محمد شافع عارفی
گجرات ہماچل پردیش کےالیکشن کی ساری سرگرمیاں بی جے پی کے جیت اور کانگریس کے ہار کے ساتھ ختم ہوگئیں۔ گجرات میں اپنی تمام تر کوشش اور جدوجہد کے باوجود کانگریس 80 سیٹوں پر محدود ہوگئی جب کہ حکمراں جماعت بی جے پی کے کھاتے 99 سیٹیں گئیں جو حکومت سازی کے لئے کافی ہے لیکن اس انتخاب میں ہار کے باوجود کانگریس کو راہل گاندھی کی شکل میں ایک نوجوان فعال لیڈر مل گیا جو لڑنے کے ہنر سے واقف ہے، صبرآزما حالات گھٹاتوپ اندھیرے میں وہ ہندوستان کی سیکولر عوام اور کانگریس کےلئے امید کی بن کر چمکا ہے۔
اس انتخاب پر تجزیہ و تحلیل کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں کی طاقت اور کمزوری کی نشاہدہی سیاسی پنڈٹ کررہے ہیں لیکن اس ساری بحث جو چیز بہت پیچھے چلی گئی یا انہیں سرد بستے میں ڈال دیا گیا وہ ہندوستانی سیاست میں اخلاقی قدروں کا زوال ہے۔ یہ چیز ہندوستان کے ہر باشعور ذمہ دار اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے شہری کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ چناؤ پرچار کے درمیان بی جے پی کی طرف جس زبان و لہجے کا استعمال ہوا وہ ہندوستان کے جمہوری مزاج و مذاق سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا ہے۔
کانگریس پارٹی اور اس کی اعلی قیادت کے لئے یہی ایک پہلو باعث اطمنان ہے کہ بھلے وہ گجرات و ہماچل پردیش کا سیاسی دنگل ہار گئے ہوں لیکن ان کے نومنتخب لیڈر راہل گاندھی اخلاقی محاذ پر جیت گئے۔ انہوں نے نہ ہی بی چے پی کے اور ان کے لیڈروں کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور نہ کسی کو اس کی اجازت دی اور اپنی پاڑٹی کے ایک سینئر لیڈر منی شنکر اییر پر صرف اسلئے کاروائی کی کہ انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف غلط الفاظ کا استعمال کیاتھا۔
دوسری طرف بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی ہیں جو اپنے مخالفین کے خلاف گالی گلوج کرنا اور ایسے بے جا الزامات عائد کرنا جس کا کوئی عقلی اور منطقی جواز نہ ہو اپنا پیدائشی واجبی حق سمجھتے ہیں۔ بہار انتخاب کے دوران انہوں نے نتیش کمار کے ڈی این اے پر سوال اٹھایا تو گجرات میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری پر پاکستان کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کردیا۔ اصل وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ انہیں اب تک یہ یقین نہیں ہے کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں وہ آج تک خودکو بی جے پی اور آرایس ایس کا پرچارک سمجھ رہے ہیں۔ اس مسئلے کو کافی سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے الیکشن کمیشن کو یہ بات یقینی بنانا چاہئے کہ کسی پر ذاتی حملہ نہ کیاجائے اور نہ ہی ایسے الزامات عائد کیے جائیں جس کی کوئی بنیاد اور منطقی دلیل نہ ہو ورنہ ہندوستانی پارلیامنٹ اور اسمبلیاں بد کردار اوباش غیر مہذب لوگوں کا اڈہ بن جائے گا۔