احتشام الحق قاسمی رامپوری
ریاستہائے متحده امریکه جو فی الوقت پوری دنیا کا سپرپاور ہے اس کے ایک مشہور و معروف صدر کا ایک سلوگن تھا ۔ I have a dream (میرا ایک سپنا ہے)۔ اس صدر نے اپنے سپنے کو عام امریکیوں کا سپنا بنادیا اور پھر اپنے خواب کی سنہری تعبیر تلاش کرنے کی امریکی صدور اور اسکی عوام نے جو کوششیں کیں اس نے امریکیوں کو ایک ناقابل تسخیر عالمی سپر پاور بنا دیا اور امریکہ کو تمام جمہوری حقوق عطا کرنے والا ملک بنادیا۔ لیکن اس کے برعکس آج سے تین سال قبل ہمارے پیارے ملک ہندوستان کے وزیر اعظم عہدے کے دعویدار نریندر بھائی مودی نے بھی ایک سپنا دیکھا۔ انہوں نے اپنے سپنوں کی سیر تمام ہندوستانیوں کو سینکڑوں ریلیوں اور بھاشنوں میں خوب کرائی۔ اپنے سپنے کی تعبیر دلی کے اقتدار کی شکل میں تو انہوں نے حاصل کرلی لیکن اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد ہندوستانی عوام کو جس طرح انہوں نے ٹھینگا دکھا یا وه یه ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے که ہمارے پردهان سیوک واقعی سپنوں کے سوداگر ہیں۔
کبھی انہوں نے 15/15 لاکھ روپیه دینے کا سپنا دکھایا ۔ کبھی انڈیا فرسٹ کا سپنا ۔ کبھی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا سپنا ۔ کبھی سوکچھ بھارت کا سپنا ۔ کبھی ہرسال دوکڑور روزگار دینے کا سپنا۔ کبھی بدعنوانی سے پاک ہندوستان کا سپنا۔ کبھی پاکستان کو نیست و نابود کردینے کا سپنا ۔ کبھی بیٹی بچائو بیٹی پڑھاؤ کا سپنا۔ کبھی ایک ہاتھ میں کمپیوٹر اور دوسرے ہاتھ میں قرآن دینے کا سپنا۔ کبھی میک ان انڈیا کا سپنا۔ کبھی نیو بھارت کا سپنا ۔
خلاصه کلام یه که ہمارے پردھان سیوک نے سپنے دکھا دکھا کر جو ووٹوں کی تجارت کی ہے اس میں واقعی وه کامیاب ہیں۔ آزاد بھارت کی تاریخ میں کبھی بھی اتنی قلیل مدت میں ہندوستانیوں کو اتنے سپنے نہیں دکھائے گئے جتنے پچھلے تین سالوں میں دکھائے گئے ہیں ۔ ایک عام ہندوستانی جب اپنے نیتائوں کے ذریعے دکھائے گئے سپنوں کا جائزه لیتا ہے تو اسے انڈافرسٹ کے بجائے گورمنٹ فیل، 15/15لاکھ کی جگہ کھانے کے لالے، دوکڑور روزگار پیدا کرنے کی جگہ کڑوروں لوگوں کی بے روزگار ی، سوچھ بھارت کے بجائے سلگتا بھارت ، میک ان انڈیا کے بجائے گورکچھا آتنک، سب کاساتھ سب کا وکاس کے بجائے سب کا ساتھ دوست کا وکاس، کالا دھن واپس لانے کے بجائے عوام کے جیبوں پر ڈاکہ، کاروبار میں سہولت کے بجائے گبر سنگھ ٹیکس، بیٹی بچائو بیٹی بڑھائو کے بجائے بیٹیوں کی بے عزتی، پاکستان کو نیست و نابود کرنے کے بجائے بن بلائے مہمان، کمپیوٹر اور قرآن کے بجائے قاتلوں کا ہجوم، بدعنوانی سے پاک بھارت کے بجائے بدعنوانی میں ڈوبتا بھارت ، نیوانڈیا کے بجائے ہندو راشٹر ،جمہوریت کےبجائے تانا شاہی ۔
عدم برداشت کا بڑھتا رجحان
میڈیا کی سنگھ بھگتی
بولنے والوں کا قتل
لکھنے والوں کا قتل
اپنے من کا کھانے پینے والوں کا قتل
اپنی سہولت کا دھندا کرنے والوں کا قتل
فلم کے نام پر فساد
بھگوا یاترا کے نام پر فساد
گائے کے نام پر فساد
وندے ماترم کے نعروں کے نام پر فساد
بھارت ماتا کی جے کے نام پر وبال
بھگوان رام کے مقدس نام پر فساد
الغرض وه تمام سپنے جو ہندوستانیوں کو دکھائے گئے یا آئنده حکمراں طبقے کی طرف سے دکھائے جائیں گے، ان کی خوفناک معکوسی تعبیریں لگاتار سامنے آرہی ہیں۔
تو کیا یه سپنوں کے سوداگر کبھی ہندوستان کو امریکه کے ہم پله عالمی طاقت بنا پائیں گے۔