جمعرات، 28 دسمبر، 2017

تازہ ترین سلسلہ (قسط دوم): فضیل احمد ناصری


علامہ اقبال پہلے شخص تھے جنہوں نے فلسفہ کی خشک اور سوکھی زمین پر شاعری کے گلہائے زریں کھلائے۔ انہوں نے پورے اسلامی فلسفے کو شاعری کا جامہ پہنا دیا۔ ان کی پوری شاعری پیام وپیغام سے مملو ہے۔ انہیں کے نقش قدم پر عہد حاضر کے ایک اور شخصیت گامزن ہے اور بہت ہی خوبی اور فنی چابکدستی کے ساتھ گامزن ہے۔ دنیا انہیں مولانا فضیل احمد ناصری کے نام سے جانتی ہے۔ 
ان دنوں ان کے قلم گوہر بار سے ’’تازہ ترین سلسلہ‘‘ نامی پیغامی ہی نہیں بلکہ آفاقی شاعری کے نمونے ہر ایک دو روز کے وقفے سے نکل رہے ہیں۔ ہم یہاں ان کے چند اعلیٰ اور معیاری سلسلے قسط وار شائع کررہے ہیں۔

چند نمونے ملاحظہ کریں
اہلِ کلیسا رفتہ رفتہ تخت پہ جا کر بیٹھ گئے
شیخ کی ساری جہدِ مسلسل عہدے اور نذرانے تک


نمک ہی بن گئے سارے، نمک کی کان میں جا کر
ہوس کی آگ کچھ ایسی لگی اردو ادیبوں میں


حرم والے بھی گویا رہ گئے ابنِ سبا بن کر
زبانیں ہیں حبیبوں سی، عمل شامل رقیبوں میں

انہیں کے نسخۂ قاتل پہ مسلم مرتے جاتے ہیں
الہی! یہ کشش کیسی ہے طاغوتی طبیبوں میں




تارہ ترین سلسلہ (47)
شمع کا سارا زورِ حکومت بے چارے پروانے تک
اہلِ جنوں کا ذکرِ درخشاں شہروں سے ویرانے تک
ہم سے جو خاکم بدہن پوچھو مومنِ ہند کا مستقبل
جیل سے چل کر دارورسن یا دارورسن سے تھانے تک
اپنی سیاست: اپنی سیاست خلق خدا کی تسکیں تھی
ان کی سیاست: ان کی سیاست دینِ محمد ڈھانے تک
قہر تو یہ ہے نغمۂ یورپ کے ہم سب دیوانے ہیں
اپنی صدائیں جاتی نہیں ہیں مغرب کے کاشانے تک
نام مسلمانوں کی صورت، کام ابولہبوں جیسا
مردِ صحافت پہونچا بھی تو عورت کے سرہانے تک
زہد کا پیکر، دل کا ابوذر ڈھونڈ لیا، پر مل نہ سکا
چھان چکا ہوں قریہ قریہ، مسجد سے مے خانے تک
اہلِ کلیسا رفتہ رفتہ تخت پہ جا کر بیٹھ گئے
شیخ کی ساری جہدِ مسلسل عہدے اور نذرانے تک
کفر ہی ملجا، کفر ہی ماویٰ، کفر سے توبہ کون کرے
نام کا ایماں زندہ ہے تو جمعہ جمعہ جانے تک
شکوۂ بے ہنگام کی عادت اہلِ خرد کا کام نہیں
گیسوے جاناں کی لمبائی پہونچے تو دیوانے تک

تارہ ترین سلسلہ (48)
ہمیں دنیا سمجھتی ہے پیمبر کے قریبوں میں
جو سچ کہیے تو ہر مومن ہے صہیونی نقیبوں میں
گیا سرمایۂ سوزِ دروں، آہِ سحر گاہی
فقط زورِ بیاں ہی رہ گیا اپنے خطیبوں میں
وہ مومن آج احمق بن کے رسواے دوعالم ہے
بنایا تھا جسے ہستی کے خالق نے لبیبوں میں
نمک ہی بن گئے سارے، نمک کی کان میں جا کر
ہوس کی آگ کچھ ایسی لگی اردو ادیبوں میں
اگر اک ذرّۂ ایماں بھی پا لو تو غنیمت ہے
نہ ڈھونڈو غیرتِ اسلام ہم سے بدنصیبوں میں
حرم والے بھی گویا رہ گئے ابنِ سبا بن کر
زبانیں ہیں حبیبوں سی، عمل شامل رقیبوں میں
مری آہوں سے پتھر رو پڑے، انساں نہیں پگھلا
جہاں دولت خدا ہو، کون جاتا ہے غریبوں میں
انہیں کے نسخۂ قاتل پہ مسلم مرتے جاتے ہیں
الہی! یہ کشش کیسی ہے طاغوتی طبیبوں میں
گرجتا ہے اکیلے ہی ہمارا ارشدِ مدنی
یہی بلبل سلامت ہے وطن کے عندلیبوں میں