استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند
(4)
صنم خانے کے آگے۔۔۔
نگوں پھر ملتِ بیضا کا پرچم کر دیا تو نے
حرم والوں کو رسوائے دو عالم کر دیا تو نے
غبار آلودۂ کفر و ضلالت ہے جبیں تیری
صنم خانے کے آگے اپنا سر خم کر دیا تو نے
براہیمی عَلَم داروں کو پرغم کر دیا تو نے
تری بربادئ پیہم نے چھینا ہے سکوں میرا
مرے لمحات کو رونے کا موسم کر دیا تونے
ترے اقدام سے اب آزرانِ ہند ہنستے ہیں
بری حکمت سےاک بزدل کو رستم کر دیا تو نے
حسینی روح مرقد میں لہو برسائےجاتی ہے
رسولِ ہاشمیؑ کو صَرفِ ماتم کر دیا تو نے
برابر غم میں ہے یہ گنبدِ نیلوفری اب تک
زمیں کو اپنی کج فہمی سےپرنم کردیا تو نے
متاعِ دین ودانش ڈال کر غیروں کےقدموں میں
مرے مسلم پرسنل لا کو بے دم کردیا تو نے
بھروسا اٹھ گیا تجھ سے مسلمانانِ عالم کا
ہماری محفلِ انجم کو برہم کر دیا تو نے
(5)
ترا شیر سا انداز کہاں ہے
وہ دھاڑ کہاں ہے، وہ تگ و تاز کہاں ہے
مومن! وہ ترا شیر سا انداز کہاں ہے
شایاں نہیں تیرے لیے، یہ گوشہ نشینی
شاہیں! وہ تری شوکتِ پرواز کہاں ہے
کل تک تری سانسوں سے نکلتےتھےشرارے
صد آہ! ترا سوز، ترا ساز کہاں ہے
بے تاب ہیں آنکھیں ترے دیدار کو سب کی
اے دوست! ترا جلوۂ طنّاز کہاں ہے
جس عزم سے ہل جاتے تھےکفار کے سینے
وہ عزمِ زرہ پوش و جنوں ساز کہاں ہے
وہ بزم، جہاں عام تھی صہبائے شجاعت
اے جاں! وہ تری جلوہ گہِ ناز کہاں ہے
جلوےتھےتمہارےہی کبھی بدرواحد میں
بتلاؤ، فرشتوں کی وہ آواز کہاں ہے
بسمل سی تڑپتی ہیں مرےدل میں امنگیں
دنیا میں کوئی ہم دم و ہم راز کہاں ہے
گو کل کی طرح آج بھی وسعت ہےفضامیں
عالَم میں مگر قدس کا شہباز کہاں ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں