جمعرات، 8 مارچ، 2018

صحبت صالح اور مجالس خیر

مولانا دبیر احمد کاشف القاسمی
استاد عربی ادب مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ


ِِِفطرتِ انسانی :
اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو ایک معاشرتی اور سماجی مخلوق بنایا ہے ۔وہ سماج اور معاشرہ سے کٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا ۔ احتیاج ومجبوری انسانی فطرت کا خاصہ ہے اس لیے انسا ن زندگی کے ہر موڑپر اپنے ابنائے جنس کی ضرورت محسوس کرتاہے۔ اس لیے ایک صالح انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسانوں کے باہمی تعلقات استواراو مستحکم ہوں۔ اسلامی تعلیمات کا اگر ہم جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اسلام نے جس طرح انسانی رشتوں اورسماجی رابطوں کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے کسی دوسرے مذہب میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔
اسلام نے انسانوں کے باہمی تعلقات اورسماجی رشتوں کی اہمیت پر اس قدر زوردیاہے کہ اسلام کا پورا فلسفۂ اخلاق اسی ایک محور کے گرد گھومتا نظرآتاہے چنانچہ اگر آپ اسلام کی اخلاقی تعلیمات پرایک نظر ڈالیں جس کی روح انسانوں کے ساتھ محبت وخیر خواہی ،عدل ومساوات اور انسانیت کا احترام ہے تو بخوبی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان تعلیمات کامقصد ایک ایسے صالح معاشرہ کی تشکیل ہے جس میں انسانوں کے درمیان کامل ربط واتحاد اور موافقت وہم آہنگی پائی جائے
۔ اخلاق حسنہ پر اگر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے توبآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کا مقصد انسانی رشتوںکا استحکام اور تحفظ ہے ۔اخلاق ذمیمہ مثلاًحسد، کینہ، تکبر ،غیبت وچغل خوری، قطع رحمی اور بدگمانی وغیرہ سے بھی اس لیے سختی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے کہ یہ چیزیں باہمی تعلقات اور آپسی رشتوں پر منفی اثر ڈالتی ہیں اور معاشرے میں فساد اور بگاڑ کاباعث ہوتی ہیں ۔ معاشرتی اور سماجی رشتوں کی اہمیت کے پیشِ نظر ہی رسولِ خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: المؤمن الذی یخالط الناس ویصبر علی أذاہم خیر من المؤمن الذی لایخالط الناس ولایصبرعلی أذاہم’’وہ مؤمن جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرے اور انکی طرف سے پیش آ نے والی ایذائوں اور تکالیف پرصبر کرے وہ اس مؤ من سے بہتر ہے جو خلوت نشینی اور دنیا سے بے تعلقی کی زندگی گذارے اور لوگوں کی ایذائوں اور تکالیف پرصبرنہ کرے‘‘(رقم الحدیث ۳۸۳الادب المفردللبخاری ،۴۰۳۰ابن ماجہ ۸۷۵مسند احمد) حضرت علی کے اقوالِ حکمت میں ہمیں یہ قول بھی نظرآتاہے :’’أعجز الناس من عجزعن اکتساب الاخوان وأعجزمنہ من ضیع من ظفر بہ منہم‘‘درماندہ وناتواں ترین وہ شخص ہے جو کسی کواپنادوست نہ بناسکے اور اس سے بھی زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو پرانے دوستوں سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے۔
ماحول کاثر انسانی طبیعت پر :
انسانی تعلقات اور سماجی رشتوں کی اہمیت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان اپنے گردوپیش اور ماحول سے جس قدر متأ ثر ہوتاہے اتنازیادہ وہ کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا۔گردوپیش کی فضا اور ماحول کااثر صرف انسان پر نہیں پڑتابلکہ بعض اوقات عام حیوانات بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ،علم العمران کے ماہر علامہ ابنِ خلدون کے بقول وہ جانور جوصحرا میں رہتے ہیں انکی کھال میںخشونت وسختی نسبتا زیادہ پائی جاتی ہے، ان کے بالمقابل انسانی آبادی میں رہنے والے جانوروں کی کھالیں نرم ہوتیں ہیں ،ان میں توحش ودرندگی بھی ویسی نہیں پائی جاتی جیسی صحرائی جانوروں میں ہوتی ہے ۔ گردو پیش کاماحول جیساہوتا ہے انسان کی طبیعت پر عموماویسے ہی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، چنانچہ معاشرے میں اگر صلاح وخیر کاعنصر غالب ہو تو انسان میں صلاح وتقویٰ کے آثار نمایاں ہوں گے اور اگر معاشرہ اخلاقی اور عملی بگاڑ کاشکار ہوتو وہ فسق وفجور اور گناہ ومعصیت کا خوگرہوگا ۔ رسولِ خداﷺ کے اس ارشادِ گرامی میں اسی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے :’’کل مولود یولد علی الفطرۃ،فأبواہ یہودانہ اوینصرانہ أویمجسانہ کما فی البھیمۃ تنتج البھیمۃ ھل تری فیہا جدعاء(رقم الحدیث۱۳۳۰صحیح البخاری۴۸۰۹) ہربچہ فطرتِ اسلام پر پیداہوتا ہے پھراسکے والدین اس کو یہودی ،نصرانی یامجوسی بنادیتے ہیں ،اس کی مثال ایسی ہے جیسے جانور کا بچہ صحیح سالم پیداہوتاہے ،کیاتم دیکھتے ہو کہ ان میں کوئی ایسا بچہ بھی پیداہوتاہے جسکے اعضاء ناتمام ہوں ۔
ظاہر کااثر باطن پر
انسان اپنے ماحول اور گردو پیش کے حالات سے کس درجہ متأثر ہوتاہے اسکو ایک اور مثال سے یوںسمجھیے کہ بعض اوقات انسان کے ظاہری اعمال کاثر اسکے باطن پر بہت گہراہوتاہے؛چنانچہ اگر اس کاظاہر پاک اور صاف ستھرا ہوتو کوئی عجب نہیں ہے کہ اس کی ظاہری نظافت وپاکیزگی اس کے باطن کے غبارکو بھی دھل دے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نظافت وپاکیزگی کو ایمان کانصف قراردیا ہے ۔ دوسری قوموں سے تشبہ اختیار کرنے سے سختی سے روکاگیااور انکے رسم رواج ،تمدن وکلچر کے بہ جائے اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب کو ایک مسلمان کی زندگی کادستورالعمل قراردیاگیا ۔ آپ ﷺکا ارشاد ہے :من تشبہ بقوم فہومنہم  بعض اعمال ظاہری جذبہ اور ظاہری کیفیت کے ساتھ انجام دیے جاتے ہیں لیکن اجروثواب کے اعتبار سے ان کادرجہ خداتعالی کے یہاں ان اعمال کاساہوتاہے جواخلاص سے کئے جاتے ہیں ۔حدیث شریف میں ہے :فان لم تبکو فتباکوا‘‘اگر نماز میں رونانہ آئے تورونے کی سی صورت اختیار کرلو۔ غزوۂ حنین سے واپسی کے موقع پر آپ ﷺ نے ایک مقام پر نماز کیلئے پڑاؤ ڈالا حضرت بلالؓ نے اذان کہی تومشرکین کے کچھ بچے جووہاںکھیل کود میں مصروف تھے اذان کامذاق اڑانے لگے ،ان بچوں میں حضرت ابومحذورہ بھی تھے آپ ﷺ نے ان کو اپنے قریب بلایا اور دوبارہ اذان کے کلمات کہلوائے ابومحذورہ کی عمر اس وقت سولہ برس تھی ان کلمات کامفہوم وہ خوب سمجھتے تھے یہ انکے مشرکانہ عقیدے سے متصادم تھا اسلئے انھوں نے جھجکتے ہوئے یہ الفاظ کہے مگراِسے ظاہری الفاظ کی تاثیر کہیے یااعجازِ مسیحائی کہ اسکا اثر ان کی روح میں اتر تاچلاگیا ۔
ماحول کی اثر انگیزی حکومتی قوانین سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے چنانچہ حدود وتعزیرات کے ذریعے اس طرح جرائم پر قابونہیں پایاجاسکتا جس طرح اچھی تربیت انسان کو جرائم سے باز رکھ سکتی ہے۔ تعزیرات اور سزائیں گناہوں کا خوف تو دل میں پیدا کرسکتی ہیں لیکن گناہوں کی نفرت دل میں نہیں بٹھاسکتیں اس لئے اسلام نے معاشرہ کی اصلاح پر بہت زور دیاہے ،جب تک ایک اچھاماحول پیدا نہ ہوجائے کوئی صالح معاشرتی انقلاب رونمانہیں ہوسکتا ۔رسول اللہ ﷺ نے بچوں کے والدین کو حکم فرمایاکہ:مرواأولادکم بالصلاۃ وہم ابناء سبع سنین واضربوہم علیہا وہم ابناء عشر‘‘تاکہ ابتدا سے انہیں اچھااور بہتر ماحول ملے اور آگے چل کر ان کی شخصیت کی تعمیر صحیح خطوط پر ہوسکے ۔
نیک صحبت کی اہمیت
قرآن وسنت میں بار بارتاکید کے ساتھ صالحین کی صحبت اختیار کرنے ،مجالس ِخیر میں بیٹھنے اور بری صحبت سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ یاأیہاالذین آمنوا اتقواللہ وکونوامع الصادقین (توبہ۱۱۹)اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کی صحبت اختیار کرو ۔ ایک موقع پرآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’لاتصاحب الا مؤمناًولایأکل طعامک الاتقی‘‘تم مو من اور متقی لوگوں کے علاوہ کسی اور کواپنادوست نہ بنائو اور تمہاراکھاناصرف متقی لوگ کھائیں ۔ یہ ہے اسلام کاتصورِ محبت ودوستی ،دوستوں کے عقائد واعمال اور افکار ونظریات انسان پر گہرا اثر ڈالتے ہیںاس لئے دوست کے انتخاب سے پہلے بہت غور وفکر کی ضرورت  ہے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :المرء علی دین خلیلہ فلینظرأحدکم من یخالل‘‘انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتاہے ،اس لئے تم میں سے ہر شخص کودیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہاہے ۔ جس طرح اہلِ صدق واہلِ تقویٰ کی صحبت انسان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالتی ہے اسی طرح برے لوگوں کی صحبت وہم نشینی کے منفی اثرات بھی زندگی پر پڑتے ہیں ،رسول ﷺ نے ایک دلنشیں مثال کے ذریعہ اسکی وضاحت فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ برے ہم نشیں اور اچھے ساتھی کی مثال عطار اور لوہار کی سی ہے ۔اچھا ساتھی عطر فروش کی طرح ہے کہ یا تو وہ تمہیں عطر تحفت دیگا یا تم اس سے عطر خرید کروگے یا کم ازکم تم اس کے پاس اس کی پاکیزہ خوشبو سے لطف اندوز ہوگے۔برا ساتھی بھٹی میں دھونکنے والے کی طرح ہے جو یاتو تمہارے بدن اور کپڑے کو جلا دے گایا تم اس کی بدبو پاؤگے۔  ابن عباسؓ فرماتے ہیں :لاتجالس أھل الأہواء فان مجالستہم ممرضۃ للقلب‘‘بروں کی صحبت میں نہ بیٹھو اس لئے کہ انکی صحبت دل اور روح کو بیمار کردیتی ہے ۔ بروں کی صحبت دین وایمان کو تباہ کردیتی ہے اور انسان کو راہِ حق سے منحرف کردیتی ہے ،بروں کودوست رکھنے والا قیامت میں پشیمان اور شرمندہ ہوگا ،وہ کہے گا کہ اے کاش میں فلاں شخص کو اپنادوست نہ بنایاہوتا اس نے مجھے حق حاصل ہونے کے بعد راہِ حق سے پھیر دیا ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یالیتنی لم اتخذفلاناخلیلالقد اضلنی عن الذکر بعداذجائنی (الفرقان ۲۷۰)
صحبت صالح کے ثمرات :
نبی ﷺ کے جمالِ جہاں آرانے حضراتِ صحابہ کو آسمانِ ہدایت کا درخشندہ ستارابنادیا ۔ یہ اس رہبرِ کامل کے فیضِ صحبت کااثرتھا کہ ذرے آفتاب وماہتاب بن گئے ،جو گم کردہ راہ تھے وہ اوروں کے ہادی اور راہبر بن گئے ۔ مدرسۂ نبوت کے خوشہ چینوں سے جنہوں نے اکتسابِ فیض کیا ،انہیں تابعی ہونے کاشرف حاصل ہوا ،انہوں نے نبوت سے قریب کازمانہ پایاتھا اسلیے وہ اخلاص وللہیت ،دیانت وتقوی اور انابت الی اللہ میں صحابہ کی ہوبہو تصویر تھے ۔ حضراتِ تابعین کی نگاہِ لطف ومحبت نے تبع ِ تابعین کو اخلاق واخلاص کاگوہرِ نایاب بنادیا ۔ در اصل یہ سب کرشمے تھے اہلِ سعادت کی صحبت وہم نشینی کے۔
صحبتے بااولیاء
لیکن یہ تو ان زمانوں کاذکر ہے جن کے خیر اور تمام زمانوں سے بہتر ہونے کی خبر خود رسول للہ ﷺ نے دی ہے ظاہر ہے کہ قیامت تک کے زمانوں تک ان کامتداد نہیں ہوسکتا تھا۔ چنانچہ حضرات صحابہ وتابعین اور اتباع تابعین کے بعد انسانوں کی اخلاقی وعملی تربیت اور روحانی اصلاح کا کام بزرگان دین اور روحانی پیشواؤں نے انجام دیا۔انہوں نے انسانوں کو محبت وانسانیت اور خداترسی کا درس دیا،گم کردہ راہوں کو منزل سے آشنا کیا۔وہ دلوں کے چاک کو سینے اور بکھرے انسانوں کو ایک رشتہ میں پرونے کا کام کرتے رہے۔ان کے وجود سے یہ دنیا کبھی خالی نہیں رہی۔ان کی سیرت کا اعجاز اور ان کے اخلاق کی پاکیزگی ہمیشہ غفلت شعار انسانوں کیلیے مہمیز کا کام کرتی رہی۔ انکی صحبت وہم نشینی کے بغیر نیکیوں کی طرف دل کارجحان میلان نہیں ہوسکتا اور نہ گناہوں کی نفرت دل میں پیداہوسکتی ہے اسلئے قرآنِ مجید نیاہلِ ایمان کو مخاطب کرکے کہا’’یایہاالذین آمنوااتقو اللہ وکونوامع الصادقین‘‘اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور ایسے لوگوں کی معیت وصحبت اختیار کرو جو اپنے اقوال وافعال اور ایمان میں سچے ہیں ۔دوسری جگہ ارشاد ہے :واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغداۃ والعشی‘‘اے نبی اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جمائے رکھیے جوشب وروز خداکی طاعت وعبادت میں مصروف رہتے ہیں ،جو فقط خداکی خوشنودی چاہتے ہیں اور اسکی مرضی پر رضامند رہتے ہیں ۔ مولانارومؒ نے صالحین کی صحبت کے اثرات کو اس طراح بیان فرمایاہے 
یک زمانہ صحبتے بااولیاء 
بہتر از صدسالہ طاعتِ بے ریاہر
ہرکہ خواہی ہمشینی باخدا 
اونشینید صحبتے بااولیاء
اولیاء کرام کی صحبت میں گذارے ہوئے لمحات سوسالہ بے ریا عبادت سے بھی بڑھ کر ہے ۔جو اللہ تعالی کی قربت کی تمنااور آرزورکھتاہے اسے چاہئے کہ صالحین کی صحبت اختیار کرے ۔ بعض عارفین کاقول ہے :کونوا مع اللہ فان لم تقدروا فکونو مع من یکون مع اللہ ‘‘۔
موجودہ دور فتنوں کا دور
موجودہ دور فتنوں کی طغیانی کا دورہے ،ذرائع ابلاغ کی وسعت ،سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقیات ،بے حیائیوں کے فروغ اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے فحش لٹریچر نے اخلاقی طور پر معاشرے کو تباہی کے دہانے پر کھڑاکردیا ہے،ایسے وقت میں اس کی اشد ضرورت ہے کہ اخلاقی اور روحانی قدروںکو فروغ دیا جائے۔اخلاقی انحطاط کا سدباب کیا جائے،بری صحبت اوربرے ماحول سے خود بھی بچاجائے اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کی جائے۔معاشرے کے فساد اور بگاڑ کو دورکرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ اس کے بغیر نہ معاشرہ کی اصلاح کا کام شرمندہ تکمیل ہوسکے گا اور نہ ہم ایک ایسی نسل تیا رکرسکیں گے جو عہد حاضر کے چیلینجز کا مقابلہ کر سکے اور علمی اور عملی میدانوں میں کوئی نمایاں اور قابل ذکر خدمت انجام دے سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں