ہفتہ، 30 دسمبر، 2017

خود احتسابی سے دور مسلم قیادت

محمد شافع عارفی 

میں مسلمان ہوں۔ خدا کی وحدانیت، رسول کی رسالت اور دین اسلام کی حقانیت و ابدیت پر میرا مکمل یقین ہے۔ قرآن و سنت کو میں نے خدا کے ایسے قانون کے طور پر تسلیم کرلیا ہے، جس میں ادنی سے ادنی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ’’ولن تجد لسنة الله تبديلا‘‘۔ صحابہ کرام کی محبت، ائمہ عظام کی عقیدت سے میرا دل بھی معمور ہے۔ میں نہ دیوبندی ہوں، نہ بریلوی، نہ اہلحدیث، نہ جماعت اسلامی اور نہ ہی تبلیغی جماعت کا کوئی فرد۔ اپنے علماء و قائدیں سے بدظن وناامید بھی نہیں اور ناامیدی و مایوسی کی کوئی وجہ بھی نہیں ہوسکتی جب کہ خدا کی آخری کتاب سے ہمارے لئے’’لا تقنطوا من رحمة الله‘‘  کا مژدہ جانفرا آرہا ہو۔ لیکن مسلمانوں کے دینی، ملی اور سیاسی معاملات سے دلچسپی لینا اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھتا ہوں کیونکہ.. ’’من لم يهتم بأمر المسلمين فليس منهم‘‘ کی وعید بھی ہمارے سامنے ہے۔
 گذشتہ دنوں لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ کے خلاف بل پیش ہوا اور منظور بھی ہوگیا۔ اندیشہ ہےکہ راجیہ سبھا سے بھی حکومت اس بل کو آسانی کے ساتھ منظور کرانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اس سارے قضیہ میں سب سے افسوسناک کردار سیکولر پارٹیوں اورمسلم ممبران پارلیامنٹ کارہا۔ محترم اسدالدین اویسی کو چھوڑ کسی نے بھی اس بل کی مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی بعد قوم مسلم کے درمیان بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہوگیا۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو علماء کی توہین و تنقیص کے ساتھ ساتھ مسلم قیادت پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں اور پرسنل لا بورڈ تک کو تحلیل کرنے کی بات کررہے ہیں۔ دوسری طرف وہ عقیدت مند ہیں جن کا خیال ہے کہ یہ وقت آپسی اتحاد واتفاق کا ہے۔ مسلم قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کرنا درست نہیں ہے۔ بلاشبہ ان کی بات کچھ حد تک درست بھی ہے۔ 
 لیکن عقیدت مندوں سے ایک سوال ضرور کیاجانا چاہئے کہ آزادی کے بعد ہی سے یہ جملےسننے میں آرہے ہیں کہ آپسی اتحاد واتفاق کو بنائے رکھا جائے اورمسلم قیادت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا جائے۔ الحمداللہ مسلم قوم ہر حساس موقع پر اپنے علماء وقائدین کے ساتھ کھڑی بھی نظر آئی۔ خواہ شاہ بانو کیس ہو ،بابری مسجد کا قضیہ ہو یا طلاق ثلاثہ کا موجودہ مسئلہ، جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ متحد نظر آ۔ لیکن کیا ہم عوام کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ ہم اپنی قیادت سے سوال کرسکیں؟ اور جب ہمارے قائد علماء کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے کے لئے زور لگادیتے ہیں تو کیا ان کی یہ اخلاقی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ شکست کی صورت میں آگے بڑھ کر ناکامی کی ذمہ داری بھی قبول کرلیتے۔ ابھی زیادہ دن نہیں گذرے جب سپریم کورٹ کافیصلہ آسام میں غیر قانونی شہریت کے متعلق آیا اور مسلمانوں کو تاریخی جیت ملی پھر کیا ہوا جیت کا کریڈٹ لینے مولانا ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور مولانا بدرالدین اجمل قاسمی صاحب کےلوگ آمنے سامنے آگئے ۔ خود جب طلاق ثلاثہ پر بورڈ کے ذریعے دستخطی مہم چلائی جارہی تھی تو کچھ لوگ موجودہ قیادت کو مضبوط قیادت اور گذشتہ قیادت کو کمزور قیادت سے تعبیر کررہے تھے کیونکہ بورڈ کے ذمہ داران اس وقت اقدام کرتے نظر آرہے تھے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ آج ہمارے قائدین کچھ جرأت و ہمت کامظاہر کرتے اور آگے بڑھ کر شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ۔ 
ئے
کیا وجہ ہے کہ جس دین کا مقصد ہی احتساب کائنات ہے۔ اس دین کو ماننے والے اور اس پر یقین رکھنے والے علماء و قائدین ہی خود احتسابی سے دور، زندہ باد کے پرشور نعروں میں مست، مدح و توصیف کے خوگر ہیں۔ کاش! ہماری قیادت آگے بڑھ کر اپنا احتساب کرتی اور آئندہ کے لئے کوئی ٹھوس اور جامع لائحہ عمل مرتب کرتی۔
 اتنی ہمت تو ان سیاسی بازیگروں اور نیتاوں میں بھی ہے جن کا شعار ہی جھوٹ اور دھوکہ ہے، لیکن ہار کے بعد ان کا قائد بھی آگے بڑھ کر ہار کی ذمہ داری قبول کرتاہے حالانکہ ہار کا وہ بھی اکیلے ذمہ دار نہیں ہوتا  پھر کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ ہمارے قائدین آگے بڑھ کر اس شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرکے اس بحث کا خاتمہ کردیتے۔