معاصر کے محاسن کا اعتراف، رفیقوں کی خوبیوں کا استحسان اور دوستوں کے کمالوں کے تذکرے اب صرف کتابوں میں پڑھنے کو ملتےہیں۔ خود نمائی وخود ستائی کی نحوست نے ہمیں اپنی ذات میں اس قدر محبوس کردیا ہے کہ بیرونی دنیا کی خوبصورتی ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ ہم اس قدر اپنے آپ کو کمالات وفضائل سے مرصع تصور کرنے لگے ہیں کہ غیروں کے محاسن اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ بھی ہمارے اندر سے داد تحسین وصول نہیں کراپاتے۔ ایسے شب تار میں اگر کسی کونے سے کوئی دیا ٹمٹماتا ہے جو استعجاب کے ساتھ ساتھ خوش ومسرت کے جذبات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔
ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق ایک ایسی فکری خانقاہ سے جس نے وسعت فکر وخیال کے ساتھ ساتھ رشک احباب کی صفت بھی ہمارے اندر پیدا کی ہے۔ مسلم پرسنل لا کے حالیہ تنازع کے تعلق سے برادرم خالد ضیا صدیقی ندوی کی سب سے معتدل اور مناسب تحریر آئی، اس کی خوبیوں کا اعتراف نامہ برادرم محمد رضی الرحمٰن قاسمی جو ہمارے لئے حقانی بھائی ہیں کی زبانی ملاحظہ کریں۔ پھر اس اعتراف نامہ کے بعد بھائی خالد ضیا کی عاجزی وانکساری کے ساتھ ساتھ رد عمل بھی دیکھیں۔
اب رضی الرحمٰن قاسمی صاحب کا اعتراف نامہ ملاحظہ کریں
رشک آتا ہے تجھ پر!
برادرِ محترم مولانا خالد ضیاء صدیقی ندوی کی نذر
زندگی اور اس کے روز مرہ کے مسائل، شاہ ہو یا گدا، امیر ہو یا غریب، اس کے ساتھ لگے ہی رہتے ہیں، ادھر آنکھیں بند، اُدھر سب یک لخت ختم۔ پھر رفتہ رفتہ اس انسان کا ذکر بھی ختم ہو جاتا ہے یا تاریخ کے صفحات میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔زندگی کے ان مسائل سے بلند ہو کر اگر کوئی انسان فکری، علمی، دینی یا سماجی خدمت کر جاتا ہے، تو اللہ اس کے نام کو اور اس کی فکر کو لمبی زندگی دے دیتا ہے، امام ابوحنیفہ و امام شافعی رحمہما اللہ دولت مند تھے یا تنگدست، کتنی بار بیمار ہوئے تھے یا کتنی بار دوسرے مسائل میں گھرے تھے، یہ چیزیں لوگ نہ تو بہت زیادہ جانتے ہیں، نہ ہی انہیں اُن کے اِن معاملات میں کوئی دلچسپی ہے، لیکن ان کی فکر اور ان کی خدمات زندہ و پائندہ ہیں ، زمانہ ان سے کسب فیض کر رہا ہے۔ یہ تو پھر بھی چند سو سال پہلے گذرے ہیں، افلاطون، ارسطو اور سقراط جیسے فلاسفہ، جن کو گذرے ہوئے ہزاروں سال بیت گئے ہیں اور ہمیں حتمی طور پر یہ معلوم بھی نہیں کہ وہ کون سی زبان بولتے تھے، لیکن ان کی فکری خدمات کو ، جس سے بہت سارے معاملات میں ہم بجا طور پر اختلاف رکھتے ہیں ۔ اللہ نے زندہ رکھا اور اس ذریعے سے ان کا نام بھی زندہ ہے۔الغرض علمی، فکری، دینی اور سماجی خدمات کے ہی نقوش باقی رہ جاتے ہیں، اور ان کی عمر ہماری جسمانی عمر سے کئی کئی سو، بلکہ کئی کئی ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ قرآن نے اس اصول کو بہت ہی واضح انداز میں بیان کیا ہے:فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ (الرعد:17)
برادر محترم مولانا خالد ضیاء صدیقی ندوی بھی ان باتوفیق لوگوں میں ہیں، جنہیں اللہ علیم و خبیر نے علمی و فکری خدمات کے لئے چن لیا ہے، (اللہ انہیں سدا باتوفیق رکھے)۔ یہ میرے ان احباب میں ہیں، جن پر فخر ہوتا ہے، ہند و عرب کی جن محفلوں میں بھی نو جوان فضلاء اور ان کی خدمات کا ذکر کرنے کا موقعہ ملتا ہے، میں بہت ہی فخر سے رفیق محترم کا ذکر کرتا ہوں اور مجھے اس بات سے ایک خوشی کا احساس ہوتا ہے کہ وہ میرے قریبی ساتھی اور دوست ہیں، غالباً میرے اور ان کے بیچ فکری یکسانیت بھی اس قرب کی بڑی وجہ ہے، جو فون اور سوشل میڈیا کے ذریعہ گفتگو میں واضح طور پر محسوس ہوتی ہے، حالانکہ بالمشافہ ملاقات کو دس سال سے زیادہ ہی کا عرصہ گذر چکا ہے، گو کہ اس کا شوق بہت ہے۔ اللہ نے رفیق محترم کو سیال قلم سے نوازا ہے، لکھتے ہیں اور (کثرت اور کیفیت دونوں اعتبار سے) خوب لکھتے ہیں ۔ اللہ عز و جل نے نہایت ہی معتدل فکر سے نوازا ہے، جو ان کی سطر سطر سے چھلکتی ہے، زبان کی سلاست، ترکیبوں کی جزالت،معروضی لب و لہجہ، دلائل کی مضبوطی لیکن دھیما، دل میں اترنے والا پر اثر لہجہ اور انداز ان کی تحریروں کو نہ صرف خوبصورت بلکہ مؤثر بھی بناتا ہے، تحقیقی تحریروں میں منصفانہ تجزیہ، با ادب اپنی رائے پیش کرنے کا ہنر بھی اللہ نے انہیں خوب دیا ہے، اصلاحی اور دعوتی تحریروں میں دردمندی کا عنصر بھی قاری کو بہت واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔ اردو ہو یا عربی ان کا قلم خوبصورت گلکاری کرتا ہوا چلا جاتا ہے۔
رفیق مکرم کی دو نمایاں خصوصیات ہیں: ایک غایت درجہ تواضع اور منکسر المزاجی ہے، جو انہیں دوستوں ، بڑوں اور عام لوگوں کے دلوں میں بلندی عطا کرتی ہے کہ فرمان نبوی ہے: من تواضع للہ، رفعہ اللہ۔ دوسری خصوصیت علم کی نہ بجھنے والی پیاس ہے، جو کہ ایک اہل علم کی شان ہوتی ہے کہ علم میں جتنی وسعت و گہرائی آتی ہے، اپنی کم علمی کا احساس بڑھتا جاتا ہے، اللہ ان کی اس پیاس کو کبھی سیرابی سے آشنا نہ کرے
اکابر علماء اور دانشور تو بڑے لوگ ہیں، ہم تو ان کے تلامذہ اور ان کے علم و فکر کے خوشہ چیں ہیں، اپنے دوستوں اور عزیزوں میں جن چند لوگوں پر بہت رشک آتا ہے اور جن کا وجود اور کام ہمیشہ شوق کو مہمیز کرتا رہتا ہے، ان میں نمایاں نام لوح دل پر رفیق محترم مولانا خالد ضیاء صدیقی ندوی کا رہتا ہے۔اللہ ہماری محبتوں کو سدا قائم ودائم رکھے اور ہمیں ایک دوسرے کے لئےعلمی و فکری طور پر مفید بنائے، اور ہمیشہ اخلاص اور اعتدال کے ساتھ علمی و فکری خدمات سے وابستہ رکھے۔ وما توفيقي إلا بالله، عليه توكلت وإليه انيب.
************************************************
اب برادرم خالد ضیا ندوی کا رد عمل بھی دیکھیں!
یہ پرخـــلوص فضائیں کہاں ملیں گی حفیظ
اٹھانہ اہل محبت کے درمیاں سے مجھے
محب مخلص ومکرم مولانارضی الرحمن قاسمی کی اس تحریر نے یقینامیری آبروبڑھائی ہے:
کلاہ گوشۂ دہقاں بہ آفتاب رسید
لیکن سچی بات یہ ہے ان کی تحسین وستائش نے مجھے غرق ندامت کردیا....... جس طرح برادرم کومجھ نابکار سے تعارف سے آگے ربط واخلاص اور قرب ومحبت کارشتہ ہے، انھی تعلقات وجذبات کو میں اپنے اندربھی پاتاہوں ....... اسلامیہ کے گنے چنے چند وہ احباب جن کے علمی فضل وکمال، وسعت نظری، کشادہ ظرفی، اور مزاجی انکسار وطبعی تواضع کاقلب ونظر نے بڑااثر قبول کیا، ان میں برادرم بھی شامل ہیں ۔ـ برادرم کے علم میں پختگی، فکر میں بلندی، زبان میں ہوش مندی ہے،مزاج میں اعتدال، طبیعت میں تواضع، اسلوب میں سادگی وشیرینی اورلہجے میں گھلاوٹ ودل نشینی کاعنصرکافی مقدارمیں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں جاذبیت سے بڑھ کر محبوبیت ہے۔ یہ حقیر ہمیشہ سے اس بات کاقائل رہاہے کہ علم وفضل اگر کسی انسان کے اندر اخبات وانکسار کی جگہ کبرونخوت پیداکردے، تواسے سب کچھ توکہاجاسکتاہے؛ لیکن عالم نہیں، اس لیے اس حقیرکو وہ احباب بہت پسند ہیں جو علم وفضل میں شاخ ثمردارکی طرح جھکے ہوئے ہوں۔ ـ یہ حقیرخداکاشکراداکرتاہے کہ اسے بہت سے ایسے احباب ملے جو علم وفضل، فکروفن، زبان وادب، اعلی اخلاق اور بلندصفات کے حامل ہیں، جن کی علم آموز صحبتیں اور ادب نوازمحفلیں اس کے ذوق علم وادب کو جلابخشتی رہتی ہیں۔ ـ جس دور میں ہم جی رہے ہیں اسے تہذیبوں کے مدفن کادورکہاجاسکتا ہے، اخلاقی قدریں بری طرح پامال اورکتابی ہوتی جارہی ہیں، گویا:
بہت چـــــراغ نئے فکر نے جــلائے ہیں
مگر خلوص ووفاکے دیے بجھائے ہیں
ایسے میں خلوص ووفا اور صدق وصفا کی شمع اگر کوئی جلائے تو اس کی قدرکرنی چاہیے۔ برادرم رضی الرحمن کا بہ صمیم قلب مشکور ہوں کہ انھوں نے مجھ بے بضاعت کے حوالے سے اپنے خوبصورت احساسات وجذبات کااظہارفرمایا، اللہ تعالی ہم سبھوں کو اپنے دین متین کے شارح وترجمان کے طور پرقبول فرمائے، ہمارے اساتذہ کو بہترین صلہ عطافرمائے، اور ہم احباب کو ہمیشہ باہم (محبت وخلوص کے ساتھ) شیرشکررکھے، آمین ـ
ہیں جــــــــذب باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ، تاروں کی زندگی میں
ترتیب: شاہد وصی
جزاکم اللہ شاہد بھائی
جواب دیںحذف کریںہمارے شاہد وصی بھائی کی تیز نگاہ ابنائے اسلامیہ کی ہر چھوٹی سی چھوٹی تحریر اور کاموں پر رہتی ہے۔ وہ کسی بھی مناسب تحریر کی حوصلہ افزائی اور اس کو زندہ و جاوید بنانے میں ادنی تأمل نہیں کرتے ہیں، آپ کی کشادہ ظرفی کے تو ہم عرصہ سے اسیر ہیں۔
بہت بہت شکریہ
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
حذف کریںآپ جیسے باکمال احباب کی مجالست کا ہی اثر ہے
جواب دیںحذف کریںPokerStars Casino app review - JM Hub
جواب دیںحذف کریںPokerStars Casino app review. Discover how to install and play online poker games 밀양 출장안마 for 세종특별자치 출장안마 Real Money at the casino, where you 남양주 출장샵 can 대구광역 출장샵 play Rating: 4 · 1 review 세종특별자치 출장안마