جمعرات، 22 فروری، 2018

صنم والوں پہ پھر مرنےلگا پیرِ حرم اپنا


مولانا فضیل احمد ناصری 
استاد حدیث وفقہ جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند 

تازہ بہ تازہ
(8)

مری اولین خواہش، کوئی چوٹ کھا نہ پائے
تجھےفکر ہے یہ ہردم،کوئی مسکرا نہ پائے
مجھے سب خبر ہے،کیوں ہےیہ اسارتِ مسلسل
تری محفلِ ستم سے کوئی فرد جا نہ پائے
گئی جب سےاس چمن کی ترے ہاتھ پاسبانی
وہ حوادثات آئے، جنہیں ہم بھلا نہ پائے

ترےدور میں یہ کیسی،رہ و رسم چل پڑی ہے
کہ زباں ہے بند ایسی، کوئی لب ہلا نہ پائے
تو جفا کا ہم زباں ہے کہ ہمارا حکمراں ہے
دیے درد تم نے ایسے، کہیں ہم دوا نہ پائے
مرا دل ہجومِ غم کا، کوئی قبلہ گاہ ٹھہرا
وہ ہجومِ رنجِ پیہم، جو کہیں سما نہ پائے
نہ سَلَف سا جوش و جذبہ، نہ سَلَف سی سمع و طاعت
جو عمامہ گر پڑا تھا، اسے پھر اٹھا نہ پائے
مرےہمنوا ابھی تک کسی خواب میں پڑے ہیں
کئی ظالمین آئے ، پہ انہیں جگا نہ پائے
اگر اب بھی لوٹ آئے وہ زمانۂ عزیمت
کوئی بولہب جہاں میں کہیں حوصلہ نہ پائے


(9)
 تو کیوں کر ہو عجم اپنا

الہی کیسے اونچا ہو زمانے میں عَلَم اپنا
صنم والوں پہ پھر مرنےلگا پیرِ حرم اپنا
جسے اہلِ جہاں تعبیر کرتے ہیں ہزیمت سے
لگا بیٹھے ہیں سینے سے وہی سامانِ غم اپنا
لگا کر ٹھوکریں امت کی وحدت کو یہ دیوانے
صنم خانے کی جانب پھر بڑھاتے ہیں قدم اپنا
خلیل اللہ کی سنت پہ مٹ جانے کے دعوے ہیں
مگر باطل پہ کرتے ہیں سرِ تسلیم خم اپنا
وہ کہتے ہیں کہ مندر بھی خدا کا جلوہ خانہ ہے
بَرَہمن بھی مسلماں کی طرح ہے محترم اپنا
ھواللہ کہہ کےجو بت کل گر پڑےتھےمنہ کےبل سارے
انہیں کی جلوہ سامانی سے پُر ہے پھر حرم اپنا
ہمارے قائدوں کی بھی زبانیں ہیں رقیبوں سی
عرب اپنا نہ ہو پایا،تو کیوں کر ہو عجم اپنا
دلِ مسلم بھی رفتہ رفتہ مردہ ہوتے جاتے ہیں
یہی غفلت رہی قائم تو سر ہوگا قلم اپنا
مسلمانوں نےجب بھی کفر کو شیوہ بنایا ہے
بدل ڈالا ہے کافر نے بھی اندازِ کرم اپنا
حجازی لَے اگر یوں ہی سسکنے پر رہی ہر دم
تو اک دن دیکھنا، ہوگا خدا ان کا، صنم اپنا


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں