تازہ
بہ تازہ، سلسلہ 52
فضیل
احمد ناصری
نہ داستان سرائی، نہ عیشِ جاں کے لیے
خدا نے تم کو اتارا ہے امتحاں کے لیے
خدا نے تم کو اتارا ہے امتحاں کے لیے
ادھر
ادھر نہ جھکاؤ کہ اٹھ نہ پاؤگے
یہ سر بنا ہے کسی اور آستاں کے لیے
یہ سر بنا ہے کسی اور آستاں کے لیے
نوائے
قمری و بلبل سے بھاگنے والو
ترس نہ جاؤ کہیں تم اسی اذاں کے لیے
ترس نہ جاؤ کہیں تم اسی اذاں کے لیے
مری
سخن کو عزیزو! سنبھال کر رکھنا
بنے گی تیر یہی شے، تری کماں کے لیے
بنے گی تیر یہی شے، تری کماں کے لیے
کوئی
شکست چکھائے تو کیوں چکھائے اسے
ازل سے اوج مقدر ہے اردگاں کے لیے
ازل سے اوج مقدر ہے اردگاں کے لیے
جنوں
سے تم بھی ثریا مقام ہو جاؤ
نہیں یہ رفعتِ شاں صرف آسماں کے لیے
نہیں یہ رفعتِ شاں صرف آسماں کے لیے
جسے
بھی دیکھیے، دنیا پہ جان دیتا ہے
نہیں ہےفکر کسی کو بھی اُس جہاں کیلیے
نہیں ہےفکر کسی کو بھی اُس جہاں کیلیے
محل
میں سو گئے یا پھر گلیم پوش ہوئے
کوئی کلیم نہیں اپنے کارواں کے لیے
کوئی کلیم نہیں اپنے کارواں کے لیے
میں
اپنےخواب کےپہلومیں کس طرح جاؤں
کہ یہ حرام ہے ملت کے پاسباں کے لیے
کہ یہ حرام ہے ملت کے پاسباں کے لیے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں