استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند
تازہ بہ تازہ
(10)
دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک
جس نام سے طاغوت ہوا صورتِ اسپند
اس کو ہی زمانےمیں کہاجاتا ہےدیوبند
اس باغ کا ہر پھول ہے خوشبو کا مبلغ
اس بزم کا ہر رکن ہے خورشیدِ خداوند
رودادِ چمن آج بھی دیتی ہے گواہی
ہر ذرۂ دیوبند ہے اسلام کا پابند
تاریخ نے اک وادئ ایمن اسے سمجھا
فاراں نے بھی جانا اسے تقدیس کا اَلْوَنْد
اس کاخِ فقیری نے زمانے کو بتایا
کس شان کے ہوتے ہیں براہیمؑ کے فرزند
اس خاک کا سینہ بھی مدینے کی طرح ہے
اس پاک فضا میں نہیں موجود کوئی گند
طوفان میں یہ اور بھی ہو جاتا ہے محکم
ہوتی ہے چمک اور بھی حالات میں دوچند
حق بولنے والے ہوئے ماضی کے فسانے
اب زہرِ ہلاہل کو بتاتے ہیں سبھی قند
دیوبند مگر سینۂ گیتی پہ ہے جب تک
ہوگا نہ کبھی ہند میں توحید کا در بند
(11)
کوئی دارو نہیں، اب کور نگاہوں کے لیے
کوئی قانون بنے آج ہی شاہوں کے لیے
ورنہ تیار رہے ملک گناہوں کے لیے
آؤ پھر بیٹھ کے ہم رسمِ کہن تازہ کریں
کوئی دارو نہیں اب کور نگاہوں کے لیے
گرد ہیں کوہ مرے جوشِ سفر کے آگے
کیوں بچھاتے ہو چٹانیں مری راہوں کے لیے
دلِ صدپارہ کی منزل ہے خدا کی کرسی
راستے صاف ہیں، مظلوم کی آہوں کے لیے
خاندانوں میں ہیں تقسیم مسلماں اب بھی
یہ ہے شیخوں کےلیے، یہ ہےجلاہوں کیلیے
ہلکے مجرم پسِ زنداں تو پہونچ جاتے ہیں
کوئی تعزیر نہیں پشت پناہوں کے لیے
سر بکف ہو کے بھلا کون حقائق اگلے
کچھ تحفظ بھی فراہم ہو گواہوں کے لیے
تھی کسی دور میں آئینۂ ایام، مگر
اب صحافت ہے خواتین کی بانہوں کے لیے
جاؤ کچھ کام کرو، گنجفہ بازی چھوڑو
یہ عمل ٹھیک نہیں، تزکیہ گاہوں کے لیے


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں