ہفتہ، 10 فروری، 2018

تازہ بہ تازہ، سلسلہ 1/2/3:


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

(1)

اب گدا گر ہیں 


ہماری ملتِ بیضا ہی سب پہ چھائی رہی
اگرچہ بولَہَبوں سے سدا لڑائی رہی
جہاں جہاں سےبھی گزرے،ہمیں رہےفاتح
ہمارے زیرِ قدم کفر کی خدائی رہی
مقابلہ تھا سکندر میں اور قلندر میں
شہنشہی سے فزوں تر مری گدائی رہی

جو کل سکندرِ اعظم تھے، اب گداگر ہیں
ہماری محفلِ غیرت جمی جمائی رہی
وہ بت کدے سے جڑا تھا، اسی لیے چھوٹا
میں کلمہ خواں تھا، معلق مری رہائی رہی
خلوصِ دل تھا ہمارے بڑوں کا سرمایہ
ہماری منزلِ مقصود خود نمائی رہی
جہانِ گندم و جو سے نکل گئے وہ لوگ
دلوں میں جن کے شریعت سدا سمائی رہی
ملے گا کیا ہمیں اب سیرِ فصلِ گل کر کے
چمن میں جب نہ عنادل کی خوشنوائی رہی
اٹھے جو عالمِ فانی سے، کھل گئیں آنکھیں 
نہ اپنے لوگ رہے اور نہ دل ربائی رہی



(2)

ارتداد کے طوفاں میں کھو گئے


سب اہلِ کفر جنگ کے ساماں میں کھو گئے
مسلم تمام حسنِ شبستاں میں کھو گئے
دینی جماعتوں پہ بھی غلبہ ہے کفر کا 
مومن بھی ارتداد کے طوفاں میں کھو گئے
ہم محسنینِ قوم کو پہچانتے نہیں
ہم دشمنوں کے ہر لبِ خنداں میں کھو گئے
رہتے ہیں زندگی کی بڑی کشمکش میں ہم
اے غم گسار! ہم غمِ دوراں میں کھو گئے
انصاف کی امید ہمیں ہو تو کس لیے
منصف جوتھےسیاستِ پیچاں میں کھوگئے
بڑھتی ہی جا رہی ہے مسلماں کی بے حسی
سب لوگ شوقِ دیدِ نگاراں میں کھو گئے
دو چار دن ہی ہم کو ملے تھے حیات کے
وہ بھی مگر تصورِ جاناں میں کھو گئے
بڑھتے گئے حدود سے سارے ہی بت کدے
اہلِ حرم ہی دہشتِ زنداں میں کھو گئے
اب تو یہاں صداقتِ گفتار بھی ہے جرم
اے دوست! ہم تو صدمۂ پنہاں میں کھو گئے





(3) 

مسجدِ بابری جاتی ہے تو۔۔۔ 


بت کدے کو نہ بڑھاؤ، اسے کعبہ نہ کرو
اپنے ایماں کا خدا کے لیے سودا نہ کرو
واں نہ جاؤ،ترےپاؤں میں چبھیں گےکانٹے
کچھ بھی ہوجائے،مگر باغ سےنکلا نہ کرو
معرفت سارےدرختوں کی ہےانکے پھل سے 
اپنے مذہب کو خدا کے لیے رسوا نہ کرو
بزدلی دیں کی نگاہوں میں ہےدوشیزۂ کفر
جاؤ میدان میں، تقدیر کا شکوہ نہ کرو
مسجدِ بابری جاتی ہے تو جانے دو، مگر
کفر کے ہاتھ کسی حال میں سودا نہ کرو
اپنا حق لے کے رہو، جنگ سے پیچھے نہ ہٹو
ہار ہو جائے تو پھر کوئی بھی پروا نہ کرو
اپنے معبود کی رحمت پہ بھروسا رکھو
اہلِ زنّار کی تعداد کو دیکھا نہ کرو
ہو مسلماں، تو دکھائی دو مسلماں ہر دم
اپنی تہذیب کو قربانِ کلیسا نہ کرو
 بت شکن بن کے رہو، شیوۂ آزر چھوڑو
ہم دمو! پیروئ قیصر و کسریٰ نہ کرو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں