سراج اکرم قاسمی
(معاون مدیر مدرسہ الہدایہ، کنشاسا، کونگو، افریقہ)
زندگی کے تقریبا چالیس سال "جنت ارضی" کی پر بہار فضاؤں میں گزرے، پھر دل ناداں نے صحرائے افریقہ کی خاک چھاننے کی ٹھانی، اوربندہ بروز جمعرات 15 ذی الحجہ 1438ھ = 7/ستمبر2017ء کووسطی افریقہ کی سر زمین پر آگیا ۔
اب کچھ باخبر بزرگوں اور ہم عصروں کا اصرار ہے کہ مجھ جیسا بے خبر انھیں یہاں کی خبر دے،میں نے بھی اس امید پر ہامی بھر لی ہے کہ شاید یہ تحریر کسی دل کو دستک دے اور وہ صحرا نوردی کے لیے تیار ہو پھر اس کی قربانی اور محنت و جاں فشانی کے نتیجے میں دشت افریقہ کے ایمانی کشت زاروں میں باغ و بہار پیدا ہو (آمین )
بندہ وسطی افریقہ کے ایک ملک "جمہوری جمہوریہ کانگو " میں ہے، اسے عربی میں "جمهورية الكونغو الديمقراطية " انگریزی میں Democratic republic of the congo فرانسیسی میں Republique democratique du congo اور اختصارا "کانگو" کہا جاتا ہےـ "کانگو برازاویل" سے ممتاز کرنے کے لیے اسے "کانگو کنشاسا "بھی کہتے ہیں ـ 1971 تا 1997 کے درمیان اس کا نام "زائیر" بھی رہا ہے، 1960 میں اس نے "بلجیئم "سے آزادی حاصل کی۔ کانگو کی سرحدیں شمال میں جنوبی سوڈان اور مرکزی افریقہ سے مشرق میں یوگنڈا، روانڈا، برونڈی اور تنزانیہ سے، جنوب میں زامبيا اورانگولاسےاور مغرب میں کانگو برازاویل سے لگتی ہیں، اس کے جنوب مغرب میں کچھ فاصلے پر بحر اوقیانوس کی لہریں بھی موجیں مار رہی ہیں-
![]() |
| قدرتی وسائل سے معمور دنیا کا غریب ترین ملک |
کانگو قدرتی وسائل سے معمور دنیا کا ایک مال دار ترین ملک ہے؛ مگر سیاسی اختلافات اور باہمی رسہ کشی نےاسے *"أفقردول في العالم * (دنیاکاغريب ترین ملک) بنا دیا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ افریقہ کا دوسرا اور دنیا کا گیارهواں سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا ہے جو 2345410مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے ـ آبادی کے لحاظ سے یہ افریقہ کا چوتھا اور پوری دنیا کا سترهواں بڑا ملک شمار ہوتا ہے جس کی آغوش میں 85 ملین سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔
کنشـاســا
کانگو کا دارالحکومت ’’کنشاسا‘‘ہےجوآبادی اور رقبہ ہردو اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا شہر سمجھاجاتا ہے ـ لاگوس(نائجیریا ) اورقاہرہ(مصر ) کے بعد اس کا شماربراعظم افریقہ کے تیسرے سب سے بڑے شہروں میں ہے، جس میں ملک کے ایک تہائی سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔ 2050 میں دنیا کے جن 10 بڑے شہروں میں سب سے زیادہ آبادی ہونے کاامکان ہے ان میں *کنشاسا* بھی شامل ہے، اور ایک اندازے کے مطابق 2075 میں یہ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہوگاـ
اے کاش داعیان اسلام کے قافلے ابھی سے یہاں خیمہ زن ہوتے تاکہ مستقبل میں دنیا کی یہ سب سے بڑی آبادی نغمۂ توحید سے معمور ہوتی!
کنشاسا کو پیرس کے بعد سب سے بڑا فرانسیسی بولنے والا شہر کہا جاتا ہے،اور یہی وہ بدنصیب شہر ہے جہاں سے غیر فطری عمل کی وجہ سے 1920 کی دہائی میں ایڈز جیسے مہلک مرض کی ابتدا ہوئی- (أعاذناالله منه) یہ شہر دریائے کانگو کے مشرقی کنارے آباد ہے ،ٹھیک اس کے بالمقابل مغربی کنارے پر جمہوری کانگو کا پایۂ تخت *برازاویلے* واقع ہے ،ان دونوں شہروں کو *"جڑواں شہر*بھی کہا جاتا ہے، حالانکہ یہ دو الگ الگ ملکوں کے شہر ہیں اور دونوں کے درمیان "دریائے کانگو "حائل ہے۔
کانگو کے مذاہب
کانگو میں بنیادی طور پر دوہی آسمانی مذاہب ہیں: اسلام اور عیسائیت ـ دیگر مذاہب کے ماننے والے یاتو ہیں ہی نہیں یا ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ عیسائی حضرات 70تا94فی صد اورصاحبان تخت و تاج ہیں،جب کہ (آہ!) بے چارے مسلمان 6 تا 15 فی صد اور ارباب اقتدار کے چشم و ابرو کے اشارے کے محتاج، دست نگر اور قلاش ہیں ،جنھیں کسی بھی سفید فام کے سامنے *"الجوع الجوع"*بھوک بھوک کی فریاداوردست سوال دراز کرنے میں بھی کوئی ننگ و عار نہیں۔
کانگو میں اسلام
یہاں اسلام کی تاریخ کوئی زیادہ قدیم نہیں،1830ءکی دہائی میں اس خطۂ ارض پر عرب تاجروں کے ذریعے اسلام کی پہلی کرن نمودارہوئی جس کی روشنی پھیلی اور پھیلتی ہی چلی گئی، پر آخری دین سماوی کی ضیاباری سے کانگو کا جو حصہ سب سے پہلے درخشاں ہوا وہ *"مانیما* ہے۔
مقامی اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ *"من الله علينا، أنعم علينا یانعمة* کی تخفیف یا بگڑی ہوئی شکل ہے، یعنی جب عربوں نے یہ دیکھا کہ یہ سر زمین تمام قدرتی ذخائر: سونا ،چاندی ،پٹرول ،کوئلہ، لکڑی، الماس اور رانگے پیتل سے مالامال ہے تو ان کی زبانوں پر بار بار یہ جملے آنے لگے کہ رب کائنات کا بڑا انعام و احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہاں پہنچا دیا۔
*مانیما* کانگو کے مشرقی خطے میں واقع ہے جہاں کی فضاؤں میں آج بھی ان نفوس قدسیہ کے انفاس کی خوشبو رچی بسی صاف محسوس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کانگو کے اس حصے میں اسلامی تہذیب و تمدن کے نشانات زیادہ گہرے اور نمایاں نظرآتے ہیں۔
کانگو میں اسلام بڑی آسانی سے دیگر تمام آسمانی مذاہب سے پہلے داخل ہوا اور برق رفتاری سے پھیلا، امن و سلامتی اور اخوت و محبت سے بھرے اس دین کی ترویج و اشاعت میں کسی خاص پریشانی اور دقتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا؛ بلکہ مسلمانوں کے عمدہ اخلاق، صاف ستھرے معاملات اور خلق خدا کے ساتھ ان کی سچی ہم دردی کو دیکھ کرلوگ خود بخود اس دین میں داخل ہونے لگے اور اس کثرت سے اس کے پرامن سائے میں آئےکہ یہاں خلافت ارضی بھی قائم ہو گئی۔
من در خیالم وفلک در چہ خیال
یہ خلافت *"دولت مستعجل *ثابت ہوئی، ابھی اس کے قدم پوری طرح مضبوط بھی نہ ہونے پائے تھے کہ بلجیمیوں نے 1885ءمیں اس پر قبضہ کر لیا، اس قبضے سے ان کے تین مقاصد تھے:
1ـ۔ یہاں کے قدرتی ذخائر کو ہتھیانا ـ
2۔ ـ عیسائیت کی ترویج و اشاعت ـ
3۔ ـ مسلمانوں کے خلاف مقامی آبادی کے دلوں میں نفرت و عداوت کے شعلے بھڑکانا اور ان کی بیخ کنی کرنا ـ
ان ہر سہ مقاصد میں وہ پوری طرح کام یاب بھی رہے ــــــ ملک کی دولت کو اتنا لوٹا کہ اسے مفلس و قلاش بنا دیا ــــ مسیحیت جو اسلام کے بعد یہاں آئی تھی، 94 فی صد تک پہنچ گئی ـــــ اور تیسرے سب سے بڑے مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے انھوں نے 2اپریل 1893ء میں67ہزار مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا ـ اس الم ناک واقعے نے بقیہ مسلمانوں کے دلوں میں خوف و ہراس اور ناامیدی کی کیفیت پیدا کر دی اور ان میں سے بیشتر پڑوسی ملکوں کی طرف ہجرت کر گئے ،رہی سہی کسر 1922ء کے خونیں ڈرامے نے پوری کر دی، ایک سال کے عرصے میں چھ لاکھ مسلمان تہ تیغ کیے گئے، مزید ایسے قوانین وضع کیے گئے جن سے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہو جائے اور وہ عیسائیت کے دامن ہی میں اپنی حفاظت محسوس کریں۔
اسکول و کالج کے دروازے صرف انھیں بچوں کے لئے کھلے رکھے گئے جن کے والدین عیسائی ہوں،پورے ملک میں عیسائی مبلغین و دعاة کو کثرت کے ساتھ پھیلا گیا اور مشنری کاایسا مضبوط جال بچھا یا گیا جو آج بھی پوری طرح مستحکم ہے ،تعلیمی فیس اتنی مہنگی کردی گئی کہ عام آدمی کے لئے بآسانی ادا ئیگی ممکن نہ ہو ،فیس کی معافی یا ادائیگی کا وعدہ کیا گیا ،اعلی تعلیم اور نوکری کی ذمے داری لی گئی بشرطیکہ طالب علم عیسائیت کااعلان کرے اور یہ یقین دہانی کرائے کہ وہ آئندہ بھی مسیحیت ہی پر قائم رہے گا ،چناں چہ کونگو میں آج بھی ہزاروں افراد آپ کو ایسے مل جائیں گے جو نام سے محمد، احمد اورعثمان وعلی ہوں گے؛لیکن ہوں گےعیسائی، وجہ یہ ہے کہ وہ پیداتو مسلمان گھرانے میں ہوئے؛لیکن تعلیم و تعلم کی دشواری اور معاشی تنگیوں نے انھیں راہیں بدلنے پر مجبور کر دیا۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
بلجیمیوں کے قدم جب کانگو میں مضبوط ہوگئے اور انھیں یہ محسوس ہونے لگا کہ اب انھیں یہاں سے کوئی بے دخل نہیں کرسکتا تو ان کا ظالمانہ ہاتھ عام باشندوں کی طرف بڑھا، اور وہ اس حقیقت کو فراموش کر گئے کہ *کفر کے ساتھ تو حکومت قائم رہ سکتی ہے؛ لیکن ظلم کے ساتھ نہیں* ،نتیجہ یہ ہوا کہ عوام میں ان کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی اور ان کے دل میں یہ بات گھر کر گئی کہ بلجیمی لوگ محض اس ملک کی دولت چاہتے ہیں، انھیں ہم سے کوئی محبت نہیں، چناں چہ *"لومومبا* کی قیادت میں تحریک آزادی شروع ہو ئی اور خاک و خون کے دریا کو عبور کرنے کے بعد 30 جون 1960ءمیں آزادی کی دولت ملی اور ملک کا دستور جمہوری قرار پایا؛ لیکن .....ع
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
اس آزادی اور انقلاب حکومت سے مسلمانوں کے مسائل سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے گئے؛ کیوں کہ مسند نشین اب بھی کلیسائی افراد ہی تھے، صرف ان کے رنگ اور ان کی نسبتیں بدل گئی تھیں، اس لیے اصحاب اقتدار کی ساری تگ و دو مسیحیت کی نشر و اشاعت کے لیے وقف ہوگئیں، اور بعض ایسے قانون بھی بنائے گئے جن کی رو سے مساجد ومعابداور دینی مدارس و مکاتب کی تعمیر و تشکیل ممنوع قرار پائی؛ بلکہ چند تاریخی مسجدیں کلیسامیں تبدیل کر دی گئیں،ہندوستانی، پاکستانی اور لبنانی مسلم تجار جو اس ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے ان پر طرح طرح سے شکنجہ کسا گیا؛ تاکہ وہ یہاں سے رخصت ہو جائیں، یہ سلسلۂ ستم جاری رہا کہ 1972 کاسورج طلوع ہواجس کے بعد مسلمانوں کو کچھ راحت ملی۔
تفریق ملل، حکمت افرنگ کامقصود
کہنے کوتو *کانگو*ایک جمہوری ملک ہے جس کا کوئی مذہب نہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت یہاں بری طرح پامال ہے، پارلیمنٹ میں عیسائی ہی ممبران ہیں ،جس کی وجہ سے وہ قانون بآسانی منظور ہوجاتا ہے جس کا تعلق عیسائیت کی ترویج و ارتقا سے ہو خواہ وہ اسلام سے متصادم ہی کیوں نہ ہو ـ عیسائیوں کے سبھی تہواروں کے موقع پر چھٹیاں ہوتی ہیں؛ لیکن مسلمان عیدین کی تعطیلات کے لیے بھی اب تک ترس رہے ہیں،والمستقبل بیداللہ ـ
رحمتیں ہیں تری، اغیار کے کاشانـوں پر
برق گرتی ہے توبے چارے مسلمانــوں پر
پارلیمنٹ کی500نشستوں میں سے صرف 5 نشستیں مسلمانوں کے لیے ہیں اور وہ بھی نہیں پہنچ پاتے، اس لئے کوئی مسلم وزیر نہیں، 400 سیاسی پارٹیوں میں سے محض چھ مسلم سیاسی پارٹیاں ہیں؛ پر وہ بھی ہمیشہ ہزیمت و شکست سے دوچار رہتی ہیں ـ
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کافی
1972ءمیں مسلمانوں کو اتنا سکون ضرور ملا کہ اسلام بحیثیت مذہب سرکاری سطح پر بھی قبول کیا گیا، جس کے نتیجے میں انھیں مدارس ومساجد اور دینی مکاتب قائم کرنے کی اجازت ملی (ورنہ پہلے اس پر بھی پابندی تھی) پر بے چارے مسلمان اپنی شدید غربت و افلاس کی وجہ سے اس اجازت سے بھی اب تک عمومی فائدہ اٹھا نے سے قاصر ہیں،اسّی نوّے فی صد مسلمان ناخواندہ اور بے کار ہیں، نہ ان کے پاس دینی تعلیم ہے نہ دنیاوی، اور نہ ہی کوئی نوکری اور تجارتی کاروبار ـ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بھنگی کا کام بھی ان کے لیے کوئی عار نہیں-
مساجد عموما قرآن کریم اور مصحف سے خالی ہیں، اسلامی لٹریچر تو تقریبا یکسر مفقود ہیں، کنشاسا جیسے بڑے شہر میں ایک ایسا کتب خانہ نہیں جہاں سے آپ "نورانی قاعدہ "بھی خرید سکیں۔
*کانگو* چوں کہ" بر اعظم افریقہ "کے وسط میں واقع ہے اس لیے مذہبی حیثیت سے بھی عیسائیوں کی ہمیشہ اس پر نظر رہی ہے، *یہاں 3746کلیسائیں اور215449عیسائی مبلغین و دعاۃ انتہائی سرگرم اور پورے ملک میں ہردم اس طرح رواں دواں رہتے ہیں، جیسے خون رگوں میں اور بجلی تاروں میں ـ* ایک سچے مسلم داعی کے لیے یہ منظر کتناشاق اوردل دوز ہوتا ہے، اس کااندازہ وہ لوگ نہیں لگاسکتے جن کی نگاہوں سے یہ منظر اوجھل ہے ـ
ہائے ارباب نظـــر کی بے کسی، بے چـــــارگی
آنکھ سب کچھ دیکھتی ہے اورزباں خاموش ہے
(جاری)

