ کہ کم ۔ ساتواں یہ کہ ان کی تصویریں ذرائعِ ابلاغ میں شائع ہو رہی ہیں۔ آٹھواں یہ کہ خواتین ایسے برقعے زیب تن کر رہی ہیں، جن سے عریانیت واضح ہے۔ نواں یہ کہ کئی خواتین کھلے چہرے شرکت کر رہی ہیں۔ دسواں یہ کہ یہ جلوس دراصل حکومت کا ایک طرح سے تعاون ہے، کیوں کہ خواتین کو نکال کر اربابِ حکومت نے برادرانِ وطن کو دکھا دیا کہ ان کی حکومت سے مسلمان اس درجہ پریشان ہیں کہ مرد تو مرد، خواتین بھی گھروں سے نکل آئیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حریف کو خوشی فراہم کرنا ہے، نہ کہ تفکر و حیرانی۔
ان کے علاوہ اگر یہ احتجاج چلایا جاتا رہا تو سلسلہ کہیں نہیں رکے گا، کیوں کہ حکومت روز تحفظِ خواتین کے نام پر روز شوشے چھوڑتی رہے گی۔ تازہ مظاہرے سے فرصت ملے گی تو تعددِ ازواج کے خلاف بھی ریلیاں کرنی پڑیں گی۔ ان سے فرصت کے بعد حلالہ کے خلاف اور پھر متعہ کے خلاف۔ پتہ چلا کہ ایک غیر شرعی کام لاتعداد ممنوعات کا سببِ اعظم ٹھہرے گا۔ یہ بھی پیشِ نظر رکھیے کہ متبادل موجود ہے۔ مرد اپنے پرزور احتجاج سے حکومت کو جگا سکتے ہیں۔ مرد جیسے متبادل کے باوجود خواتین کو مظاہروں میں اتارنا بالکل ایسا ہے، جیسے شیر کے مقابلے میں ہرن کھڑا کر دینا۔

یہ کام خالص مردوں کا تھا
مجھے حیرت ہے کہ جو کام خالص مردوں کا تھا، اسے عورتوں کے نازک کندھوں پر کیوں ڈال دیا گیا؟ 28 دسمبر کو جس وقت طلاقِ ثلاثہ کے خلاف بل پاس کیا گیا،30 سے زیادہ مسلم ممبرانِ پارلیمنٹ تھے، سب صومِ خموشی رکھے ہوئے تھے۔ دو علما بھی اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر رہے۔ بولا تو صرف اسد اویسی، ورنہ ہر طرف سناٹا تھا۔

مردوں کا جلوس نکالنا چاہیے
پہلی بات تو یہ کہ مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کا متحدہ پلیٹ فارم مانا جاتا ہے، اسے اسلامی تعلیمات کی پاس داری بہرصورت کرنی چاہیے تھی۔ اسے خواتین کا یہ جلوس نکالنا ہی تھا تو ملک کے مرکزی دارالافتاؤں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ پھر یہ کہ یہ کام مردوں کا ہے، عورتوں کا نہیں۔ مرد جس قوت کے ساتھ احتجاج کر سکتے ہیں۔ صبر و ضبط کا ان میں جو مادہ ہے۔ ہجومی گرمی جھیلنے کی ان میں جو لیاقت ہے، خواتین میں کہاں۔ بورڈ کو چاہیے کہ دین ضرور بچائے، مگر دین کے دائرے میں۔ دیش کا بھی تحفظ کرے، مگر اسلام کی حدود میں۔ امید ہے کہ یہ ریلیاں اب موقوف کر دی جائیں گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں