منگل، 26 دسمبر، 2017

زیارت اسلامیہ (قسط دوم)

شاہد وصی 

میں مادر علمی کے صدر دروازے پر کھڑا تھااور وجدان وتصورات کی نگاہیں مجھے پیچھے، بہت پیچھے لے جارہی تھیں۔ خیالات میں ایک ہلچل سی مچ چکی تھی، میں نے اپنی حد تک بہت کوشش کی کہ حال کے غیر مطمئن اور مستقبل کے موہوم دروازے پر ہی کھڑا رہوں، لیکن میں بے بس تھا، میرا ذہن، میرا خیال میرے بس سے باہر تھا، یکایکی میں تنکے کی مانند وجدان کی دوش پر سوار اور تصورات کی نیا پر براجمان ماضی کی حسین وپرکیف وادی میں داخل ہوچکا تھا۔ 
سال 2003 تھا، مہینے کی تعیین ماضی کے نہاں خانے میں مندرج نظر نہیں آئی۔ میں اپنے والد کے ہمراہ عربی دوم میں داخلے کی نیت سے شکرپور آیا ہوا تھا، مولانا بشارت کریم صاحب نے میرا داخلہ امتحان لیا۔ حضرت الاستاد مولاناصفی الرحمٰن (بڑے مولانا) کی زبانی داخلہ کی خوش کن خبر موصول ہوئی۔ پھر میں تھا اور اسلامیہ کی وادیاں تھیں۔ چار سال تک اسی وادی کی گلگشتی کی، اسی صحن میں چوکریاں بھری، یہیں بے پر کے بچے میں بال وپر اُگے اور اس میں قوت پرواز پیدا ہوئی، ناتواں بازو میں استحکام پیدا ہوا۔ مولانا صفی الرحمٰن صاحب، مولانا سعید صاحب، مفتی ابوبکر صاحب، مولانا سراج اکرم صاحب، مولانا بشارت کریم صاحب،مفتی اقبال صاحب، مولانا طارق ندوی صاحب ایک سے بڑھ کر ایک، سب ممتاز ومنور ماہ ونجوم اور شمس وقمر جیسے ساقیان علم کے ہاتھوں جام پر جام نوش کیا۔ قدرے قدرے نوشیدن سے تشنگی مزید بڑھتی جاتی، ساقی کا جام ہر تشنگی کے بعد بڑھتا اور سیراب کرتا جاتا۔ پورے چار سال یہاں قیام رہا، سینکڑوں سے دوستی ہوئی، ہزاروں کی ملاقات شناسائی میں تبدیل ہوئی، بعض کی دوستی میں رفتہ رفتہ پختگی آتی چلی گئی۔ 
ہائے ہائے وہ بھی کیا دن تھے۔ ؎
لوٹ پیچھے کی طرف اے غم ایام تو 
ماضی کی حویلیوں کی سیر کے دوران بھی حال سے رشتہ منقطع نہیں ہوا تھا۔ کام ودہن لمحات گزراں کے دلکشی سے لذت آشنا ہورہے تھے، لیکن حال آہستہ آہستہ صدا بھی لگا رہا تھا۔ شریک سفر برادر مکرم مولانا مبین احمد سعیدی صاحب نے کہنی ماری اور زبردستی ماضی سے کھینچ کر حال میں پہنچا دیا پھر کیا دیکھتا ہوں کہ میں مادر علمی کے صدر دروازے پر کھڑا ہوں۔