شاہد وصی
آٹھ سال، پورے آٹھ سال کے بعد خوابوں کی آماجگاہ، تمناؤں کا مسکن، تصورات کی جنت، آرزوؤں کا محور، دل دردمند کی منزل اور زندہ دلان کے حسیں تاج محل، ہم سب کی مادر علمی مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آٹھ سال کا وقفہ کچھ کم نہیں ہوتا، ان سالوں میں نہ جانے کتنی دفعہ خزاں کے بے رحم جھونکوں نے اسلامیہ کے رنگ و رونق بگاڑ دیئے ہوں گے، بہاریں آئی ہوں گی، فضائیں لہلہائے ہوں گے، نئے نئے گل بوٹے سے چمن بھی سجا ہوگا، بلبل کی نوا سنجی سے بہار کا لطف دوبالا بھی ہوا ہوگا۔ خزاں نے اس نوا سنج بلبل کو درد وحسرت کی تصویر بھی بنا دیا ہوگا۔ لیکن یہ کیا دیکھتا ہوں کہ مادر علمی چند خوبصورت بلند وبالا عمارت کو چھوڑ کر یونہی پورے آن بان اور شان کے ساتھ مقدس مریم کی طرح کھڑی ہے۔ اس کے در ودیوار سے ممتا کی لہریں پہلے کی طرح ہی نکل نکل کر فضا کو مشکبار کی ہوئی ہیں۔ دو رویہ بنی کیاریوں سے وہی جانی پہچانی سے خوشبو پھوٹ پھوٹ کر مشام جاں کو معطر کررہی ہے۔ سامنے خوبصورت مسجد اور اس کے بلند وبالا مینارے، مسجد کے دونوں طرف دو منزلہ عمارت ، اس کے بغل میں شیش محل، مسجد کے سامنے پرائمری سیکشن سب کے سب اسی شان وشکوہ کے ساتھ گردش ایام سے لڑکر فاتحانہ انداز میں استادہ نظر آئے۔ شیش محل کے اوپر قاضی لائربری اور پرائمری کے عقب میں شعبہ کمپیوٹر کا مکان نیا نیا سے لگا، باقی سب کا سب پہلے ہی کی طرح دلفریب و قلب آگیں تھا۔
پورے آٹھ سال، دو ہزار نو سو بیس دن اور راتیں، صبح وشام کی اتنی ہی مسافتوں کے بعد بالآخر مادر علمی پہنچ گیا۔ شوق نے مہمیز لگائی، آرزو نے کچوکے دیئے، تمنا نے ہودج سجاکر نکیل تھام رکھی تھی، شروع میں اندرونی جھجھک نے روکا، غیر حاضری کی اتنی لمبی مدت نے شوق کے قدم تھامنے چاہے، اس لمبی غیبوبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شرم نے تمنا کو تھپکی دے کر سلانے کی کوشش بھی کی، مگر آخر کار جھجھک شوق سے ہار گیا، تمناؤں نے طبعی شرم پر فتح پالی ، پھر کیا تھا میں ملکوتی احساسات وبہشتی مسرتوں کے ساتھ مادر علمی کے صدر دروازے پر کھڑا تھا۔
(جاری)